~ بونے خُدا ~ یہ بونے خُدا بدعُائیں تھوکے جاتے ہ…

~ بونے خُدا ~

یہ بونے خُدا
بدعُائیں تھوکے جاتے ہیں
آنکھوں میں ان کی
آگ کی مانند سُلگتی
نفرت جلتی رہتی ہے
اور ان کے ہاتھ ہمیشہ
بے گناہوں کے لہو سے
داغدار رہے ہیں

تاریک و متروک گلیوں میں
یہ پھرتے ملیں گے
دوسروں کی زندگی میں
یہ جو پھیلاتے ہیں
چہرہ پہ انھوں نے بدبختی کا
وہ چُغہ پہنا ہوا ہے
بونے خُدا
بدعُائیں تھوکے جاتے ہیں

تمُھیں ان حرامزادوں پہ
شاید ترس بھی آ جائے
افسوس بھی ہو کہ یہ
سمجھتے نہیں
یا سمجھنا نہیں چاہتے
کہ انکی آنکھوں میں
آگ کی مانند سُلگتی
نفرت جلتی رہتی ہے

بے پروائی اور کمینگی سے
یہ پیار کرتے ہیں
اور پھر بلکتے بچوں کی طرح
اُچھال کر پرے پھینک دیتے ہیں
جو سماج کی دیواروں پہ
ایڑیاں رگڑتے رہتے ہیں
کہ ان کے ہاتھ ہمیشہ
بے گناہوں کے لہو سے
داغدار رہے ہیں۔۔

مُترجم : نودخان

THE LITTLE GODS

The little gods,
spitting curses like unholy prayers
Hatred burning in their eyes,
consuming like fire
Their hands forever stained with
innocent blood.

They wander through the dark, abandoned streets
Their faces cloaked
from the misery they spread
The little gods,
spitting curses like unholy prayers.

You almost feel sorry for the poor little bastards
Afraid of whatever they don’t or can’t understand
Hatred burning in their eyes,
consuming like fire.

So vainly and cheaply they love,
then toss it aside
Kicking at the bars of society
like babies in a crib
Their hands forever stained
with innocent blood.

BY : J.A. McManus


بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2775474162683099

جواب چھوڑیں