مل گئي قبر کي جگہ اے نظم ہوگئي ختم عمر بھر کي تلا…

مل گئي قبر کي جگہ اے نظم
ہوگئي ختم عمر بھر کي تلاش
..
سید علی حیدر نظم طباطبائی کی وفات
May 23, 1933
جناب نظم طباطبائي کي عظيم المرتبت اور بھاري بھر کم شخصيت دنيائے ادب اور خاص کر اہل حيدرآباد کيلئے محتاج تعارف نہيں ہے – يہ وہ صاحب قلم ہيں جنہوں نے اردو کو نہايت متين اور عالمانہ گفتگو سے نہ صرف روشناس کرايا بلکہ ايسے اصول و ضوابط و ضع کئے کہ ہر قسم کے دقيق اور جديد سائنسي مضامين ادب کي چاشني کے ساتھ با آساني تحرير کئے جاسکتے ہيں -نظم طباطبائي حيدرآباد کے دارالترجمہ اور مجلس وضع اصطلاحات کے قيام کے روز اول سے تاحيات وابستہ رہے اور دارالترجمہ کے ناظر ادبي کي حيثيت سے ديکھئے تو کوئي کتاب ايسي نہ تھي جس کے ترجمہ ہونے کے بعد اس کے ہر ہر لفظ کو اور جملوں کي ساخت کو انہوں نے ديکھا اور پرکھا نہ ہو – يوں سمجھئے کہ جامعہ عثمانيہ کے اردو ميں تمام تدريسي مواد کي صحتِ زبان پر نظم طباطبائي کي مہر تصديق ثبت تھي – ان کي اسکريننگ کے بعد ہي کوئي ترجمہ لائق طباعت و اشاعت سمجھا جاتا تھا -نقد و نظر ‘ شاعري ‘ نثر نگاري ‘ ترجمہ ‘ قواعد ‘ عروض ‘ ضائع بدائع يا اور کوئي شعبہ زبان ايسا نہ تھا جس ميں نظم صاحب کا اجتہاد داخل نہ ہو – ان کے زبان سے متعلق کسي بھي فيصلے کو ادبيات کي دنيا ميں کسي کي جرات نہيں تھي کہ اس کي ترديد کرتا يا اس کے بر خلاف رائے ديتا – ہماري زبان ميں جناب نظم طباطبائي ايک طرح سے مجتہد جامع الشرائظ تھے – جناب نظم طباطبائي کا سلسلہ نسب حسني سادات سے ملتا ہے – امام حسن ط‘ کے پوتے جناب اسمعٰيل تھے جن کا لقب ’’طبا طبا‘‘ تھا اس لئے يہ سلسلہ طباطبائي کے نام سے موسوم ہے – ان کے اجداد ايران سے ہندوستان آئے اور لکھنؤ ميں آکر آباد ہوئے – ان کي والدہ نواب معتمد الدولہ سيد محمد خان عرف آغا مير کے خاندان کي تھيں اور ان کے والد سيد مصطفےٰ حسين دربار اودھ سے وابستہ تھے – 18نومبر 1853ء کو محلہ حيدرگنج قديم ميں بروز جمعہ نظم طباطبائي پيدا ہوئے – سيد علي حيدر نام تھا- کبھي نظم اور کبھي حيدر تخلص کرتے تھے – علم و فضل ميں يہ خاندان لکھنؤ ميں مشہور تھا – نظم صاحب کي تعليم ايک مکتب ميں ہوئي جہاں ملاباقر جيسے عالم ان کو پڑھاتے تھے عربي ادب اور فقہ ميں استعداد علمي کا آغاز انہيں بزرگ اساتذہ کي بدولت ہوا – فارسي اور علم عروض کي تعليم انہوں نے ميندولال راز سے حاصل کي – 1868ء ميں پندرہ برس کي عمر ميں يہ اپني والدہ کے ساتھ مٹيا برج (کلکتہ ) چلے آئے جہاں واجد علي شاہ کي بدولت ايک چھوٹا لکھنؤ آباد ہوگيا تھا – يہاں مولانا محمد علي مجتہد العصر سے درسِ نظامي منطق اور