Sapiens: A Brief History of Humankind in Urdu & Hindi || Urdu Audiobook || Hindi Audiobook

Sapiens: A Brief History of Humankind

یووال نوحا حراری کی بے مثال تصنیف

اردو آڈیو بک کی شکل میں

آج سے ہم اپنے سننے والوں کے لیے ایک بہت ہی اہم کتاب شروع کرنے جارہے ہیں، ایک ایسی کتاب جو دنیا کو زندگی کو اور انسان کو آپ جس طرح دیکھتے آئے ہیں سنتے آئے ہیں جانتے آئے ہیں، اس سارے فکری ڈھانچے کو تبدیل کرسکتی ہے۔ اس کتاب کا نام ہے سیپی انز۔ اے بریف ہسٹری آف ہیومن کائنڈ۔ آدمی، نوع انسانی کی ایک مختصر تاریخ۔ آج سے تقریبا ایک لاکھ سال پیچھے جائیں توہماری اس زمین پر انسانوں سے ملتی جلتی چھ انواع موجود تھیں۔ آج زمین پر ان چھ میں سے صرف ایک نوع باقی ہے ، اور وہ ایک نوع ہیں ہم۔ یہ جنگ ہم نے کیسے لڑی، کیسے جیتی۔ ہمارے قدیم آبائو اجداد نے کیوں ساتھ ملکر رہنے کا فیصلہ کیا، کیسے شہر بسائے ، کیوں سلطنتیں قائم کیں۔ کیسے ہم نے خدائوں پر یقین کرنا سیکھا۔ کیسے ہم نے قوم کا تصور تخلیق کیا، کیسے انسانی حقوق کے افکار ہم میں پیدا ہوئے۔ کیسے ہم نے دولت پر یہ بھروسہ کرنا سیکھا جو آج ہمیں طے کرنے والا مظہر ہے۔ کیسے ہم نے کتابیں لکھیں، قانون بنائے، اور کس طرح ہم اپنی ہی تخلیق کردہ بیوروکریسیز، ٹائم ٹیبلزاورکنزیومرزم کے قیدی ہوگئے۔ اور یہی ہماری ارتقا کی رفتار رہی تو اگلے ایک ہزار سالوں میں بطور ایک زندہ سپیشی ہم کہاں کھڑے ہوں گے۔ یہ وہ سب سوال ہیں جن کے جواب اس کتاب کے فاضل مصنف ڈاکٹر یووال نووا حراری نے اپنی اس تصنیف میں ڈھونڈنے کی کوشش کی ہے۔ یہ ایک حیران کن کتاب ہے، انسان کے پہلے قدم جو اس زمین پر پڑے ، تب سے لیکر ان سارے انقلابات کو اس کتاب کے کیپسول میں بند کردیا گیا ہے، جو انسانوں نے اس سارے سفر میں دیکھے۔ بیالوجی، انتھروپولوجی، پیلی انٹالوجی اور اکنامکس ان تمام موضوعات کا احاطہ کرتے ہوئے مسٹر حراری نے ان سوالوں کا جواب ڈھونڈنے کی ایک کوشش کی ہے۔ ایک ہوتی ہے تاریخ جس میں واقعات کو جوں کا توں پیش کردیا جاتا ہے اور ایک ہوتی ہے یہ کھوج کہ ہسٹری میں جوسب ہوا وہ ویسا کیوں ہوا۔ یہ کتاب اسی کیوں کے کھوج کی کہانی ہے۔ ای

ہماری تاریخ میں کب کیا ہوا؟

ساڑھے تیرہ ارب سال پہلے

میٹر اینڈ انرجی کا جنم ہوا۔ ایٹم اور مالیکیول بنے، جسے ہم بگ بینگ کہتے ہیں، کیمیائی عمل کا آغاز

ساڑھے چار ارب سال پہلے

کرہ ارض کا جنم ہوا

پونے چار ارب سال پہلے

آرگینکس، نامیاتی عمل کا آغاز، حیاتیاتی عمل شروع ہوا۔ کہہ لیں کہ بیالوجی کا آغاز

ساٹھ لاکھ سال پہلے

انسانوں اور بندروں کی مشترکہ برادری کا جنم ہوا

پچیس لاکھ سال پہلے

افریقہ میں نوع انسانی وجود میں آئی، ہیومن سپیشی کا جنم ہوا۔ انسان نے اوزار بنائے

بیس لاکھ سال پہلے

انسان افریقہ سے یورپ اور ایشیا کی طرف مہاجر بن کرگیا، انسان کی مختلف انواع سپی شیز وجود میں آئیں

