وہ ایک اور بہت سےہم نے افراد کے مابین وائرس کا پھی…

وہ ایک اور بہت سے

ہم نے افراد کے مابین وائرس کا پھیلائو شمار کیا ہے، اب فرد کے اندر بھی گننے کی ضرورت ہے۔
تحریر : سدھارتا مکرجی (نیو یارک)
ترجمہ : سیّد سعید نقوی (نیو یارک)
فروری کے تیسرے ہفتے میں جب کہ چین میں کورونا وائرس کی وبا ابھی پھیل ہی رہی تھی کہ میں کلکتہ ، انڈیا پہنچا۔۔ میں ایک گرم صبح بیدار ہوا، میرے کمرے کے باہر کالی پتنگیں گرم ہوا کے دبائو سے اوپر چڑھ رہی تھیں۔میں شتالہ دیوی کے مندر کی یاترا کو نکل گیا۔روایت کے مطابق وہ قربان گاہ کی آتش کی سرد راکھ سے اٹھی تھی، لہذا شتالہ کہلائی " سرد والی"۔ اس کے فرائض میں نہ صرف وسط جون میں شہر میں اتری جھلستی گرمی کا اثر زائل کرنا ہے، بلکہ سوزش (انفیکشن) کی باطنی حرارت بھی۔اسے بچوں کو چیچک سے محفوظ رکھنا ہوتا ہے، جو اس میں مبتلا ہوجائیں ان کی تکلیف دور کرنا اور چیچک کی وبا کے پھیلائو کو کم کرنا۔
کلکتہ میڈیکل کالج سے چند بلاک دورمندر میں یہ ایک چھوٹی سی درگاہ تھی۔ اندر گدھے پر سوار دیوی کا مجسمہ تھا، ہاتھ میں ٹھنڈے مائع کا مرتبان لیے، بالکل جیسے ہزاروں سالوں سے اس کی تصویر کشی کی گئی ہے۔ خدمت گار نے مجھے بتایا کہ یہ ڈھائی سو سالہ پرانا مندر ہے۔ یہ وہی زمانہ تھا جب سب سے پہلے بر ہمنوں کا ایک پراسرار فرقہ سامنے آیا، جو وادئی گنگا کے پھیلائو میںٹیکہ لگانے کے عمل کو فروغ دینے میںمصروف تھے، بیماریوں سے بچائے کے ٹیکے لگانے کی اولین کوشش۔۔ اس عمل میں چیچک کے مریض کے چھالے سے مادہ نکال کر ، زندہ وائرس کا سانپ جتنا زہر اسے ایک غیر متاثرہ فرد کی جلد میں داخل کرتے، پھر اس جگہ کو کپڑے کے چیتھڑوں سے لپیٹ دیتے۔
ٹیکہ لگانے کے ہندوستانی محرکوںنے یہ عمل غالباً عربی طبیبوں سے سیکھا تھا، خود جنہوں نے چینیوں سے۔1100؁ میں ہی چین کے طبی ماہرین نے یہ اندازہ کرلیا تھا کہ جو ایک بار چیچک سے بچ نکلے اسے یہ بیماری دوبارہ نہیں ہوتی ( اس بیماری سے جانبر ہونے والوں کونئے مریضوں کی دیکھ بھال پر معمور کردیا جاتا)۔انہوں نے اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ جب جسم کا کسی بیماری سے سامنا ہوتو وہ مستقبل میں اسے دوبارہ اس بیماری کا شکار ہونے سے بچاتا ہے۔ چینی طبیب چیچک کی پپڑیاں پیس کر اس کا سفوف چاندی کی ایک لمبی نلکی کے ذریعے بچوں کے نتھنوں میں داخل کردیتے تھے۔
زندہ وائرس کا ٹیکہ ایک نازک عمل تھا۔ اگر سفوف میں وائرس کی مقدار بہت زیادہ ہوتی تو وہ بچہ اس مرض کا شدت سے شکار ہوجاتا ۔ یہ سانحہ تقریباً ایک فیصد ٹیکوں میں ہوتا ۔ اگر پورا عمل ٹھیک سے انجام پالیتا ، تو بچے کو معمولی سی بیماری ہوتی، لیکن پھر وہ باقی عمر کے لیے مدافعت (امیونٹی) پیدا کرلیتا۔۔ اٹھارویں صدی تک یہ طریقہ تمام عرب دنیا میں رائج ہوچکا تھا۔ 1760؁ کی دہائی میں سوڈان میں عورتیں اشترا الجدری ( چیچک کی خریداری ) کرتیں: ایک ماں دوسری ماں سے بھائو تائو کرتی کہ اس کے بیمار بچے کے کتنے پکے ہوئے چھالے وہ خود اپنی بیٹی یا بیٹے کے لیے خرید سکتی ہے۔ یہ ایک بہت ماہرانہ سودا ہوتا تھا: زیادہ ذہین، روایتی معا لجین ان چھالوں کو شناخت کرتے جن سے کافی وائرس کا مادہ مل جاتا ، لیکن بہت زیادہ بھی نہیں ۔ اس بیماری کا یورپی نام ویریولا (Variola) لاطینی سے مستعار ہے ، جس کے معنی ہیں چتکبرا یا مہاسوں بھرا۔ اس چیچک کے خلاف ٹیکوں کے عمل کو ویریولیشن کہتے تھے۔
