سنا ہے ایسا مسیحا کہیں سے آیا ہے کہ ا…

سنا ہے ایسا مسیحا کہیں سے آیا ہے
کہ اُس کو شہر کے بیمار چل کے دیکھتے ییں

بیسویں صدی کا سب سے بڑا سماجی کارکن
عبدالستار ایدھی
منیرفراز

اُس کے پاس اپنی ملکیت میں سب سے قیمتی اثاثہ یہی دو آنکھیں تھیں جن سے وہ دنیا کے دکھ اور انسانی جسموں کے زخم دیکھتا تھا۔
میں نے اِن قیمتی آنکھوں والے کو دو بار دیکھا، ایک بار بہت قریب سے، کراچی کے ریگل چوک پر بھیک مانگتے ہوئے اور دوسری بار کچھ فاصلے سے، کراچی ہی کی ایمپریس مارکیٹ میں خوفناک دھماکے کے بعد خون میں لتھڑی ہوئی لاشیں،انتڑیاں اور کٹے ہوئے انسانی جسموں کے اعضاء اٹھاتے ہوئے ۔ اُس نے دونوں بار نائلون کی چپل پہن رکھی تھی ۔ پہلے منظر میں کراچی کے علاقہ صدر کے ریگل چوک میں وہ سڑک پر رومال بچھائے بیٹھا تھا.اس نے ہمیشہ کی طرح ملیشیا کا کرتا پاجاما پہنا ہوا تھا اور میں صدر کے ڈیلکس ٹیلر ہاؤس سے اپنا سوٹ لیکر واپس آرہا تھا ۔یہ کوئی پندرہ برس قبل کی بات ہے۔ لوگ اس مسیحا کے پاس چل کر آتے اور میں نے دیکھا کہ لوگوں نے اس کے بچھائے ہوئے رومال پر اپنی جیبیں خالی کر دی ہیں۔ یہ شاید دنیا کا واحد بھکاری تھا جو لوگوں کے لئے مانگتا تھا ۔ اکتوبر دو ہزار پانچ میں بالا کوٹ اور گرد و نواح کے ہولناک زلزلہ نے اٌس کی نیندیں حرام کر رکھی تھیں وہ چہرے سے تھکا ہوا محسوس ہوتا تھا لیکن اندر کو دھنسی ہوئیں دونوں آنکھیں امید کے چراغوں کی طرح روشن تھیں مجھے اُس کی آنکھوں ہی سے محبت تھی جس سے وہ دنیا بھر کے دکھ دیکھتا تھا ۔میں ڈیلکس ٹیلر ہاؤس کا سلا ہوا اپنا اس وقت کا پانچ ہزار کا سوٹ اور اس کا دو سو روپئے کا کرتا پاجاما دیکھ رہا تھا میں نے آٹھ سو کا جوتا اور اس نے پچاس روپے کی چپل پہن رکھی تھی ۔ چند روز یہ منظر میری آنکھوں کے سامنے رہ کر مجھے ندامت کا احساس دلاتا رہا ۔ اور اب، جب میں یہ سطریں لکھ رہا ہوں تو وہ سارا منظر ایک بار پھر ندامت کے مکمل احساس کے ساتھ میری آنکھوں کے سامنے آگیا ہے ۔میں آپ سے بالا کوٹ کے زلزلہ کی بات کر رہا تھا ایدھی نے اُس شام ریگل چوک سے بارہ لاکھ روپے اکٹھے کئے۔ میں نے دیکھا کہ لوگ اسے فرط محبت سے چومتے جاتے ہیں اس سے ہاتھ ملا کر روحانی لذت محسوس کرتے ہیں۔ میں نے اپنی جیب سے پانچ نوٹ نکال کر اس کے رومال پر رکھ دیئے اور جب اُس سے ہاتھ ملایا تو روح تک آ گئی تاثیر مسیحائی کی،اس کے ہاتھ قدرے سخت تھے، مزدوروں جیسے کھردرے ۔ میں کافی دیر اُس کے پاس کھڑا اُس کی طلسماتی شخصیت کو دیکھتا رہا اُس کی شخصیت میں مقناطیسیت تھی لوگ اُس کی طرف کھینچے چلے آتے تھے۔وہ صرف ایک گھنٹہ وہاں بیٹھا،بعد ازا‍ں اس نے رومال سمیٹا اور اپنے نام کی ایمبولینس میں بیٹھ کر پریڈی تھانے کی طرف جانے والی سڑک پر مڑ گیا۔ میں نے پیچھے رہ جانے والے مجمعے سے سنا کہ اب ایدھی کا اگلا پڑاؤ جامع کلاتھ مارکیٹ کے سامنے ہوگا یہ وہاں بھی رومال بچھائے گا اور کل کراچی ایسٹ کے علاقوں میں بیٹھے گا ۔ بالاکوٹ کے زلزلہ متاثرین کے لئے اس نے کُل سولہ ٹرک امدادی سامان بھیجا جس میں خیمے، ادویات اور روزمرہ ضروریات کی اشیاء شامل تھیں۔ وہ خود اس قافلہ کے ساتھ گیا اور پتھریلی ٹوٹی پھوٹی سڑکوں اور عمارتوں کے ملبہ سے ہوتا ہوا اُن دور دراز پہاڑی علاقوں میں پہنچا جہاں حکومتی امداد ہیلی کاپٹروں کی مدد سے پہنچ رہی تھی ۔

