مذہبی ادارے لاؤڈ سپیکروں کے ذریعے بیماریوں کا اہتمام کررہے ہیں۔۔اسد مفتی


کہتے ہیں کہ صورت جس چیز سے پیدا ہوتی ہے اس کی کوئی صورت نہیں ہوتی،جس طرح آگ سے پیدا ہونے والے  دھوئیں کی صورت۔۔تب ہی موسیقی کے استادوں نے موسیقی کو بے صورت بتایا ہے۔لَے دکھائی نہیں دیتی،لَے پر جھومتے لوگ دکھائی دیتے ہیں،میری لندن یاتراکی کوئی صورت نہیں بن پا رہی تھی،تب ہی جناب حمید اختر کا فون موصول ہوا۔ “چند دنوں کے لیے لندن چلے آؤ”(حمید اختر کو مرحوم لکھنے کو دل نہیں مانتا)ان دنوں حمید اختر لاہور کے روزنامہ دن میں کالم لکھتے تھے،بلکہ صحیح الفاظ یوں ہیں کہ تاریخ رقم کرتے تھے،کہ وہ مرتے دم تک صداقت،استقامت اور نظریے سے وابستگی کا دامن ایک لمحے کے لیے بھی ہاتھ سے نہیں چھوڑ سکے،اور جہاں تک میں سمجھتا ہوں،مکمل صلاحیت،استقامت،صداقت اور وابستگی یہی وہ وصف ہیں جن کے ذریعے برائیوں کو خوف زدہ کیا جاسکتا ہے۔

نومبر کی 17تاریخ تھی،کے ایل ایم(KLM)کا ہوائی جہاز مجھ کو لے کر ایمسٹر ڈیم سے لندن کی طرف جارہا تھا،میرے علاوہ اور بھی بہت سے مسافر تھے،لیکن مجھے یقین کامل تھا کہ ہمارے طیارے کو بحفاظت ائیر پورٹ پر اترنے کی اجازت دے دی جائے گی،کہ ہمارے طیارے میں کوئی بھی سپہ سالار جیسی وی آئی پی یا وی وی آئی پی شخصیت سوار نہ تھی،اگر ارباب اختیار کو مجھے زمین پر اُترنے سے روکنا مقصود ہوتا تو وہ میرے طیارے کو اُڑنے سے پہلی ہی “فنی وجوہات” کی بِنا پر دو چار گھنٹے لیٹ کر یا کروا سکتے تھے،کہ پی آئی اے کے جہاز دوگھنٹے تو کیا دو دو دن لیٹ ہوجاتے ہیں،چونکہ میں کے ایک ایم پر سوار تھا،اور کرنیل جرنیل قسم کی چیز نہ تھا،اس لیے بااعتماد تھا کہ وقت مقررہ پر زمین کو چھو لوں گا،سوزمین کی “اونچ نیچ”سے بے نیاز ہو کر ایک ہزار کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے اُڑ رہا تھا،ایمسٹر ڈیم سے لندن کی پرواز تمام کی تمام سمندر (north sea)کے اوپر سے ہوتی ہے،ہمارا جہاز 35ہزار فٹ کی بلندی پر اُڑ رہا تھا،نیچے سمندر کی سطح پر جگہ جگہ چھوٹے بڑے سمندری جہاز اور کشتیاں چل رہی تھیں،بظاہر دونوں بالکل دو قسم کی سواریاں ہیں مگر حقیقتاً دونوں ایک ہیں دونوں کے دونوں تیررہے ہیں،ایک ہواکی سطح پر تیر رہا ہے،اور دوسرا سمندر کی سطح پر۔۔سورج پورے طمطرا ق سے جلوہ گر تھا،ہمارے یہاں سورج رات دس بجے غروب ہوتا ہے،بلکہ کبھی کبھی تو گیارہ بھی بج جاتے ہیں،لیکن جب بھی ہوتا ہے تو خوب غروب ہوتا ہے،ہالینڈ میں موسم کے بارے میں کوئی “سچی پیشن گوئی “نہیں کی جاسکتی،یہاں ایک کہاوت ہے کہ “اگر موسم آپ کو پسند نہیں آرہا تو پانچ منٹ انتظار کرلیجیے”۔۔۔

پینتالیس منٹ کی پرواز میں جہاں میرا دھیان اور بہت سی باتوں کی طرف گیا وہاں میں نے یہ بھی سوچا کہ مغربی دنیا کی ماڈرن ٹیکنالوجی کا کیا عجب احسان ہے کہ اس نے انسان کے قابو میں ایسی سواری دے دی ہے جس کو رواں کرنے کے لیے دریاؤں پر پل بنانے کی ضرورت نہیں،جس کی راہ میں پہاڑ اور سمندر حائل نہیں ہوتے،آبادیوں کی ناہمواریاں جن کا راستہ نہیں روکتیں،وہ زمین کا سہارا لیے بغیر ہوا کے دوش پر ادھر سے اُدھر اُڑتا ہے۔اور تمام سواریوں سے زیادہ تیز رفتاری کے ساتھ آدمی کو منزل تک پہنچا دیتا ہے،تاہم عام ذوق کے برعکس میرے لیے ہوائی جہاز کوئی پسندیدہ سواری نہیں،جب بھی ہوائی جہاز میں سفر کرتا ہوں،تو مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ میں “اُڑن جیل”میں بند ہوگیا ہوں،کہ میری طبعیت میں آزادی پسندی بہت زیادہ ہے،زندگی بھر”دھکے کھانے”کے بعد آج بھی خوش قسمتی یا بدقسمتی سے میں ذہنی کشادگی اور آزادی ء فکر کی جانب ہی رہنا پسند کروں گا۔

