#اج_کی_کتاب #پھٹتے_آموں_کا_کیس #مصنف_محمد_حنیف_ص…

#اج_کی_کتاب
#پھٹتے_آموں_کا_کیس
#مصنف_محمد_حنیف_صاحب
#مترجم_سید_کاشف_رضا_صاحب
#پبلیشر_مکتبہ_دانیال
#قیمت_950_روپے

محمد حنیف صاحب کے ناول a case of exploding mangoes، کا اردو ترجمہ سید کاشف رضا نے " پھٹتے آموں کا کیس " کے نام سے کیا ہے۔۔ ناول کا موضوع ضیا الحق کے سی ون تھرٹی کی تباہی ہے۔۔۔ ناول کی بنت ایک سچے واقعے کے گرد گھومتی ہے، حقیقی کرداروں کے ساتھ ساتھ فرضی کرداوں کی جاندار تخلیق نے ناول کو بہت دلچسپ بنایا ہے، ناول کو ایک بار شروع کرنے کے بعد آپ اسے چھوڑ نہیں سکتے۔۔ ہر سطر سنسنی اور ہیجان کا پیش خیمہ ہے۔۔۔
••••

تارڑ صاحب نے اس ناول اور ترجمے کے بارے میں لکھا ہیں کہ :

" اے کیس آف ایکسپلوڈنگ مینگوز " اس میں آموں کی اس پیٹی کا بیان ہے جو مرد حق مرد مومن کے طیارے میں
" پٹ " گئی اور پوری قوم ان آموں کی شکر گزار ہوئی مرزا غالب کے آموں کے بعد اگر کوئی آم کام کے نکلے تو وہ سی ون تھرٹی طیارے میں جانے کس کے رکھے ہوئے بس یہی آم تھے جنہوں نے کام تمام کیا اس ناول کے آخری صفحے اتنے طاقت ور اور تخلیقی ہیں کہ انسان مبہوت ہوکر رہ جاتا ہے۔۔۔

ویسے سید کاشف رضا کا یہ ترجمہ اس لائق ہے کہ اسے پڑھ لیا جائے۔۔!!
••••

محمد حنیف صاحب کا یہ ناول 2008 میں شائع ہوا تھا اور اردو ترجمہ پہلی بار 2019 میں، ﻧﺎﻭﻝ ﮐﺎ ﺍﺭﺩﻭ ﺗﺮﺟﻤﮧ ﺷﺎﺋﻊ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺟﻨﺮﻝ ﺿﯿﺎ ﺍﻟﺤﻖ ﮐﮯ ﺑﯿﭩﮯ ﺍﻋﺠﺎﺯ ﺍﻟﺤﻖ ﻧﮯ ﻣﺼﻨﻒ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﺍﺭﺏ ﺭﻭﭘﮯ ﮨﺮﺟﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﻧﻮﭨﺲ بھیجا کہ ناول میں میرے والد کی بے عزتی ہوگئی ہے۔۔ محمد حنیف صاحب نے ایک جگہ بتایا کہ ملک کی خفیہ ایجنسی سے وابستہ افراد نے ان کے پبلیشر کے دفتر پر چھاپہ مار کے ان کے ناول کی کاپیاں ضبط کر لی ہیں۔۔۔ اور اس کے بعد بھی شہر میں کتابوں کی کچھ دکانوں پر چھاپے مارے گئے اور وہاں سے بھی ان کی کتاب کی کاپیاں اٹھا لی گئیں۔۔

••••
ناول پھٹتے آموں کا کیس پر اقبال خورشید صاحب اور محمد حنیف صاحب کا مکالمہ، یہ انٹرویو اقبال خورشید صاحب نے اجراء کے لئے لیا تھا۔۔ ملاحظہ کیجئے :

سوال : ایک ایسا ناول لکھنا، جس میں جنرل ضیا کی موت کا معمّا حل کرنے کی کوشش کی گئی ہو، حقیقی واقعات کو فکشن کے قالب میں ڈھالا گیا ہو، کیا تخلیقی نقطہ نگاہ سے پُرخطر فیصلہ نہیں تھا؟

