الوداع (Der Abschied / Goethe) جرمن شاعر گوئٹے ک…

الوداع (Der Abschied / Goethe)

جرمن شاعر گوئٹے کی ایک نظم

الوداع مجھ کو اب آنکھوں سے کہنے دو
حوصلہ اتنا کہاں مری زبان میں ہے
یہ سچ ہے میں ہوں مرد اک توانا
ہے کتنا مشکل مگر یہ بوجھ اٹھانا
پیار کے وہ مسحور کن رسیلے عہد
یہ لمحہ ان کی غم ناکی سے بھر گیا ہے
سرد ہے اب ترے نازک لبوں کا بوسہ بھی
تم سے وہ ہاتھ ملانے کی رنگینیاں بھی گئیں
جو اکثر ترے کنارِ دہن سے چرائے تھے
کتنے خوش کن تھے بوسے وہ مختصر سارے
بہار کے اوائل میں خوشیوں میں ہم نہائے تھے
یاد ہے توڑا تھا جب بنفشے کا ایک پھول
اب کوئی پھول کہاں توڑے گا کوئی
نہ گلاب تمہارے لیے کوئی جو میرے ہاتھ میں ہو
جوبن پہ ہے جو مرے محبوب یہ بہار
میرے لیے بھرے ہیں اس میں خزاں کے دکھ

(جرمن سے اردو ترجمہ: مقبول ملک)


بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2774955799401602

جواب چھوڑیں