میرے آنکھوں دیکھے دوسرے منظر میں وہ ایمپریس مارکیٹ کے ہولناک بم دھماکے کی جگہ موجود تھا درجنوں لوگ شہید ہو چکے تھے اور پوری مارکیٹ کسی تباہ شدہ بستی کا منظر پیش کر رہی تھی ایدھی کی چھ سے آٹھ ایمبولینس متاثرہ علاقہ میں موجود تھیں اپنے بیسیوں ورکروں کے ساتھ ایدھی خود بھی امدادی کاموں میں مصروف تھا اس کے کپڑے انسانی خون اور مٹی سے اٹے ہوئے تھے، چہرہ ڈیزل اور دھوئیں کے آمیزے سے سیاہی مائل ہو گیا تھا لیکن اندر کو دھنسی ہوئیں آنکھیں امید کے چراغوں کی طرح روش تھیں ۔اس کے سر کی سیاہ ٹوپی، جو وہ اکثر سر پہ سجائے رکھتا تھا اور جو اس کی شخصیت کی تدبری کو مکمل کرتی تھی، کہیں گر چکی تھی۔ ٹھیک کہا گیا ہے کہ محبوب کے قدموں میں سر گرانا ہو تو نہیں دیکھا جاتا کہ دستار کہاں گرے گی۔ اُس کا عشق یہی خدمت گزاری تھا، یہی اس کا محبوب، اور اس درگاہ پر سر گراتے ہوئے اُس روز اسے کوئی ہوش نہیں تھا کہ اس کی یہ سیاہ دلربا ٹوپی، جو اس کی شخصیت کی تکمیل کرتی ہے، لوگوں کی بھیڑ میں کہاں گری ۔ وہ اس منظر میں مسلسل سولہ گھنٹے کام کرتا رہا اس دوران وہ چند فرلانگ کے فاصلہ پر قائم جناح اسپتال کا چکر بھی لگاتا رہا اور زخمیوں کی خبر گیری کرتا رہا ۔ میں نے انہی دنوں جان کیٹس کو کہیں پڑھ رہا تھا کہ لمس یاداشت رکھتے ہیں، تو آج جب میرے تصور نے اس سے ریگل چوک پر دوبارہ ہاتھ ملایا تو مجھ میں اس لمس اور اُس سے وابستہ ساری یادیں تازہ ہوگئیں۔اور میں نے اس کے سخت اور مزدوروں جیسے کھردرے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں محسوس کئے ۔
١٩٤٧ء میں اِس کھردرے ہاتھوں والے مزدور کے بزرگ اِس کرشمہ ساز کے ساتھ گجرات (ہندوستان) سے ہجرت کر کے پاکستان آئے تھے یہ ممین تھے اور ذات کے بانٹوا ۔ایدھی اس وقت انیس سال کا نوجوان تھا،کراچی میں میمنوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے اور میں جانتا ہوں کہ میمن عموماً نوکریاں نہیں کرتے ایدھی نے بھی پاکستان آتے ہی کپڑے کی ایک دوکان کر لی تھی یہ اس کا آبائی پیشہ تھا، اسی دکان میں اس نے ایک ڈسپنسری قائم کر لی تھی جہاں ضرورت مندوں کو ابتدائی طبی سہولت مل جاتی تھی۔ ١٩٥٧ء میں کراچی میں فلو کی وبا پھوٹ پڑی تو ایدھی صاحب نے اس وبا کے مریضوں کی دن رات خدمت کی اس کی بے لوث طبیعت کی وجہ سے مخیر حضرات اس کی مالی مدد کرنے لگے وہ اس کی دیانتداری پر یقین رکھتے تھے وبا کے انہی ایام میں کراچی کے ایک معروف تاجر نے انہیں اتنی بڑی رقم دی کہ انہوں نے ایک ایمبولینس خرید لی جسے وہ خود چلاتے اور ضرورت مندوں تک پہنچتے ۔ اس ایک ایمبولینس سے ایدھی فاونڈیشن کا آغاز ہوا وہ اس کے پہلے رضاکار، ڈرائیور، ڈاکٹر، خدمت گزار، فراش اور چیئرمین بنے یہ چیئرمین ساری زندگی اس فاؤنڈیشن کی عمارت میں جھاڑو لگاتا رہا، خون آلود پٹیاں اور دمے کی کھانسیوں سے اٹے کچرے کے ڈھیر کو کاندھوں پر اُٹھا کر قریبی کچرا کنڈیوں میں پھینکتا رہا ۔اس نے ملیشیا کا ایک کرتا پاجاما خرید لیا اور ایک عدد جوتا، جسے یہ چیئرمین اٹھائیس برس تک پہنتا رہا ۔ خود احتسابی کا معیار جب ایسا شفاف ہو تو لوگوں کے دلوں میں ایسا جذبہ پیدا کرتا ہے کہ وہ رومال لیکر ریگل چوک بیٹھ جائے، جامع کلاتھ مارکیٹ یا کراچی کی سڑکوں پر مانگنے نکلے تو بڑی گاڑیوں والے گاڑیاں روک روک کر، راہگیر اپنا رستہ کاٹ کر اپنی جیبیں خالی کر دیتے ، خواتین انگلیوں کی انگوٹھیاں اور بچیاں اپنے کانوں کی بالیاں اتار دیتیں ہیں ۔اُس میں سماجی خدمت گزاری کا یہ جذبہ اچانک پیدا نہیں ہوا تھا بلکہ یہ اس وقت بھی سماجی خدمت کارکن تھا جب یہ بمشکل دس برس کا تھا اور اسکول کے لئے اپنی ماں سے دو آنے لیکر جاتا تھا اس کی ماں نے اسے سکھا دیا تھا کہ ایک آنہ تیرا ہے اور ایک آنہ کسی دوسرے غریب کا ۔ خدا جانے اس کی ماں نے عظیم گوئٹے کا یہ فلسفہ کہاں پڑھا، گوئٹے نے کہیں لکھا یے کہ اگر تمہارے پاس دو کوٹ ہیں تو یاد رکھیں کہ دوسرا کوٹ اُس کا ہے جس کے پاس کوئی کوٹ نہیں ہے، چنانچہ ایدھی اسکول کی باقی عمر یہ ایک آنہ اسے دیتا رہا جس کے پاس کوئی آنہ نہ ہوتا تھا ۔معلوم ہوا کہ یہ سماجی خدمت گزاری وہ اپنے خون میں لیکر آیا تھا اور پھر اس خون کی تاثیر نے بتایا کہ ایک ایمبولینس سے شروع ہونے والی یہ ایدھی فاونڈیشن آٹھ سو سے زائد ایمبولینس کے ساتھ دنیا کی سب سے بڑی ایمبولینس سروس کہلائی ۔یہ اعداد و شمار گنیز بک ورلڈ ریکارڈ سن ٢٠٠٠ء میں شامل ہوئے ١٩٨٨ء میں اسے لینن امن ایوارڈ دیا گیا ۔ مجھ سمیت پاکستان کا ہر شہری اس بات کا گواہ بن سکتا ہے کہ کسی بھی جائے حادثہ پر یہ بوڑھا فقیر ریاستی مشینری سے پہلے موجود ہوتا تھا۔ اس نے پاکستان کے شہروں سے نکل کر دنیا کے کئی بڑے اور پسماندہ علاقوں میں بھی رفاہی مراکز نہ صرف قائم کئے بلکہ ان کی نگرانی بھی کرتا رہا پاکستان میں اس نے زچگی خانے، معذوروں کے لئے گھر، پاگل خانے، یتیموں کی کفالت اور لاوارث بچوں کو گود لینے کے مراکز قائم کئے اس نے سماج کے ہر اس دکھ کو سینے سے لگایا جسے اس کی آنکھوں نے دیکھا اور دل نے محسوس کیا ۔ایدھی کا باپ کپڑے کا تاجر تھا لیکن میں نے ویکیپیڈیا پرجب اُس کے پیشہ کے خانے میں سماجی کارکن لکھا دیکھا تو مجھے اپنی صدی کے اس سب سے بڑے سماجی خدمت گزار پر بے پناہ پیار آیا، دنیا کے تمام پیشے اس سے کم رتبہ کے دکھائی دیئے ۔ اُس نے اپنا آبائی پیشہ ترک کر دیا تھا اور اپنا سارا مال اسباب بیچ کر قوم کے زخموں پر لگا دیا ۔میں جب اُس کے طرزِ زندگی کو دیکھتا ہوں سامنے آتا ہے کہ اُس کی شخصیت اور کردار عام لوگوں سے بالکل مختلف تھا ۔وہ دوستوں کے ساتھ تاش کی بازی، سیاسی مباحثے، یار لوگوں کے گلے شکوے یا سیر سپاٹے کے لئے نہیں نکلتا تھا وہ اَن پڑھ مہذب تھا اور اُس کے پاس اِن ساری فضولیات کے لئے وقت نہیں تھا اُس نے اپنی زندگی کو انتہائی سادہ اور سہل بنا رکھا تھا وہ ہر دوسرے روز ترتیب کے ساتھ اپنے فلاحی مراکز کا دورہ کرتا یتیم خانوں میں بچوں کے ساتھ زمین پر بیٹھ جاتا، اُسے اِن یتیم خانوں میں بابا کہا جاتا جہاں یہ ہزاروں لاوارث اور یتیم بچوں کا بابا کہلایا یہ بچے اُس کے کاندھوں پر سوار ہو جاتے فٹبال کرکٹ کھیلتے اور اپنے داداؤں، ناناؤں کی طرح اس کی سفید مخملی داڑھی اور جیبیں ٹٹولتے، اس کی کمر پر سواری کرتے اور یہ بھول جاتے کہ انہیں اپنے ماں باپ کی نرم گرم گود میسر نہیں، اُس کی گود میں ان بچوں کے لئے کوئی طلسمی کشش کوئی شفقت تھی جو یہ بچے اُس سے اِس طرح مانوس ہو جاتے کہ بچے کبھی بھی کسی مصنوعی جذبے سے مانوس نہیں ہوا کرتے ۔ سن ٤٧ء کی ہجرت میں خدائی تحفے کے طور پر ملا ہوا یہ بوڑھا فقیر میرے وطن کی بزاروں بیواؤں کا بھی بابا تھا وہ اپنے ان مراکز میں بیٹیوں کا باپ بن کر بچشم تبسم جاتا اور بچشم نم واپس آتا کہ اسے اپنی اِن بیٹیوں کی شادی کی فکر رہتی جسے وہ خاص ترتیب کے ساتھ اجتماعی شادیوں کے اہتمام سے رفع کرتا رہتا۔ان شادیوں میں بیٹیوں کا وہ نام نہاد جہیز بھی شامل ہوتا جس نے ہمارے معاشرے کو بے توقیر کر رکھا ہے ۔کسی خاص فارمولے کی مدد سے اگر ایدھی کی خدمات ہم اپنے سماج سے علیحدہ کر لیں تو یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ ہم میں کیا باقی رہ جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ اس پر دنیا بھر کے پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا نے بہت کچھ لکھا اور دکھایا اس پر سینکڑوں دستاویزی فلمیں بنائی گئیں اور دنیا کے ہر بڑے براڈکاسٹ چینل نے اس کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا ۔