محمد حنیف : دیکھیں، ناول لکھنے سے پہلے میں نے ادب تو پڑھ رکھا تھا، البتہ میرا پس منظر اُن معنوں میں ادبی نہیں تھا، جیسے یونیورسٹیوں میں ادب پڑھنے والوں کا ہوتا ہے۔ اُنھیں پتا ہوتا ہے کہ فلاں ناول اِس کٹٹیگری کا ہے، فلاں اُس کٹٹیگری کا، دراصل جنتا کم آپ جانتے ہیں، آپ میں خوف بھی اُتنا ہی کم ہوتا ہے۔ لکھتے ہوئے تو قلم ہاتھ میں ہوتا ہے، اور کاغذ سامنے۔ اس وقت کوئی اندیشہ نہیں ہوتا۔ شروع میں تو مجھے لکھنے کا عمل بالکل پُرخطر نہیں لگا، بلکہ یہ بہت پُرتجسس تھا کہ میں ایک حقیقی واقعے پر کہانی لکھ رہا ہوں۔ ہاں ! جب اس کا پہلا ڈرافٹ لکھ لیا، اور چند دوستوں کو دکھایا ہمارے زیادہ تر دوست صحافی ہے، اور صحافی جلدی جوش میں آجاتے ہیں۔۔ تو انھوں نے مجھے ڈرایا کہ یہ کیا کر رہے ہو، مارے جاﺅ گے۔ ایک دوست نے تو مشورہ دیا کہ کرداروں کے نام بدل دو۔ تب میں نے کہا، اگر یہ لکھا جائے گا، تو اِن ہی ناموں کے ساتھ لکھا جائے گا۔ کیوں کہ یہ بہت ہی فضول بات ہوتی۔۔ جنرل ضیا کا نام کچھ اور ہوتا، تب بھی لوگ پہچان لیتے۔ لیکن یہ بات بھی ہے کہ جیسے جیسے حالات بدلتے ہیں، ویسے ویسے کہانیوں کی قبولیت بھی گھٹتی بڑھتی رہتی ہے۔ اگر میں کچھ برس پہلے یہ ناول لکھتا، تو ممکن ہے کہ تھوڑی مشکل پیش آتی۔ اب سے کچھ برس بعد کوئی ایسا ناول لکھے گا، تو شاید اُسے مشکل ہو۔ البتہ جب میں نے لکھا، اُس وقت جن افراد کے ناراض ہونے کا امکان تھا، ان کے لیے میرے ناول سے زیادہ بڑے مسائل موجود تھے۔۔

سوال : ناول کے لیے اِسی واقعے کا انتخاب کیوں کیا؟

محمد حنیف : دیکھیں، آپ بھی کہانیاں لکھتے ہیں۔ اور لکھتے ہوئے آپ کو پتا نہیں ہوتا کہ آپ یہی کہانی کیوں لکھ رہے ہیں۔ دراصل کوئی خیال ذہن میں اٹک جاتا ہے۔ اور برسوں اٹکا رہتا ہے۔ اُسے نکالنے کا حل یہی ہوتا ہے کہ اُسے لکھا جائے۔ چناﺅ کی وجہ بیان کرنا میرے لیے مشکل ہے۔ شاید یہ واقعہ، اس وقت کا ماحول میرے ذہن میں آکر اٹک گیا تھا۔۔ پھر ” مرڈر مسٹری“ میں دل چسپی تھی۔ مجھے لگتا تھا کہ اس طرز کی کہانی میں کسی عہد کو بھی بیان کیا جا سکتا ہے۔ مگر سچ تو یہ ہے کہ لکھتے ہوئے آپ یہ سب نہیں سوچ رہے ہوتے۔۔

سوال : پاک فضائیہ کا ایک آفیسر آپ کے ناول A Case of Exploding Mangoes کا مرکزی کردار ہے۔ آپ خود بھی پاک فضائیہ میں رہے۔ تو کیا آپ کے بیان کردہ مناظر، حالات اور کرداروں کو حقیقی سمجھا جائے؟

محمد حنیف : یہ ایسے ہی ہے کہ آپ اخبار میں کام کرتے ہیں۔ آپ کو پتا ہے کہ کاپی کس وقت ڈاﺅن ہوتی ہے، سب ایڈیٹر کا کیا کردار ہے، ایڈیٹر کی کیا ذمے داری ہے۔ یہ بائیوگرافیکل انفارمیشن آپ کے پاس ہے۔ اب آپ ایک صحافی کی کہانی لکھنے بیٹھیں، جس میں نیوزروم کا منظر ہو، تو ظاہر ہے کہ آپ وہاں کے ماحول اور ردھم سے واقف ہوں گے۔ تو پاک فضائیہ کے تجربے سے مدد ملی۔ آپ کو پتا ہے کہ وردی کیسے پہنی جاتی ہے، جہاز کیسے اڑایا جاتا ہے، سنیئر آفیسر جونیر آفیسر سے کیسے بات کرتا ہے۔ یعنی آپ کو Texture (بُنت) کا علم ہے، مگر اُس معلومات میں کہانی نہیں ہوتی۔ کہانی آپ کو خود لکھنا ہوتی ہے۔۔