ایسی کوئی زندگی مجھے عذاب معلوم ہوتی ہے،جس میں میرے اوپر خارجی پابندیاں لگی ہوں،خواہ اس پابندی کا مقام کوئی شاندار محل یا عالیشان بنگلہ ہی کیوں نہ ہو۔
یہی وجہ ہے کہ ملک بھر کے 99فیصد دانشوروں،صحافیوں او ر سیاستدانوں کے برعکس میں فوجی کمیشن کو ایک لمحہ کے لیے بھی قبول نہیں کرسکتا۔ہوائی جہاز کی اس ایک خصوصیت کے سوا کہ وہ تیزی سے سفر طے کروا دیتا ہے،باقی ہر چیز میرے ذوق کے خلاف ہے،آپ کار میں چل رہے ہوں تو اس کو کسی بھی جگہ روک کر باہر آسکتے ہیں،ٹرین میں یہ نفسیاتی اطمینان ہوتا ہے کہ ضرورت ہو تو زنجیر کھینچ کر ٹرین کو روکا جاسکتا ہے،مگر ہوائی جہاز کے اندر داخل ہونے کے بعد بس زنجیر میں بندھ جاتا ہے۔

یہاں تک کہ وہ خود ہی اعلان کردے کہ منزل آگئی ہے اب آپ باہر نکلنے کے لیے آزاد ہیں ،ورنہ اڑتے جہاز کو روکنا تو کیا بازو تک باہر نہیں نکال سکتے،ہوائی جہاز کی ایک خوبی اور ہوائی سفر کی ایک خوبصورت بات جس کا ذکر کرنا میں ضروری سمجھتا ہوں کہ جہاز میں مسافروں کے لیے فلم،گانے اور موسیقی کا انتظام ہوتا ہے۔ مگر اس طرح کا نہیں کہ گلا پھاڑ پھاڑ کر یا ریکارڈ بجا کر نیندیں اور سکون برباد کیا جارہا ہو۔ورنہ ملک عزیز میں تو صبح کی نیند تک حرام ہوکر رہ جاتی ہے ،جہاز میں یہ سب کام ہینڈ سیٹ کے خاموش انتظام کے تحت ہوتا ہے۔جس سے آپ کے ارد گرد سکون میں ذرا برابر خلل بھی نہیں پڑتا۔جو شخص سننا چاہتا ہے وہی سنتا ہے جو نہیں سننا چاہتا اس کے کان اس طرح سے محفوظ رہتے ہیں گویا یہاں گانے اور موسیقی کا کوئی وجود ہی نہیں ۔یہاں مجھے اپنے سری لنکا کے دورے کی یاد آرہی ہے۔ مسلمانوں کو سری لنکا میں ہر قسم کی مذہبی آزادی حاصل ہے لیکن یہ دیکھ کر مجھے حیرت ہوئی کہ وہاں اذان لاؤڈ سپیکر پر نہیں دی جاتی،میں نے وجہ پوچھی تو بتایا گیا کہ اگر ہم اجازت چاہیں تو اجازت مل جائے گی لیکن ہم نے خود اس کا مطالبہ اس لیے نہیں کیا کہ دوسرے مذاہب کے لوگ بھی اس کا مطالبہ کریں گے،ہماری پانچوں اذانیں تودس منٹ میں ختم ہوجائیں گی لیکن دوسرے مذاہب کی منا جاتی گیت،کیرتن تو گھنٹوں چلیں گے جس سے گھنٹوں نیندیں حرام ہونگی۔میرے حساب سے ہوائی جہاز ہو یا ھرتی،جدید تہذیب نے جس قسم کے آداب کو دنیا میں رواج دیا ہے،یہ آداب دو مشینی اصولوں پر قائم ہے،اپنی ذات کی تکمیل اور وہ اس طرح کہ دوسرے کی ذات کو کوئی گزند نہ پہنچے اور یہی مہذب مغربی معاشرہ کی ترقی کا بنیادی اصول ہے۔

عمرانی ماہر نفسیات دان اور ڈاکٹروں نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ غیر ضروری اور ناپسند دیدہ آوازیں انسان کو بے خوابی،ذہنی و اعصابی دباؤ اور اعصابی کمزوری میں مبتلاء کردیتی ہیں،اور اس وجہ سے دل کے دورے کی راہ ہموار ہوجاتی ہے،یا مذہبی ادارے لاؤڈ سپیکر سے ہمارے لیے ان بیماریوں کا اہتمام نہیں کررہے ہیں؟
لندن جاتے ہوئے میں نے ساٹھ منٹ “حاصل “کیے تھے،لندن سے واپسی پر میں نے ایک گھنٹہ “کھو دیا”چونکہ میں حساب کتاب والا آدمی نہیں ہوں،اس لیے نہیں جانتا کہ نفع میں رہا یا نقصان میں۔۔۔
ہم بھی کرلیں جو روشنی گھر میں
پھر اندھیرے کہاں قیام کریں

۔۔۔۔۔۔۔





بشکریہ

جواب چھوڑیں