1715؁ میں قسطنطنیہ میں برطانوی سفیر کی بیوی لیڈی میری ورٹلی مونٹاگو خود بھی بیماری کا شکار ہوگئی، اس کی خوبصورت جلد داغدار ہوگئی۔پھر اس نے ترکی کے مضافات میں ویریولیشن کا عمل دیکھا، تو اس نے اپنے دوستوں کو اور ایک ماہر امراض کو اپنے تحیر سے بھرا خط لکھ کر آگاہ کیا۔" ایک بوڑھی عورت بہترین قسم کی چیچک کا مادہ کسی گری دار میوے کے خول میں بھر کے لاتی ہے اور آپ سے پوچھتی ہے کہ آپ کون سی شریان میں فصد لگوانا پسند کریں گے۔ اس کے بعد وہ اپنی سوئی میں جتنا زیادہ مواد اٹھاسکے، شریان میں داخل کردیتی ہے۔" یہ مریض معمولی بخار کے ساتھ چند دن کے لیے بستر سے لگ جاتے ہیں"، اور لیڈی مونٹاگو نے نوٹ کیا کہ" وہ بنا ضرر صحتیاب ہوجاتے ہیں۔ان کے چہروں پر شاذ ہی بیس یا تیس سے زیادہ دانے نکلتے ہیں، جو کبھی داغ نہیں چھوڑتے، اور آٹھ دنوں میں وہ ویسے ہی اچھے ہوجاتے ہیں جیسے بیماری سے پہلے تھے"۔اس نے لکھا کہ" ہزاروں بچے ہر سال بحفاظت اس عمل سے گزرتے ہیں، اور اس خطے میں اس بیماری پر تقریباً قابو پایا جاچکا ہے۔آپ کہہ سکتے ہیں کہ میں اس تجربے کے بے ضرر ہونے سے بہت مطمئن ہوں، کیوں کہ میں اسے اپنے پیارے چھوٹے بیٹے پر آزما رہی ہوں"۔ اس کے بیٹے کو کبھی چیچک نہیں ہوئی۔
لیڈی مونٹاگو کے ٹیکوں کے موثر ہونے پر تحیر کے بعدکی صدیوں میں ہم نے حیاتیات اور متعدی بیماریوں کی وبائیات میں غیر معمولی دریافتیں کی ہیں،پھر بھی کورونا کی وبا معموں سے پر ہے۔ ووہان میں اپنی ابتدا سے ہزاروں میل دور یہ اٹلی میں جنگل کی آگ کی طرح کیوں پھیل گیا۔، جب کہ لگتا ہے کہ بیشتر انڈیا اب تک اس سے محفوظ ہے۔اس مرض کے حیوانات سے انسانوں میںمنتقلی کی کون سی جانوروں کی اسپیسی ذمہ دار ہے۔لیکن تین اہم سوالات فوری توجہ کے طالب ہیں، کیوں کہ ان کے جوابات سے ہم مریضوں کو تنہا کردینے، علاج کرنے اور منظم ہونے کے قابل ہوسکیں گے۔پہلا سوال تو یہ کہ ہم مرض کی ابتدا میں وائرس کی مقدار اور علامات کے گراف (dose response curve) سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟ یعنی کیا ہم یہ عددی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ جب لوگ وائرس کی زیادہ مقدار کا سامنا کریں تو کیا ان میں بیماری کا امکان بڑھ جاتا ہے؟ دوسرے یہ کہ کیا وائرس کی ابتدائی مقدار اور بیماری کی شدت میں کوئی رشتہ ہے، یعنی کیا زیادہ وائرس کے دخول سے زیادہ شدید بیماری لاحق ہوتی ہے؟ تیسرے یہ کہ کیامریضوں میں وائرس کی مقدار ان کی بیماری کے عروج و زوال کے دوران ان کے متعدی ہونے کے امکانات طے کرسکتی ہے؟ ابھی تک ہم نے عالمی کورونا وبا کے ابتدائی ایام میں افراد کے مابین اس کے پھیلائو کا مطالعہ کیا ہے۔اس وبا کی رفتار میں اضافے کے ساتھ ہی اب ہمارے لیے فرد کے اندر ہی اس وائرس کی پیمائش کا مطالعہ بھی ضروری ہے۔
اعداد و شمار کی کمی کی وجہ سے بیشتر ماہرین وبائیات اس پر مجبور ہیںکہ نئے کورونا وائرس کے پھیلائو کا فرضی نقشہ بنائیں، جیسے وہ کوئی جوڑے دار( بائنری) عمل ہو: افراد یا تو اس سے متاثر ہوں گے یا نہیں ہوں گے، علامات ظاہر ہوں گی یا وہ بنا علامت وائرس کے حامل ہوں گے۔حال ہی میں واشنگٹن پوسٹ نے آن لائن ایک بہت دلچسپ عکس شائع کیا ہے، جس میں کسی شہر کی آبادی کو ایک خلا میں نقاط کی مانند آزادانہ گردش کرتے دکھایا ہے۔غیر متاثرہ نقاط بھورے اور وائرس سے متاثرہ سرخ رنگ کے ہیں ( اور جب وہ مدافعت پیدا کرلیتے تو گلابی ہوجاتے )۔ جب بھی کوئی سرخ نقطہ کسی بھورے نقطے سے ٹکراتا تو مرض منتقل ہوجاتا ۔ کسی مداخلت کی عدم موجودگی میں نقاط کا مکمل میدان بھورے سے سرخ میں بدل گیا۔ سماجی فاصلہ رکھنے اور تنہائی سے یہ نقاط ایک دوسرے سے ٹکرانے سے باز رہتے، اوراسکرین پر سرخ نقاط کا پھیلائو سست ہوجاتا ہے۔