٨ جولائی ٢٠١٦ء کی ایک شام اس درویش کی طبیعت اچانک ناساز ہوئی ، اسے اسپتال لے جایا گیا جہاں اس کے گردوں نے کام کرنا چھوڑ دیا رات کے کسی پہر چپ چاپ اس کی آنکھوں کے چراغ بجھ گئے اور میرے وطن کے ہزاروں یتیم ایک بار پھر یتیم کہلانے کے دوہرے عذاب سے گزرے ۔ وہ سن ٤٧ء میں ہجرت کر کے کراچی آیا اسی شہر کی مٹی پر پھرتا رہا اور خاک ہو کر اسی کی مٹی میں دفن ہوا ۔ غالب کا، وفا داری بشرط استواری اصل ایماں ہے، والا مضمون کہ، مرے بت خانے میں تو کعبہ میں گاڑو برہمن کو۔
انتقال کے وقت اٹھاسی سالہ اِس باریش لاغر بوڑھے کے پاس وصیت میں لکھنے کے لئے کچھ نہیں تھا۔ جائیداد، نہ بینک بیلنس، چنانچہ اس نے مرنے سے قبل، جب اُس کے گردوں نے کام کرنا چھوڑ دیا تھا، صرف ایک لائن کی وصیت لکھی
" میری آنکھیں کسی ضرورت مند کو عطیہ کر دی جائیں"

اُس کے پاس اپنی ملکیت میں سب سے قیمتی اثاثہ یہی دو آنکھیں تھیں جن سے وہ دنیا کے دکھ اور انسانی جسموں کے زخم دیکھتا تھا ۔

(تحریر کے کچھ اعداد و شمار گوگل سے لئے گئے ہیں)





بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2774957839401398

جواب چھوڑیں