پانچ لاکھ سال پہلے

یورپ اور مشرق وسطی میں انسانی نوع نیانڈر تھالز کا ارتقا ہوا۔

تین لاکھ سال پہلے

انسانی انواع نے آگ کا استعمال شروع کیا

دولاکھ سال پہل

ہومی سیپی انز، مطلب ہماری نوع کا ارتقا ہوا

سترہزار سال پہلے

شعور کا انقلاب برپا ہوا، زبان کا جنم ہوا۔ زبان کے ساتھ تاریخ نے جنم لیا۔ انسان دنیا بھر میں پھیلنا شروع ہوا

پینتالیس ہزار سال قبل

انسان براعظم آسٹریلیا میں پہنچا۔ اور اس براعظم پر انسان کے قدم پڑتے ہی جو دیوہیکل جانور وہاں موجود تھے فنا ہونا شروع ہوئے

تیس ہزار سال پہلے

انسانی نوع نینڈرتھا فنا کی وادیوں میں ڈوب گئی

سولہ ہزار سال پہلے

انسان براعظم امریکہ تک پہنچ گیا۔ اور آسٹریلیا کی طرح یہاں بھی انسانی قدم بڑی جسامت دیوہیکل جثوں والے جانوروں کے لیے منحوس ثابت ہوا، ان کی نسل فنا ہونا شروع ہوئی

تیرہ ہزارسال پہلے

انسانوں کی ایک اور نوع فلورینسس بھی معدوم ہوگئی۔ اب انسانی انواع میں سے صرف ایک نوع باقی بچ گئی تھی، یعنی ہم، ہومو سیپی انز، دانا انسان

بارہ ہزارسال پہلے

زرعی انقلاب کا جنم۔ انسان نے جانوروں اور پودوں کو پالتو بنانا سیکھا، اور یوں بستیوں کا جنم ہوا۔

پانچ ہزار سال پہلے

پہلی بادشاہت، زبان کا رسم الخط اور زر یعنی پیسہ ایجاد ہوا۔ کثرت پرست مشرکانہ مذاہب کا جنم ہوا۔

چارہزار دوسو سال پہلے

پہلی سلطنت، سارگون کی اکادمی سلطنت کی داغ بیل پڑی۔ سکہ ایجاد ہوا۔

پچیس سوسال پہلے

سلطنت فارس کا جنم ہوا۔ ہندوستان میں بدھ مت شروع ہوا۔

دوہزار سال پہلے

چین میں ہان سلطنت کی داغ بیل پڑی۔ رومن ایمپائر کھڑی ہوئی۔ عیسائی مذہب کا جنم ہوا۔

چودہ سوسال پہلے

مذہب اسلام کا جنم ہوا

پانچ سوسال پہلے

سائنسی انقلاب کا آغاز ہوا۔ انسان نے جوں ہی اپنی جہالت کو کم علمی کو پہچانا، وہ بے مثال طاقت حاصل کرتا گیا۔ یورپی اقوام نے امریکہ اور سمندروں کو فتح کرنا شروع کیا، سرمایہ داری کی داغ بیل پڑی

دوسوسال پہلے

صنعتی انقلاب برپا ہواریاست اور منڈی نے خاندان اور برادری کی جگہ لے لی۔ اس صنعتی انقلاب نے زمین پرزندگی کی دیگر بے شمار انواع کو مٹانا شروع کیا اور کئی قسم کی سپی شیز فنا کے گھاٹ اترنے لگیں

موجودہ دور

انسان زمین کی وسعتوں سے نکل کرکائناتی سرحدوں میں داخل ہونا شروع ہوچکا ہے۔ نوع انسانی کو اپنے ہی بنائے ایٹمی ہتھیاروں سے فنا کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔ انواع فطری انتخاب یعنی نیچرل سلیکشن کی بجائے ذہین ڈیزائن انٹیلی جینٹ ڈیزائن کی بنیاد پر تشکیل ہونے لگی ہیں۔

مستقبل

انٹیلی جینٹ ڈیزان زندگی کا بنیاد اصول ہوجائے گا۔ ہومی سیپی انز یعنی دانا انسان کی جگہ سپرہیومن لے لیں گے؟

مکمل تفصیل کے لیے اس لنک کو کلک کریں

Sapiens: A Brief History of Humankind in Urdu & Hindi || Urdu Audiobook || Hindi Audiobook

Sapiens: A Brief History of Humankind in Urdu & Hindi || Urdu Audiobook || Hindi Audiobook Sapiens: A Brief History of Humankind is a book by Yuval Noah Hara…
بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2774795012751014

جواب چھوڑیں