'عید پر شعر لکھنے کی فرمائش کے جواب میں'…

'عید پر شعر لکھنے کی فرمائش کے جواب میں'

یہ شالامار میں اک برگِ زرد کہتا تھا
گیا وہ موسمِ گل جس کا رازدار ہوں میں
نہ پائمال کریں مجھ کو زائرانِ چمن
انہیں کی شاخِ نشیمن کی یادگار ہوں میں
ذرا سے پتے نے بیتاب کردیا دل کو
چمن میں آکے سراپا غمِ بہار ہوں میں
خزاں میں مجکو رلاتی ہے یادِ فصلِ بہار
خوشی ہو عید کی کیونکر کہ سوگوار ہوں میں
اجاڑ ہوگۓ عہدِ کہن کے مے خانے
گزشتہ بادہ پرستوں کی یادگار ہوں میں
پیامِ عیش و مسرت ہمیں سناتا ہے
ہللالِ عید ہماری ہنسی اڑاتا ہے
یہ قطعہ بانگِ درا میں 'عید پر شعر لکھنے کی فرمائش کے جواب میں' کے اور کلیاتِ اقبال مرتبہ مولوی عبدالرزاق میں ' شالامار باغ' کے عنوان سے شامل ہے ۔
بانگِ درا میں اس قطعہ کے چھ اور کلیاتِ اقبال میں سات اشعار ہیں جبکہ کل آٹھ اشعار ہیں
آوازِ اقبال نریش کمار شاد میں پورے آٹھ اشعار شامل ہیں ۔
محمد عبداللہ قریشی نے اس پر اقبال کے ایک سو تیسرے یومِ پیدائش 9 نومبر 1981ء کو اس پر روشنی ڈالی تھی اور جو اقبال ریویو جولائ 1981ء میں شامل ہے ۔
یہ قطعہ مولوی نظام الدین حسین مدیر ہفتہ وار ' ذوالقرنین ' بدایوں کی فرمائش پر لکھا گیا تھا
مولوی نظامی نے اگسٹ 1915ء میں عید الفطر کی تقریب پر بدایوں میں ایک طرحی مشاعرہ رکھا تھا اور طرح تھی
اے دلِ پر داغ بیتابی سے کچھ حاصل نہیں
اقبال اور اکبر الہ آبادی نے اپنا کلام بذریعہ پوسٹ روانہ کیا تھا ۔ اکبر الہ آبادی نے جو غزل روانہ کی تھی اس کا مطلع تھا
پیشِ نظر ہمارے ہے شامِ شبِ فراق
اس کی سحر جو ہو تو ہماری بھی عید ہے
اقبال نے آٹھ اشعار کا قطعہ روانہ کیا تھا جو بعد میں 'ذوالقرنین ' میں شائع ہوا تھا ۔ اس میں سے ایک شعر کے مخاطب مولوی نظامی تھے
مجھے قسم ہے نظامی مدینے والے کی
ہمیشہ ماتمِ ملت میں اشک بار ہوں میں
سرودِ مرغِ نوا ریز و ہم نشینی گل
مرے نصیب کہاں غنچۂ مزار ہوں میں
پہلا شعر ترک کرنے کی امکانی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ اس میں نضامی ایڈیٹر ذو القرنین کو مخاطب کیا گیا تھا ۔
بقول صابر کلوری دوسرا شعر میں حد سے بڑی فارسیت اس کے ترک کی وجہ ہوسکتی ہے ۔

شالا مار باغ لاہور 1632ء مین شاہجہان نے لاہور مین تعمیر کروایا تھا اور اس کے بعد سے کشمیر جاتے ہوۓ مگل شہنشاہ ہیں قیام کرتے تھے ۔
اقبال نے اس باغ کو مسلمانون کی عظمتِ رفتہ کا نشان قرار دیا ہے کہ ایک دن میں باغ کی سیر کے لۓ گیا جہاں ایک درخت کے سبز پتے نے مجھ سے کہا کہ میں گزری ہوئ بہار کا رازداں ہون مجھے تو پائمال نہ کر ۔ اس بات پر اقبال کو مسلمانون کا ماضی یاد آگیا ۔ ایسے میں عید کی کیا خوشی ہوسکتی ہے بلکہ یہ چاند میری بے بسی پر مجھ پر ہنس رہا ہے ۔
یہ قطعہ اس زمانہ مین بہت مشہور بھی ہوا اور پسند بھی کیاگیا ۔ اس کی تضمینیں ہوئیں
وہ دین جس سے کہ بزمِ جہاں کی رونق تھی
ہزار حیف کہ مردہ ہوا ہے جیتے جی
شریکِ غم نہ ہوں یہ ہے خلافِ ہمدردی
مجھے قسم ہے نظامی مدینے والے کی
ہمیشہ ماتمِ ملت میں اشک بار ہوں میں

وہ غم پسند ہے دل غم سے چین پاتا ہے
خوشی کی باتوں سے منہہ کو کلیجہ آتا ہے
یہ لطفِ دید ملاقات دل کو دکھاتا ہے
پیامِ عیش و مسرت ہمیں سناتا ہے
ہللالِ عید ہماری ہنسی اڑاتا ہے
……………………..
باقیاتِ شعرِ اقبال تحقیقی تنقیدی جائزہ
مقالہ صابر حسین کلوری
مطالب بانگِ درا مولانا غلام رسول مہر
بانگِ درا مع تشریح پروفیسر یوسف سلیم چشتی
بشکریہ وسیم سیّد


جواب چھوڑیں