فلسفہ پڑھا اور اس طرح اپني تعليم مکمل کي – پھر وہ مٹيا برج ميں ہي واقع شہزادگانِ اودھ کے لئے قائم کردہ مدرسہ ميں ملازم ہوگئے – مدرسہ کے انگريزي کے استاذ محمد عسکري سے انہوں نے انگريزي زبان سيکھي اور اسکے بدلے عسکري صاحب کو عربي پڑھائي -واجد علي شاہ کے انتقال کے بعد مدرسہ ٹوٹ گيا تو ان کا ذريعہ معاش ختم ہوگيا – پھر مولوي سيد افضل حسين لکھنؤي ‘ چيف جسٹس حيدرآباد کي دعوت پر 1887ء ميں نظم صاحب حيدرآباد آگئے – افضل حسين صاحب سے ان کي ملاقات اس وقت ہوئي تھي جب وہ اس سے قبل تفريحاً حيدرآباد آئے تھے – کسي مستقل معاشي وسيلہ کے فراہم ہونے تک افضل حسين صاحب نے اپنے فرزند آغا سيد حسين کي اتاليقي ان کے سپرد کي – 1889ء ميں نواب عمادالملک سيد حسين بلگرامي نے جو ناظم تعليمات تھے نظم صاحب کو مدرسہ اعزہ ميں عربي کا استاد مقرر کرديا – 1890ء ميں کتب خانہ آصفيہ کے پہلے مہتمم بنائے گئے – اس کي تنظيم اور توسيع ميں نظم صاحب نے بڑي دلچسپي لي – اس وقت يہ کتب خانہ اس جگہ تھا جہاں پر اب صدرٹپہ خانہ عابد روڈ سرکل پر ہے – اسکے بعد مدرسہ عاليہ ميں عربي فارسي کے استاد کي حيثيت سے ان کا تقرر ہوا -پھر ان کا تبادلہ نظام کالج کرديا گيا جہاں پہلے عربي اور فارسي پڑھاتے رہے پھر اردو کے پروفيسر بنادئے گئے – 1912ء ميں ايک سال سے کچھ زيادہ عرصہ تک شہزادگان آصفيہ کے اتاليق رہے پھر نظام سابع کے حکم سے 1918ء نظم صاحب کو صرفِ خاص مبارک سے جامعہ عثمانيہ کے دارالترجمہ منتقل کرديا – يہاں پر ان کي تدريسي مشغوليات ختم ہوئيں اور علمي اور ادبي تحقيقات کي زندگي کا آغاز ہوا – 1921ء ميں وظيفہ پر علحدہ ہونے کے بعد ان کو دوبارہ ملازمت پر بلاليا گيا کيونکہ ان کے بغير بہت سے کام رک گئے تھے- ملازمت کا يہ سلسلہ ان کے انتقال 1933ء تک جاري رہا – سرکاري وظيفہ کے علاوہ ان کو دارالترجمہ کي خدمت اور تاريخ طبري کے اردو ترجمے پر انعام واکرام سے نوازا گيا تھا – 1927ء کو انہيں سرکار نظام کي طرف سے حيدريارجنگ کا خطاب عطا کيا گيا ہے – شاعري ميں انکے شاگردوں ميں سلطنت اودھ اور سلطنت آصفيہ کے شہزادگان کے علاوہ اور بھي بہت سے ايسے لوگ ہيں جو دنيائے ادب ميں نامور ہوئے – مرزا آسمان جاہ انجم ‘ پرنس جہاں قدرنير (داماد واجد علي شاہ )‘ عبدالحليم شرر ‘ پنڈت رتن ناتھ سرشار‘ منشي فياض الدين فياض ‘ سيد غلام مصطفےٰ ذہين ‘ سيد ناظر حسين ہوش بلگرامي ‘ مہاراجہ کرشن پرشاد، نواب تراب يارجنگ سعيد، حکيم محمد عابد غيور ، شہيد يارجنگ شہيد، اصغر يارجنگ اصغر اور ميرے والد سيد علي محمد اجلال – يہ نسبت ديگر ماہرين زبان کے نظمصاحب کي شہرت يوں عام نہيں ہے ان کے رشحاتِ قلم اتنے