یہ کسی آبادی میں وائرس کے پھیلائو کا ایک عمومی جائزہ تھا۔ میرے اندر موجود ڈاکٹر اور طبی محقق۔۔۔اپنی گریجویشن کے دوران میری وائرس سے مدافعت کے موضوع پر تربیت ہوئی تھی۔۔۔یہ جاننا چاہتا تھا کہ ان نقاط کے اندر کیا ہورہا ہے؟ اس سرخ نقطے کے اندر کتنے وائرس تھے؟ اس نقطے میں وہ وائرس اپنی آبادی کتنی تیزی سے بڑھا رہا تھا؟ سرخ نقطے سے لمحہ لمس اور وائرس کی منتقلی میں کیا رشتہ تھا؟ ایک سرخ نقطہ کتنے عرصے تک سرخ رہتا ہے؟ یعنی وقت کے ساتھ کسی فرد کا متعدی ہونا کیسے تبدیل ہوتا ہے؟ اور ہر مریض میں مرض کی شدت کتنی ہے؟
دوسرے وائرسوں کے متعلق ہماری معلومات ۔۔۔ جن میں ایڈز، سارس (SARS) اور چیچک کے وائرس شامل ہیں۔۔۔ہمیں مرض، اس کے پھیلائو کی رفتار اور اس کے سدباب کی ایک پیچیدہ تصویر دکھاتے ہیں۔1990؁ کی دہائی میں جب محققین نے کسی مریض کے خون میں ایچ آئی وی وائرس کی مقدار معلوم کرنا سیکھ لیا تو ایک منفرد نمونہ سامنے آیا۔انفکشن ہونے کے بعد وائرس کی تعداد اپنی ممکنہ انتہائی بلندی پر پہنچ جاتی (بلند ترین وائریمیا)۔ وہ مریض جن میں یہ سطح سب سے زیادہ بلند ہوتی، جلدی بیمار پڑ جاتے اور ان میں وائرس سے مدافعت کی قوت بھی سب سے کم تھی۔اس بلند ترین سطح سے بھی زیادہ درست پیشن گوئی اس کا سیٹ پوائنٹ تھا، یعنی وہ سطح جو وائرس اونچی ترین سطح کے بعد اختیار کرتا۔ یہ وائرس اور اس کے انسانی میزبان کے درمیان ایک متحرک توازن ظاہر کرتا۔ وہ لوگ جن کا سیٹ پوائنٹ زیادہ بلند ہوتا، ان میں ایڈز کا مرض زیادہ تیزی سے نمودار ہوتا۔ وہ افراد جن میں سیٹ پوائنٹ نسبتاً نیچے ہوتا ان میں ایڈز کا مرض نسبتاً آہستہ رو ہوتا۔کسی جوڑی دار شماریات کے بجائے وائرس کی مقدار کا تسلسل بیماری کی فطرت، دورانیہ اور متعدی ہونے کی قدرت متعین کرتا۔ یقیناً ہر وائرس کی اپنی منفرد شخصیت ہوتی ہے، اور ایچ آئی وی میں ایسی خصوصیت تھی کہ جس کی وجہ سے اس وائرس کی مقدار بہت اہم تھی: یہ دائمی انفکشن کا باعث ہوتا ہے اور یہ ایسا وائرس ہے جو جسم کے مدافعتی نظام کے خلیوں کو نشانہ بناتا ہے۔ پھر بھی، دوسرے وائرسوں میں بھی ایسے نمونے دیکھے گئے ہیں۔
مدافعت کے نکتہ نظر سے یہ کوئی حیرت کی بات نہیں۔ اگر آپ کا نظام مدافعت موثر انداز سے وائرس کی تولیدی رفتار سے لڑسکتا ہے، آپ کی عمر، جینیات اور مدافعتی نظام کے دوسرے عوامل کی بنا پر آپ کا سیٹ پوائنٹ نیچا ہوسکتا ہے۔ کیا ابتدا میں کم مقدار میں وائرس کا دخول، جیسے بچوں میں ٹیکے کے ذریعے، بھی سیٹ پوائنٹ کو نیچا رکھ سکتا ہے؟ ایک کمتر خطرے کا سامنا کرنے پر مدافعانہ نظام کے لیے اس جرثومے پر قابو پالینے کا امکان زیادہ ہوگا۔ دوسری جانب اگر آپ بار بار وائرس کی بڑی تعداد سے متاثر ہوں، تو یہ حملہ آور تیزی سے حاوی ہوجائے گا، اور آپ کے مدافعتی نظام کے لیے مقابلہ کرنا دشوار ہوگا۔