سوال : آپ کا کاٹ دار اسلوب، گہرا طنز اور پیش کردہ واقعات جنرل ضیاالحق کے کردار کو سبوتاژ کر دیتے ہے۔ کیا آپ کے نزدیک ایک فکشن نگار کسی حقیقی کردار کو اِس طرز پر پیش کرنے کا حق رکھتا ہے؟

محمد حنیف : میرا نہیں خیال کہ قانون کی کسی کتاب میں یہ لکھا ہے کہ ناول نگار یہ لکھ سکتا ہے، اور یہ نہیں لکھ سکتا ! کم از کم میں نے تو نہیں پڑھا۔ اکثر ایسا ہوا ہے کہ ایک حقیقی واقعے پر ناول لکھا گیا، اس پر اعتراض ہوا، اسیکنڈل بن گیا۔ اس قسم کے اعتراضات کے جواب میں بہت کچھ کہا جاسکتا ہے۔ میں نہیں سمجھتا کہ فکشن نگار کو اِس کا حق حاصل نہیں۔ میرے نزدیک تخلیق کار کا تخیل ہی اُسے درپیش اکلوتی رکاوٹ ہے۔ وہ ہی آپ کو اظہار سے روک سکتا ہے۔ ورنہ مجھے نہیں لگتا کہ کوئی اور شے تخلیق کار کو روک سکتی ہے۔ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ ادب میں کوئی اخلاق باختہ بات نہ ہو، اُن کی نہ تو پہلے سنی گئی ہے، نہ ہی مستقبل میں سنی جائے گی۔ کتاب فقط اسی بنیاد پر پڑھی جاتی ہے کہ اس میں پڑھنے لائق کچھ ہو۔ ہاں، اُس پر اعتراض ہوسکتا ہے، چیر پھاڑ ہو سکتی ہے، مگر یہ سب تب ہی ہوگا، جب کچھ لکھا جائے۔ لکھنے سے پہلے تخلیق کار کے ذہن میں یہ ڈالنا کہ فلاں چیز لکھی جاسکتی ہے، اور فلاں نہیں، ایک بے سود کوشش ہے۔۔

سوال : ناول لکھتے سمے کُلّی طور پر اپنی یادداشت، مشاہدات پر بھروسا کیا، یا معلومات کھوجنے کے لیے دیگر ذرایع بھی برتے؟

محمد حنیف : ہمارے زمانے میں فوجیوں کی زندگی بہت محدود ہوتی تھی۔ آپ بہت کم عمری میں اکیڈمی جاتے ہیں۔ آپ کو اندازہ نہیں ہوتا کہ بیس یا کنٹونمنٹ کے باہر کیا ہو رہا ہے۔ مجھے بھی اُس زمانے میں باہر کی دنیا کا علم نہیں تھا۔ ایئرفورس چھوڑنے کے بعد مجھے اس کا پتا چلا۔ جہاں تک کہانی کی بات ہے، وہ آپ کے ذہن سے نکلتی ہے۔ بعض اوقات آپ کو تکنیکی معلومات درکار ہوتی ہے، جس کے لیے ریسرچ کی جاتی ہے۔ مگر یہ ایسی ہی ہوتی ہے کہ آپ ”یو ٹیوب“ پر جا کر دیکھ لیں کہ پریڈ کیسے ہوتی ہے۔ ناول لکھتے ہوئے اُس زمانے کے بارے میں لکھی کتابیں ضرور پڑھیں، جن سے سمجھنے کی کوشش کی کہ اس وقت کیسی زبان استعمال ہوتی تھی، اخبارات کی سرخیاں کیسی ہوتی تھیں، اداریوں میں کیا لکھا جاتا تھا، لوگوں کا روّیہ کیا تھا۔۔ یہ معلومات براہ راست تو ناول میں استعمال نہیں ہوتی، مگر رائٹر کو اُس ”فریم آف مائنڈ“ میں لے جانے میں معاون ہوتی ہے۔۔

سوال : اندھی زینب کا کردار کیوں کر سوجھا؟ کیا یہ ان دنوں تشکیل پارہا تھا، جب آپ نوجوانی کے مراحل طے کر رہے تھے؟