بلند ہيں کہ ان کو پڑھنے والا اپني بے بضاعتي کي وجہ سے گھبراتا ہے اور اس لئے صرف نظر کرليتا ہے – جب نظم صاحب نے ديوان غالب کي شرح اعليٰ جماعتوں ميں پڑھنے والے اور ريسرچ کے طالب علموں کي مدد کے لئے لکھي تو عام اديبوں نے يہ اعتراض کيا کہ يہ شرح ايسي ہے جس کيلئے ايک اور شرح کي ضرورت ہے – يہ بالواسطہ اعتراف کم علمي تھا – يہ نظم طباطبائي کي ہي جلالتِ علمي تھي کہ انہوں نے غالب کے ہر شعر پرنگاہ ڈالي اور اسکے محاسن اور معائب پر بے لاگ تبصرہ کيا اور جو فيصلہ انہوں نے سناديا وہ آج تک حرف آخر کي حيثيت رکھتا ہے – يہ شرح عوام کے لئے نہيں لکھي گئي تھي – ويسے بھي ديکھا جائے تو غالب کا کلام باوجود شہرت کے جس قدر عام آدمي کے لئے ہے وہ صرف چند ہي اشعار پر مشتمل ہے – غالب کے کلام کے ديگر شارحين نے نظم صاحب کي شرح کو ہي پيش نظر رکھا ہے يا ان ہي کے اشارات کو تفصيل يا اجمال يا تکرار سے بيان کيا ہے – اور اختلاف وہاں کيا ہے جہاں انہوں نے غالب کے خلاف لکھا ہے – غالب کے بعد شاعري ميں جو تجربے کئے گئے وہ موضوع کے اعتبار سے تھے جس ميں رديف ‘ قافيہ ‘ اور بحر کي ساري رائج الوقت پابندياں سامنے رکھي گئي تھيں ليکن نظم صاحب نے يہ اجتہاد کيا کہ نظم اور شعر کي ’’ہئيت ‘‘ ميں نئے نئے تجربات کئے – غزل ‘ مثنوي ‘ رباعي وغيرہ کي عام ہئيت سے ہٹ کر انہوں نے اردو ميں اسٹينز (stanza) کو رائج کيا اور انگريزي ساخت کي نظميں لکھيں جو ايک بالکل نئي چيز تھي – انہوں نے انگريزي منظومات کے اردو منظومات ميں انگريزي نہج پر ترجمے کئے اور ايک نئي بات يہ کي کہ رديف اور قافيہ انگريزي اصولوں کي بناء پر متعين کئے – نظم صاحب کے بعد ہي اردو ميں اسٹينزا نويسي کا آغاز ہوا – نظم طباطبائي کے انگريزي منظومات سے کئے گئے يوں تو بہت سے ترجمے اردو ميں موجود ہيں ليکن جو مرتبہ انگلستان کے نامي شاعر طامس گرے کي ايليجي Elegyکے ترجمہ ’’گورغريباں ‘‘ کو حاصل ہے اس درجہ کو آج تک کوئي نہ پہنچ سکا – ’’گورغيرباں ‘‘ کي کاميابي کا رازيہ ہے کہ نظم صاحب نے مفہوم کا ترجمہ کيا ہے اور اردو زبان کے اسلوب اور مقامي اسلوب اور مقامي ماحول کا پورا پورا لحاظ رکھا ہے – يہ لفظي ترجمہ نہ ہونے کے باوجود ايليجي کي تمام خوبياں موجود ہيں – اگر اس کے لئے لفظ ترجمہ استعمال نہ کيا جائے تو يہ کلاسکي ادب اردو کي بلند پايہ منظومات ميں شمار کيا جاسکتا ہے – بقول پروفيسر سروري کے يہ ان چند ترجموں ميں سے ايک ہے جو اصل سے بڑھ گئے ہيں – اس ساري نظم ميں الفاظ کے وہ موتي پروئے گئے ہيں – اس ساري نظم ميں الفاظ کے وہ موتي پروئے گئے کہ عروسِ شاعري کا حسن دمک اٹھا ہے – يہ نظم اس طرح شروع ہوتي ہے -!