سیاٹل میں واقع فریڈ ہچی سن سرطان پر تحقیق کے ادارے نے وائرس کی تعداد اور انسانوں میں اس کی متعد ی قوت پر ایک اچھی تحقیق کی ہے۔ 2018؁ میں ایک ماہر وبائیات و شماریات مائیر نے ڈاکٹروں اور حیاتیات دانوں کے ایک گروہ کے ساتھ مل کرایک مسئلے پر تحقیق کی جو بہت پیچیدہ لگتا تھا۔ مائیر عمر کی چوتھی دہائی کے وسط میں ، ایک نرم گفتار اور دو ٹوک بات کرنے والا ، بہت احتیاط سے الفاظ چنتا، اور طویل دھیمے فقروں میں ادا کرتا۔" میں گریجوٹ اسکول کے دوران بھی کسی وائرس یا جرثومے کی دخول کی تعداد میں دلچسپی رکھتا تھا" اس نے مجھے بتایا۔" لیکن مشکل یہ ہے کہ ابتدائی تعداد کا اندازہ کرنا اکثر بہت دشوار ہوتا ہے، کیوں کہ آپ کو کسی فرد کے انفکشن کا تو اس وقت پتہ چلتا ہے جب اسے یہ بیماری لگ چکی ہوتی ہے"۔ بیشتر متعدی امراض کو صرف عقبی شیشے میںہی دیکھا جاسکتا ہے۔ جب تک وہ مریض، مریض بنتا ہے ، جرثومے کے دخول کا ضروری لمحہ تو گزر چکا ہوتا ہے۔
لیکن محققین کو ایک غیر معمولی وسیلہ دستیاب ہوگیا: نئی مائوں اور ان کے بچوں کا کمپالا ، یوگنڈا میں ایک گروہ۔ چند سال پہلے ایک ماہر امراض اطفال سوزن گینٹ اور طبیبوں کی ایک ٹیم نے ان عورتوں کا معائنہ کرکے ان سے ایک سال تک ان کے دہن سے کوچی پھیرنے کا ایک نمونہ مانگا تھا۔ پھر انہوں نے گنا کہ یہ عورتیں ایچ ایچ وی6نامی ایک وائرس کتنی تعداد میں اپنے دہن میں خارج کرتی ہیں، جو عموماً پیدائش کے بعد لعاب دہن کے راستے نوزائیدہ کو منتقل ہوتا ہے۔اس سے بخار اور پورے جسم پر سرخ دھبے نمودار ہوجاتے ہیں۔ اب یہ تحقیق کرنا ممکن تھا کہ دہن میں وائرس کے اخراج کی تعداد نوزائیدہ کے بیمار ہونے میں کیا کردار ادا کرتی ہے۔گینٹ ، مائیر اور ان کے ساتھیوں نے انسانی وائرس انفکشن کی منتقلی کا ابتدا ہی سے جائزہ لینے کا ایک طریقہ ڈھونڈ لیا تھا۔" ہمارے اعداد و شمار سے اس بات کی تصدیق ہوگئی کہ ایچ ایچ وی 6 کی منتقلی میں تعداد اور بیماری کے درمیان ایک نسبت ہے" مائیر نے مجھے بتایا۔" جتنا زیادہ وائرس آپ خارج کررہے ہوں گے، اتنا ہی زیادہ امکان ہے کہ آپ یہ مرض دوسروں کو بھی لگا دیں گے"، اس نے وبائیات کے عقبی شیشے کا رخ بدل دیا تھا۔
لیکن منتقلی اور بیماری کا ایک اور پہلو بھی ہے؛ میزبان کی مدافعتی قوت۔ وائرس کا حملہ اور مدافعتی نظام، ہمیشہ دو مقابل قوتیں ہوتی ہیں جن کی کبھی آپس میں نہیں بنتی۔بیسویں صدی کے اوائل میں روسی ماہر مدافعت ایلیا مچ نیکوف نے اسے" جدوجہد"، یا اپنی جرمن رپورٹوں میں" کیمپف" سے تعبیر کیا تھا۔مچ نیکوف جرثومے اور دفاعی قوتوں کے درمیان ایک جاری جنگ دیکھتا ہے۔ کیمپف کا دارومدار میدان مار لینے یا جنگ ہار دینے پر تھا۔ جرثومے کی موجودگی کی کل تعداد کیا تھی؟ اس جرثومی حملے کے میزبان کے کون سے دفاعی عوامل؛ جینیات، گزشتہ واسطہ، بنیادی مدافعتی اہلیت اس حملے کو محدود کررہے تھے؟ اور پھر یہ کہ ابتدائی توازن کس کے حق میں تھا، وائرس کے یا میزبان جسم کے؟
اس سے ایک دوسرا سوال پیدا ہوتا ہے۔کیا وائرس کی بڑی تعداد میں دخول سے زیادہ سخت بیماری پیدا ہوتی ہے؟ لی وینلیانگ، وہ چینی ماہر امراض چشم ، جس نے سب سے پہلے کورونا وائرس کے خطرے کی گھنٹی بجائی تھی، اس کا چہرہ یاد سے محو کرنا مشکل ہے۔ موت سے ذرا پہلے کی تصویر میں اس کا پسینے میں شرابورسرخ چہرہ، ایک ماسک سے سانس لینے کی جدوجہد میں مصروف، اور پھر ژیا سیسی کی غیر متوقع موت، ووہان کے یونین جیاں بی ہسپتال کی انیس سالہ ڈاکٹر جو ایک دو سالہ بچے کی ماں تھی، اور تیز مرچوں والے سیشواں کی شوقین۔ چینی صحت عامہ کی ایک اور ملازمہ ، ووہا ن کی ایک انیس سالہ نرس، اتنی شدید بیمار ہوئی کہ اسے ہذیان ہونے لگا، اس نے بعد میں بتایا کہ وہ جیسے" موت کے کنارے" چل رہی تھی۔
