’’بے عزتی کے تحائف‘‘ | Gifts of Insult ازقلم ’Pa…

’’بے عزتی کے تحائف‘‘ | Gifts of Insult 🌻🌹🎁
ازقلم ’Paulo Coelho‘ | مترجم #مُسافرشب`

جاپان میں ٹوکیو شہر کے نزدیک پہاڑوں میں ایک خانقاہ تھی۔ وہاں ایک بوڑھا سمورائی جنگجُو خانقاہی بدھ مَت کی تعلیم دیا کرتا تھا۔ اُس کے متعلق مشہور تھا کہ اپنی ضعیف العمری کے باوجود وہ دشمن کو چِت کر دیا کرتا تھا۔

ایک دوپہر وہاں ایک ایسا نوجوان جنگجُو پہنچا جو اپنے بے جھجھک اور بے دھڑک پَن کی وجہ سے جانا جاتا تھا۔ اُس جنگجو کی ایک خصوصیت تھی کہ وہ بغیر حملہ کیے کسی کو بھی بھڑکا کر اُس کا دماغ ماؤف کر سکتا تھا، یوں دشمن لڑائی میں پہل کر دیتا تھا۔ جنگجُو جانتا تھا کہ بھڑکا ہوا مخالف کہیں نہ کہیں بے وقوفی کر گزرتا ہے، لہذا جنگجو موقع پا کر کامیاب حملہ کر کے مخالف کو پِچھاڑ دیتا تھا۔ نوجوان اب یہی سب کچھ بُوڑھے کے ساتھ کرنا چاہتا تھا تاکہ بوڑھے کی بڑھتی شہرت کا بھانڈا پھوڑا جا سکے۔

اِس نوجوان جنگجُو نے خانقاہ سے باہر ایک کُھلی جگہ پر بوڑھے جنگجُو کو للکار دیا۔ بہت لوگ جمع ہو گئے۔ مگر بُوڑھے نے نوجوان کو بہت انتظار کرایا۔ آخرکار بوڑھا بھی وہاں آن پہنچا۔ اُس کے چہرے پر گہرا اطمینان تھا۔ اچانک نوجوان نے بوڑھے کی جانب کنکریاں پھینکتے ہوئے گالیوں کی بوچھاڑ کر دی۔ بوڑھا مطمئن کھڑا رہا۔ نوجوان کو بھی معلوم تھا کہ کوئی بھی مدبر اور تجربہ کار شخص محض کنکریوں اور گالیوں سے بھڑک نہیں سکتا۔ لہذا اُس نے اگلی چال چلی۔

اب نوجوان باقاعدہ طور پر بوڑھے کے آباؤ اجداد کی شان میں گستاخیاں کرنے لگا۔ اُسے کچھ نام معلوم تھے۔ بوڑھا مسلسل مطمئن حالت میں دیکھتا رہا۔ نوجوان کو حیرت ہوئی کیونکہ جنگجُو قبائل کی ساری عزت و غیرت آباؤ اجداد کے گرد گھومتی ہے۔ مگر بوڑھا کسی بھی طرح پگھل نہیں رہا تھا۔ کہیں وہ بہرہ تو نہیں! اس دوران بوڑھے کے طلباء آپے سے باہر ہونے لگے۔

اب نوجوان آخری حربہ پر آیا جس کی کم ہی نوبت آیا کرتی تھی۔ اُس نے خانقاہی بدھ مَت کے خلاف زبان درازی شروع کر دی۔ مکمل نظام کی موجودگی میں اِسے ڈیڑھ اینٹ کی جماعت کہا۔ اِسے دھوکا دہی کا الزام دیا۔ بوڑھے جنگجُو کے متبرک اساتذہ کی شان میں مغلظات بکنے لگا۔ تمام نظامِ گیان و دھیان کو وقت کا ضیاع کہا۔ بلکہ یہ بھی کہہ دیا کہ عوام کو لُوٹنے اور اپنی الگ سے باغی فوج بنانے کا نام خانقاہی بدھ مَت ہے۔ اور اِس سفاک نظام کا طریقہ یہ ہے کہ نوجوانوں کو نہ نظر آنے والے سبز باغات دکھاتے رہو اور خود اُن کے مال پر عیش کی زندگی گزار لو۔

تاریخ گواہ ہے کہ دین و مذہب کے معاملات بہت نازک ہوتے ہیں۔ اِن پر آئی آنچ کو کبھی برداشت نہیں کیا گیا۔ کئی اقوام اور تہذیبیں اِس حربہ کی نذر ہو کر معدوم ہو گئیں یا کشیدگیاں بڑھ گئیں۔

آخرکار نوجوان ہر وار بے کار جاتا دیکھ کر بوڑھے کے قریب آیا اور اُسے دھوکے باز کہہ کر منہ پر تھوک دیا۔ جب جواب میں کچھ موصول نہ ہوا تو جان بوجھ کر مشتعل طلباء کے قریب سے گزرا تاکہ طلباء اپنے بزرگ معلم کو معرکہء حق و باطل میں گھسیٹ لیں۔ مگر حیرت انگیز طور پر طلباء نے اُسے ہاتھ بھی نہ لگایا۔ نوجوان مایوس ہو کر وہاں سے چلا گیا۔

بوڑھے جنگجُو نے مجمع برخاست کیا اور اپنی خانقاہ میں چلا گیا۔

شام کو طلباء کا ایک وفد بوڑھے جنگجُو کے پاس پہنچا اور نہایت ادب سے کہا ’’اُس نوجوان نے آپ کی اتنی بے عزتی کر دی، بلکہ ہم سب کی ناک کاٹ دی، آپ مطمئن کھڑے رہے۔ آپ نے اپنی تلوار کیوں نہ نکالی؟ یقیناً وہ اکیلا تھا اور ہم سب آپ کے ساتھ تھے۔ اُس کو زندہ جانے نہ دیتے۔ کیا آپ کو نہیں لگتا کہ ہماری جانب سے بہت بزدلی مظاہرہ ہو چکا ہے؟‘‘

سمورائی نے کہا ’’اگر کوئی شخص تمہارے لیے تحفہ لائے مگر تُم قبول نہ کرو تو وہ تحفہ کِس کا ہوتا ہے؟‘‘

سب نے کہا کہ یقیناً جو شخص تحفہ دینا چاہتا ہے اُسی کا رہے گا۔

سمورائی نے کہا ’’غصہ، عداوت اور حسد کا بھی یہی معاملہ ہے۔ جب انہیں قبول نہ کیا جائے تو یہ پلٹ کر اُسی کے منہ پر پڑتے ہیں جو یہ تحائف دینا چاہتا ہے۔ یہ بھی یاد رکھو کہ تلوار اُٹھانے سے پہلے دیکھ تو لو کہ نتیجا کیا ہو گا۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ کمتر مقصد کی خاطر اتنی قیمتی جان ضائع کر بیٹھو۔ ہر خانقاہی روایت یہی تعلیم دیتی ہے۔‘‘

رات کے کسی پہر، نوجوان جنگجُو واپس آ گیا اور بوڑھے سمورائی جنگجُو سے معذرت طلب کر کے حلقہء ارادت میں شامل ہو گیا۔ آدھے راستے میں جب چاندنی نے کوہِ فیوجی کی برفوں کو روشن کر دیا تب اُسے محسوس ہو گیا تھا کہ اُس کا ہتھیار بے شک کارآمد ہے مگر اِس سے دنیا فتح نہیں کی جا سکتی۔

#PauloCoelho #Old #Samurai #Japan #Tokyo •••


بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2775814102649105

جواب چھوڑیں