شاعر کی لرزتی ہوئی پلکوں سے جو ٹپکا اس بیش بہا مو…

شاعر کی لرزتی ہوئی پلکوں سے جو ٹپکا
اس بیش بہا موتی کا ساحل تھا نہ بازار

میاں محمد حسن لطیفی کی وفات
May 23, 1959

آج معروف شاعر اور شاطو پریس کے مالک م حسن لطیفی کی برسی ہے۔

م حسن لطیفی ۔ نام محمد حسن ۔ ولادت 11 دسمبر 1905ء لدھیانہ ۔ پاکستان آمد ستمبر 1947ء شاطو پریس لدھیانہ کے مالک تھے وفات 23 مئی 1959ء لاہور

م حسن لطیفی، قبرستان میانی صاحب میں آسودہ خاک ہیں۔ وہ لدھیانہ سے تعلق رکھتے تھے۔ یوں تو کئی ادیبوں نے ان کی پہلو دار شخصیت پر لکھا ہے جن میں جناب اے حمید نمایاں ہیں لیکن چند برس قبل شائع ہونے والی اردو کے ادیب و افسانہ نگار انتظار حسین کی خود نوشت چراغوں کا دھواں میں لطیفی صاحب کا ذکر ایک منفرد انداز میں ملتا ہے۔ لطیفی صاحب 11 دسمبر 1905 کو پیدا ہوئے۔ انہوں نے آکسفورڈ یونیورسٹی سے ڈپلومہ حاصل کیا تھا۔ یورپ سے واپسی ہر وہ اپنے ہمراہ بیس ہزار کتابیں لائے تھے۔ وہ فرانس کے ایک روزنامے
Le Petit Nicois Nice
کے پنجاب میں نمائندے تھے۔ انہیں پنجابی، اردو، فرانسیسی، انگریزی، جرمن، اطالوی، عربی اور فارسی زبانوں پر عبور حاصل تھا۔ وہ کئی اہم کتابوں کے علاوہ تین سو نظموں اور پچھتر انگریزی مقالات کے مصنف تھے۔16 جولائی 1930 کے انقلاب میں م حسن لطیفی ،حضرت ساغر سیمابی کی ایک نظم پر تنقید کرتے ہوئے انہیں للکار بیٹھے تھے:
اے ساغر سیمابی
اچھی نہیں قصابی
تو شعر نہ لکھا کر

علم ودانش کایہ پیکر آخری دنوں میں کسی دماغی خلل میں مبتلا ہوگیا تھا۔ لدھیانہ کے ایک صاحب حیثیت گھرانے سے تعلق رکھنے والے م حسن لطیفی صاحب آخری عمر میں لاہور کی سڑکوں پر سرگرداں نظر آتے تھے اور ایک مجنونانہ کیفیت ان پر طاری رہتی تھی
م حسن لطیفی کے لوح مزار پر یہ عبارت کندہ ہے:

تاریخ وفات
میاں محمد حسن لطیفی صحافی پسر محمد شاہ صاحب رئیس لودیانہ
۲۳ ،مئی ۱۹۵۹ مطابق ۱۴ ذیقعد ۱۳۷۸ ہجری
وائے حسن لطیفی قادر بیاں ادیب
پسر سخی محمد شاہ ولی و سعد
آں گنج بخش فیض کرم مظہر سخا
مفلس را ابر باراں و منعم را مثال رعد
رفت از جہان فانی و ممکن نمی گذاشت
پیدا کند زمانہ حریفش بدور بعد
سیدم از سروش تاریخ رحلتش
گفتا بشب ماہ کمال از ما ذیقعد
۱۴ ذیقعد ۱۳۷۸ ہجری
م حسن لطیفی کا یہ شعر ملاحظہ ہو
:
شاعر کی لرزتی ہوئی پلکوں سے جو ٹپکا
اس بیش بہا موتی کا ساحل تھا نہ بازار
۔۔۔۔۔۔۔۔


جواب چھوڑیں