کورونا وائرس کے بیس ، تیس سالہ مریض تو عموماًایک خود ہی ختم ہوجانے والے فلو جیسے مرض کا شکار ہوتے ہیں۔ تو کیا ان کی بیماری کی یہ شدت وائرس کی اس تعداد سے نسبت رکھتی تھی جس کا انہیں ابتدا میں سامنا ہوا۔ امریکہ میں بھی کم از کم دو ایمر جینسی روم کے ڈاکٹر جو اس وبا کے اگلے محاز پر لڑ رہے تھے، ریاست واشنگٹن میں شدید بیمار ہوگئے، ان میں سے ایک کی عمر تقریباً چالیس کے قریب ہے۔ووہان اور اٹلی کے اعداد و شمار کے مطابق شعبہ صحت کے کارکنوں میں شرح اموات لازماً زیادہ نہیں ہے، لیکن وہ بیماری کی نسبتاً شدید قسم میں مبتلا ہوتے ہیں۔ بیلر کالج برائے طب کے متعدی امراض کے ماہر اور ٹیکوں کے سائنس دان پیٹر ہوٹیز نے سی این این کو بتایا کہ" ہم بوڑھوں میں بلند شرح اموات سے واقف ہیں، لیکن کسی وجہ سے جس سے ہم لاعلم ہیں، صف اول میں کھڑے طبی شعبے کے اراکین اپنی کم عمری کے باوجود شدید بیماری کے خطرے سے زیادہ دوچار ہیں"۔
دوسرے وائرسوں پر تحقیق سے کچھ روشنی پڑتی ہے۔ انفلوئینزا کی جانوروں پر تحقیق میں وائرس کی درست مقدار معلوم کرنا ممکن ہے۔ وہ چوہے جن میں انفلوئینزا وائرس کی کچھ اقسام کی زیادہ تعداد داخل کی جاتی ہے زیادہ شدید بیماری کا شکار ہوتے ہیں۔ پھر بھی، وائرس کی دخول کی تعداد اور بیماری کی شدت میں نسبت ایک فلو وائرس کی قسم سے دوسری قسم میں بہت مختلف تھی۔اچھنبے کی بات یہ ہے کہ ایک تحقیق میں آر ایس وی کی زیادہ ابتدائی تعداد، جو بالخصوص بچوں میں نمونیا کا باعث ہوتا ہے، اس میں بیماری کی شدت سے نسبت متضاد تھی۔ اگرچہ ایک اور تحقیق نے یہ دکھایا کہ بہت چھوٹے بچوں میں یہ نسبت مثبت ہی تھی ( وہ عمر جس میں اس بیماری کے سب سے زیادہ مریض ہوتے ہیں)۔
جو تھوڑے بہت اعداد و شمار مہیا ہیں ان سے یہ پتہ چلتا ہے کہ کورونا وائرس بھی فلو وائرس ہی کے نقش و قدم پر چلتا ہے۔ 2004؁ میں سارس ( SARS) کرنے والی کورونا کی قسم پر ایک تحقیق میں، جو کہ موجودہ کورونا وائرس ( COVID-19) کا ایک کزن ہے، ہانگ کانگ کی ایک ٹیم نے یہ دریافت کیا تھا، کہ ناک کے پچھلے حصہ سے( جو آپ کے حلق کے قریب ہوتا ہے) حاصل ہونے والی وائرس کی ابتدائی تعداد مرض کی شدت سے نسبت رکھتی ہے۔سارس کے وہ تمام مریض جو ابتدا میں اپنی ناک میں وائرس کی بہت کم تعدادیا غیر موجود تعداد رکھتے تھے، وہ سب دو ماہ بعد بھی زندہ تھے۔ جن میں تعداد سب سے زیادہ تھی، ان میں سے بیس سے چالیس فیصد ہلاک ہوگئے تھے۔ یہ نسبت مریض کی عمر یا دوسری بیماریوں کی موجودگی سے لاتعلق تھی۔ ایک اور وائرس بیماری کریمین کانگو ہیموریجک فیور ( Crimean Congo Hemorrhagic Fever) پر تحقیق بھی اسی نتیجے پر پہنچی تھی: جتنی بڑی تعداد میں وائرس آپ پر حملہ آور ہو گا، موت کے امکانات بھی اتنے ہی زیادہ ہیں۔