وداع روز روشن ہے گجر شام غريباں کا
چراگاہوں سے پلٹے قافلے وہ بے زبانوں کے

قدم کس شوق سے گھر کي طرف اٹھتا ہے دہقاں کا
يہ ويرانہ ہے ميں ہوں اور طائر آشيانوں کے

چونکہ يہ ايک مرثيہ کا ابتدائي بند ہے اسلئے اگر آپ اسکي لفظيات پر غور کريں تو معلوم ہوگا کہ الفاظ وداع ،شامِ غريباں ، بے زباني ، ويرانہ وغيرہ ايسے ہيں جو نوحہ گري کا ماحول پيدا کررہے ہيں اس کے علاوہ بحر ميں بھي ايک دھيمے قسم کا سوز پايا جاتا ہے – يہي تاثرات کم و بيش آخر تک موجود ہيں – اس مختصر مضمون ميں تحسين کي زيادہ گنجائش نہيں ہے صرف ايک بند کي طرف توجہ دلانا دلچسپي سے خالي نہ ہوگا بے نام،غريب اور معصوم زندگي جي کر گاؤ ں کے قبرستان ميں دفن ہوجانے والوں کے لئے کتني خوبصورت تشبيہيں استعمال کي گئي ہيں –

بہت سے گوہر شہوار باقي رہ گئے ہونگے
کہ جن کي خوبياں سب مٹ گئيں تہہ ميں سمندر کي

ہزاروں پھول دشت و در ميں ايسے بھي کھلے ہونگے
کہ جن کے مسکرانے ميں ہے، خوشبو مشک اذفر کي

(ازفر- تيز خوشبو )

طباطبائي کي شعري تخليقات صرف دو – دو ادين کي صورت ميں ہيں – ايک ديوان قصائد اور منظومات کا ہے جو ’’ نظم طباطبائي ‘‘ کے نام سے موسوم ہے اور دوسرا ديوان ’’صوتِ تغزل‘‘ ہے – غزليں ساري فرمائشي ہيں يا کسي مصرعہ طرح پر ہيں – بيان کيا جاتا ہے کہ انہوں نے اپنے ارادے سے کبھي کوئي غزل نہيں کہي – ان کے کچھ اشعاريہ ہيں –

عبث ہے آپ کي تغير حال کا رونا
جناب نظم رہي ايک سدا کس کي

اے صبا ! تذکرہ وطن کا نہ کر
رہنے والے ہيں دشتِ غربت کے

آدمي آدمي کے کام آئے
يہي معني ہے آدميت کے

تقدير کے لکھے کو نہ ہرگز برا سمجھ
لغزش محال ہے قلم کارساز ميں

نظم صاحب دراز قد ‘ کسي قدر مٹانے کي طرف مائل جسم ‘کتابي چہرہ ‘ بھرے بھرے گال ‘ گھني داڑھي اونچي ناک ‘ غلافي آنکھيں (مطالعہ کي کثرت کي وجہ سے آنکھوں کے پپوٹے ڈھلک گئے تھے ) اور سرخ و سفيد رنگ کے مالک تھے – شير واني زيب تن کرتے تھے – کبھي ايراني کبھي ترکي ٹوپي پہنتے تھے – آصف جاہي دربار ميں ان پر درباري لباس کي پابندي نہيں تھي – 1928ء ميں رفيقہ حيات کے انتقال کے بعد ان کي عام تندرستي بہت خراب ہوگئي مگر ان کي مصروفيات ميں کوئي خلل نہيں آسکا چنانچہ انتقال سے دودن قبل تک وضع اصطلاحات کي مجلس ميں شريک رہے – 23مئي 1933ء بروز سہ شنبہ داعي اجل کو لبيک کہا – باغ مرلي دھر کے عقب ميں تکيہ موسيٰ شاہ قادري ميں مدفون ہوئے – ان کے مدفن پر جوکتبہ لگا ہے اس پر ان کا يہ شعر کندہ ہے –

مل گئي قبر کي جگہ اے نظم
ہوگئي ختم عمر بھر کي تلاش


جواب چھوڑیں