وائرس کی ابتدائی تعداد اور بیماری کی شدت کی سب سے مضبوط نسبت شاید خسرہ میں ملتی ہے۔" میں یہ واضح کردینا چاہتا ہوں کہ خسرہ اور کورونا دو بہت مختلف امراض ہیں، جو مختلف وائرسوں سے ہوتے ہیں اور مختلف رویوں کے حامل ہیں" جامعہ ایراسمس روٹر ڈیم کے رک ڈی سوارٹ نے مجھے گفتگو کی ابتدا میں ہی خبر دار کیا۔" لیکن، خسرہ میں بہت واضح شواہد ملتے ہیں کہ بیماری کی شدت کا تعلق وائرس کی تعداد سے ہے۔ مدافعتی نکتہ نظر سے یہ بات سمجھ میں بھی آتی ہے، کیوں کہ وائرس اور مدافعتی نظام کے درمیان معاملہ وقت کے لیے دوڑ کا ہے۔یہ دوڑ کہ وائرس مناسب تعداد میں نشانہ خلیات تلاش کرکے خود اپنی تعداد میں اضافہ کرسکے یا مدافعتی نظام اس وائرس کا اس سے پہلے ہی خاتمہ کردے۔ اگر وائرس کو ابتدا میں ہی بڑی تعداد میں دخول کا فائدہ مل جائے، تو خون میں زیادہ وائرس شامل ہوکر تیزی سے بڑھتے ہیں، شدید انفکشن اور شدید بیماری کا سبب بنتے ہیں"۔
اس نے 1994؁ کی ایک تحقیق بیان کی، جس میں محققین نے بندروں کو خسرہ کے وائرس کی مختلف مقدار دی تھیں، اور یہ دریافت کیا تھا کہ زیادہ ابتدائی تعداد سے خون میں یہ وائرس جلد نمودار ہوتے ہیں۔ ڈی سوارٹ نے مزید بتایا "کہ انسانوں میں اس کا بہترین ثبوت افریقی صحارا کے جنوبی علاقوں سے ملتا ہے۔ اگر آپ کو کسی گھر والے سے خسرہ لگے، جہاں وائرس کے بڑی تعداد میں دخول کا امکان ہے۔۔مثلاً آپ بیمار بچے کے ساتھ بستر میں لیٹے ہوں۔۔تو عموماً آپ کو زیادہ شدید بیماری کا امکان ہے " وہ مزید بولا ـ"مگر اگر کسی بچے کو بیماری کھیل کے میدان یا کسی دوست سے لگی ہو تو وہ اتنی شدید نہیں ہوتی۔ "
بیماری کے اس رویے کے بارے میں ، میں نے ہاورڈ کے وائرس اور مدافعت کے ماہر ڈان بروچ سے ذکر کیا، جس کی تجربہ گاہ سارس کووی 2 نامی وائرس کے خلاف ٹیکے تیار کررہی ہے (حالیہ کورونا وائرس جو کوودڈ 19 کا ذمہ دار ہے)۔ اس نے بتایا کہ مکاک ( ایک قسم کا بندر ،macaque ) پر موجودہ تحقیقات کورونا وائرس کی ابتدائی دخول کی مقدار اور بعد میں پھیپھڑوں کی رطوبت میںنمودار ہونے والے وائرس کی تعداد میں نسبت تلاش کررہی ہے۔اس کا خیال ہے کہ ان کے درمیان ایک نسبت موجود ہے۔ منطقی طور پر تو ابتدائی وائرس کی زیادہ تعداد ، زیادہ سوزش پیدا کرکے زیادہ شدید بیماری کا باعث بن سکتی ہے۔ لیکن اب تک یہ صرف مفروضہ ہے۔ابتدائی مقدار اور شدت کے درمیان نسبت ہنوز نامعلوم ہے۔
اس تیسرے سوال کا جواب تلاش کرنے کے لیے کہ کیا کورونا وائرس کی مقدار کا ایسے تعاقب کیا جاسکتا ہے کہ جس سے ہمیں مرض کی فطرت سمجھنے میں مدد ملے، ہمیں مریضوں میں اس وائرس پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔ ایک غیر شائع شدہ جرمن تحقیق نے علامات کے حامل اور بنا علامات ، دونوں قسم کے مریضوں کے منہ میں کوچی پھیر کے وائرس کی تعداد معلوم کی ہے۔ابتدا میں بتایا گیا تھا کہ بنا علامات کے افراد میں وائرس کی زیادہ مقدار پائی گئی ہے۔یہ نتائج تعجب خیز تھے۔ لیکن اس وقت تک صرف سات مریضوں پر ہی تحقیق کی گئی تھی۔ فرینکفرٹ میں طبی وائرولوجی کے ادارے کی ڈائرکٹر سینڈرا سیرک، جہاں یہ تحقیق ہورہی ہے، اس نے مجھے بتا یا کہ جب مریضوں کی بڑی تعداد کو شامل کیا گیا تو دونوں گروہوں میں کوئی فرق نہیں تھا۔" کوچی کے امتحان سے ہمیں کوئی نسبت نہیں ملی "اس نے بتایا۔کوچی میں وائرس کی مقدار ناپنے میں دشواری یہ ہے کہ" یہ امتحان سے بھی پہلے کے عوامل، مثلاً کوچی کے طریقوں سے متاثر ہوتا ہے"۔یہ تو سب ہی جانتے ہیں کہ منہ میں کوچی پھیرنے کے طریقوں میں معمولی تبدیلی سے نتائج بدل جاتے ہیں۔ "لیکن خون میں وائرس کی تعداد سے بیماری کی شدت میں نسبت درست ہوسکتی ہیـ" ۔ فریڈ ہچی سن سینٹرمیں وائرس کے ایک ماہر اور ایچ ایچ وی 6 کی رپورٹ کے معاون لکھاری جوشوا شیفر کا کہنا ہے کہ بہت محتاط طریقوں سے کوچیوں سے حاصل سانس کے مختلف وائرسوں نے قابل بھروسہ وائرس کی تعداد پیش کی ہیں، اور عمومی طور پر یہ تعداد بیماری کی شدت اور تسلسل سے مناسبت رکھتی ہے۔ لانسٹ کے متعدی بیماریوں پر رسالے نے مارچ میںجامعہ ہانگ کانگ اور جامعہ نان چنگ کی ایک تحقیق آن لائن شائع کی ہے، جس نے بتایا ہے کہ ناک کی کوچیوں میں وائرس کی تعداد کورونا کے شدید مرض والے افراد میں، ہلکے مرض والے افراد سے اوسطاً ساٹھ گنا زیادہ تھی۔
جب یہ وائرس طوفان کی مانند دنیا بھر میں پھیلے گا، تو ہمیں عددی جوابات ملنے لگیں گے، کہ ابتدائی دخول کی کم تعداد ، اس کے بعد جسم میں وائرس کی تعداد کا کورونا کی بیماری سے کیا رشتہ ہے۔ پھر ہم بادی النظر کو قریبی نظر سے بدل دیں گے۔ یہ معلومات مریضوں، ہسپتالوں اور آبادی کے نظام پر کیسے اثر انداز ہوگی؟
دخول کی مقدار اور بیماری کی شدت میں نسبت سے ابتدا کیجیے۔ ایک لمحے کے لیے یاد کیجیے کہ ہم تابکاری پر کام کرنے والوں کی کیسے نگرانی کرتے ہیں۔ تابکاری ناپنے کے آلے استعمال کرکے ہم فرد میں تابکاری کی مقدار ناپتے ہیں، اور اس کی حدود متعین کرتے ہیں۔ ہمیں معلوم ہی ہے کہ بچائو کے لباس (ماسک، دستانے اور گائون) کے استعمال سے ہم ڈاکٹروں اور نرسوں میں کورونا وائرس کی تعداد محدود کرسکتے ہیں۔ لیکن صحت کے شعبے کے کارکنوں کے لیے جو اس وبا کا صف اول میں سامنا کرہے ہیں،بالخصوص ان جگہوں پر جہاں حفاظتی لباس کمیاب ہیں، ہم وائرس کی مقدار کا تعین کرسکتے ہیں، وائرس کی مقدار کی حدود متعین کرسکتے ہیں تاکہ کوئی فرد بار بار متعدی مریضوں کا سامنا نہ کرے۔
تعداد اور شدت کے درمیان نسبت معلوم کرنے سے علاج میں فرق پڑتا ہے۔اگر ہم بغیر علامتوں کے ایسے مریض تلاش کرلیں، جنہیں وائرس کی بڑی تعداد کی دخول کا سامنا کرنا پڑا ہو۔۔کوئی فرد جو خاندان میں کئی بیمار افراد کے ساتھ رہا ہو، یا ملتا رہا ہو ( جیسے فری ہولڈ ، نیو جرسی میں فسکو خاندان، جو آپس میں بہت قریب تھے، ان میں چار اموات ہوئیں)، یا کوئی نرس جو بہت سے ایسے مریضوں کی دیکھ بھال کرہی ہو جو بڑی تعداد میں وائرس خارج کرہے ہوں۔۔۔ان میں ہم زیادہ شدید مرض کی پیشن گوئی کرسکتے ہیں، جب محدود طبی وسائل کے استعمال کا وقت آئے تو انہیں اولیت دیں تاکہ ان کا علاج پہلے، زیادہ تیزی سے یا زیادہ توجہ سے ہوسکے۔
اور آخر میں اگر ہم جسم میں وائرس کی تعداد کے سفر کا تعاقب کریں، تو کورونا کے مریضوں کی دیکھ بھال میں فرق پڑسکتا ہے۔ یہ تعداد اکثر سستے اور باآسانی مہیا طریقوں سے ممکن ہے۔ دو مراحل پر مبنی ایک عمل فرض کیجیے: پہلے تو کسی مریض کو شناخت کرکے اس کی ناک یا سانس کی نالیوں میں وائرس کی تعداد معلوم کرنا، ایسے مریض جنہیں انتہائی نگہداشت کی ضرورت ہو۔ پھر وائرس کی تعداد کو معالجے کے طریقوں اور نتائج سے مناسبت دے کر، علاج کی اور مریض کو الگ رکھنے کی مختلف تدابیر وضع کی جاسکتی ہیں۔
اس عددی طریقے کو طبی تحقیقات میں بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔تجربوں میں دوائوں کی آزمائش عموماً ایسے مریضوں پر کی جاتی ہے جو ابھی شدید بیمار نہ ہوئے ہوں، کیوں کہ اس مقام پر پہنچ جانے کے بعد تو ممکن ہے کہ کوئی بھی دوا ناکافی اور تاخیر سے پہنچے۔اور اگر محض علامات پر بھروسہ کرنے کے بجائے، ان مریضوں میں وائرس کی تعداد سے مرض کی پیچیدگی کا جائزہ لیا جائے، تو مختلف دوائوں کی آزمائش کا زیادہ آسان اور درست طریقے سے موازنہ کیا جاسکتا ہے۔
ہمیں ایسے افراد کو تلاش کرنے کی بھی ضرورت ہے جو بیماری سے صحت یاب ہوچکے ہوں۔ جن میں کورونا کے خلاف مدافعت پیدا ہوچکی ہو ، اور جو اب متعدی نہ رہے ہوں۔ایسے افراد کے لیے دو معیاروں پر پورا اترنا ضروری ہے: ان میں وائرس کے اخراج کی تعداد صفر ہو، اور ان کے خون میں مدافعت کا ثبوت موجود ہو ( یہ بات اینٹی باڈی ٹیسٹ سے با آسانی معلوم ہوسکتی ہے)۔ جیسا کہ بارھویں صدی میں چینیوں نے چیچک کے بارے میں دریافت کیا تھا۔ ایسے افراد۔۔بالخصوص صحت کے کارکن۔۔طب کے لیے بہت اہم ہیں: اگر ان کی مدافعت کمزور نہ ہوجائے تو وہ شدید بیمار مریضوں کا خود بیمار ہوئے بغیر علاج کرسکتے ہیں۔
میری طبی مہارت کا شعبہ سرطان ہے۔ میرے طبی شعبے میں گنتی اور ناپ تول بنیادی ضروریات ہیں: رسولی کا سائز، سرطان کتنی جگہوں پر پھیلا ہے، علاج کے بعد وہ کتنا سکڑا ہے؟ ہم خطروں کی درجہ بندی کرتے ہیں (مریضوں کو ان کی صحت کے اعتبار سے مختلف گروہوں میں رکھتے ہیں)، اور فوائد کی بھی گروہ بندی کرتے ہیں (علاج سے فائدے کے اعتبار سے مریضوں کی گروہ بندی)۔ میں ہر مریض کے ساتھ تقریباً نصف گھنٹا بیٹھ کراسے بیماری کی تفصیل سے آگاہ کرتا ہوں، یہ سمجھاتا ہوں کہ سرطان ختم ہونے کے بعد دوبارہ نمودار ہونے کا وقفہ کیسے ناپتے ہیں، اور احتیاط سے اس کے لیے علاج تجویز کرتا ہوں۔
ایک عالمی وبا خوف کے ساتھ سائے کی مانند چلتی ہے، اور افرا تفری راج کرتی ہے۔ ایک اطالوی ڈاکٹر براہ راست شریانوں میں دی جانے والی دوا عارضی کھمبوں سے ٹانگتے ہیں، ان کے مریض عارضی بستروں پر ، عارضی وارڈ میںلیٹے ہیں۔ ان حالات میں وائرس کی تعداد کی پیمائش کا کس کے پاس دماغ ہے۔ لیکن یہ بحران اس بات کا متقاضی ہے کہ ہم خطرے کا جائزہ لے کر اس کی درجہ بندی کریں، اور کم ہوتے وسائل کو موثر ترین طریقے سے استعمال کریں۔
یہ لفظ وبائیات یعنی ایپی ڈیمیالوجی (Epidemiology)، ایپی (Epi) اور ڈیموس (Demos) سے مل کر بنا ہے، یعنی افراد سے بالا۔یہ جمع کی سائنس ہے، زیادہ کی سائنس۔ پھر بھی یہ اس وقت سب سے زیادہ مفید ہوتی ہے جب یہ طب کے ساتھ قدم ملا کر چلے، جو محض واحد کی سائنس ہے جس صبح میں کلکتہ میں شتالہ دیوی کی درگاہ پر گیا تھا، تو گزشتہ انسان کش وبائوں کی یہ دیوی اس وقت ایک ماں کی ذاتی دیوی بھی بنی ہوئی تھی، جو اپنے ایک ہفتے سے بخار میں مبتلا بچے کو وہاں لائی تھی۔ کورونا کے خلاف کیمپف میں فتح کے لیے یہ لازم ہے کہ ہم آبادی میں وائرس کے پھیلنے کے طریقے کا تعاقب کریں، لیکن یہ بھی اتنا ہی ضروری ہے کہ ہم ہر ایک مریض کے اندر بھی اس کے سفر کا مطالعہ کریں۔ ایک سے بہت بنتے ہیں۔ دونوں کو شمار کیجیے، دونوں قابل شمار ہیں۔
نیویارکر
۶ اپریل ۲۰۲۰؁
For Original Text:
https://www.newyorker.com/magazine/2020/04/06/how-does-the-coronavirus-behave-inside-a-patient
نوٹ:

سیّد سعید نقوی نے اس مضمون کے مصنف سدھارتا مکرجی کی ایک کتاب The Gene: An Intimate History کا اردو ترجمہ بعنوان "جنیات کی اَن کہی تاریخ" کر چکے ہیں۔ جسے الحمد پبلیشر، لاہور نے شائع کیا ہے۔

— with Saeed A Syed.

بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2731288087101707

جواب چھوڑیں