محمد حنیف : اُس زمانے میں ایسا ایک کیس بہت مشہور ہوا تھا۔ میں نے اخبارات میں اُس سے متعلق تھوڑا بہت پڑھا تھا۔ البتہ کسی دستاویز سے یہ پتا نہیں چلتا کہ بعد میں اس عورت کے ساتھ کیا ہوا۔ دراصل زینب ایک طرح سے حدود آرڈیننس کے تضادات کی علامت بن گئی تھی۔ پھر میرے ساتھ ایک اور مسئلہ بھی تھا۔ ناول کی کہانی بَیس، میس، کنٹوٹمنٹ، جیل یا کسی افسر کے دفتر میں چل رہی ہے۔ تو کہانی کو باہر کی دنیا میں لے جانے کی ضرورت تھی، تاکہ اندازہ ہو کہ مرکزی کرداروں کے فیصلوں کا معاشرے پر کیا اثر پڑ رہا ہے۔۔

سوال : مغرب میں آپ کے ناول کو خالص فکشن کے طور پر دیکھا گیا، یا ایک نیم تاریخی دستاویز کے طور پر؟

محمد حنیف : مغرب میں بھی مختلف طرح کے قاری ہیں۔ برطانوی اور طرح سے پڑھتے ہیں۔ وہ اِسے ناول کے طور پر لیتے ہیں۔ امریکی اس زاویے سے دیکھتے ہیں کہ اس میں ”کولڈ وار“ کا ذکر ہے۔ جرمنی میں لوگ ایسی باتوں پر ہنستے ہیں، جس پر میں حیران ہوتا ہوں کہ کمال ہے، اِن باتوں پر بھی ہنسا جاسکتا ہے (قہقہہ)۔ دراصل ایک ہی کتاب کو پڑھنے والے مختلف افراد اُس پر الگ الگ ردّ ِعمل ظاہر کرتے ہیں۔ البتہ مغرب میں جو ردّ ِعمل یک ساں تھا، وہ کچھ یوں تھا کہ ” اچھا، یہ کتاب پاکستان میں چھپی، پاکستان میں پڑھی گئی، مگر کسی نے کچھ نہیں کہا، کوئی ردّ ِعمل نہیں آیا!“ یہ بات چند لوگوں نے ضرور کہی۔۔۔

سوال : توقع تھی کہ پہلا ہی ناول اتنا مقبول ہو جائے گا؟

محمد حنیف : (مسکراتے ہوئے) بھئی جب آپ لکھ رہے ہوتے ہیں، تو سب سے بڑی توقع یہی ہوتی ہے کہ یہ کسی طرح ختم ہو جائے۔ ناول ایسا ہو کہ اسے پڑھ کر اُبکائی نہ آئے۔ کچھ دوست پڑھ لیں۔ کوئی اسے چھاپ دے۔ پڑھنے والوں تک پہنچ جائے۔ تو یہی میری توقعات تھیں۔ دراصل کتاب چھپنے سے پہلے آپ کوئی پیش گوئی نہیں کر سکتے۔ میرا خیال تھا کہ شاید صحافتی حلقے کے چند لوگ اِسے پڑھیں گے۔ غلطیاں نکالیں گے، اور مجھے اُنھیں بتانا پڑے گا کہ بھائی یہ ناول ہے، تاریخ نہیں۔ مگر مجھے اس بات پر حیرت ہوئی کہ ناول نوجوانوں میں بہت پڑھا گیا۔ جب کبھی میں اپنے بیٹے کے ساتھ اُس کے اسکول جاتا ہوں، تو وہاں اُس کی عمر کے بچے مجھ سے اِس کتاب کے بارے میں بات کرتے ہیں۔ تو نوجوانوں کے ردّ ِعمل سے مجھے خوش گوار حیرت ہوئی، کیوں کہ میں اِس کی توقع نہیں کر رہا تھا۔۔

سوال : بریگیڈیر ٹی ایم کی موت سے مماثل ایک واقعہ، حقیقی دنیا میں محترمہ بے نظیر بھٹو کی زندگی میں پیش آیا تھا۔ فکشن کی دنیا میں اِسے ضیا دور میں رونما کروانے کا کیا سبب رہا؟

محمد حنیف: (ہنستے ہوئے) یہی کہا جا سکتا ہے کہ میں اگلے Chapter تک جانے اور کہانی کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہا تھا۔ دراصل بریگیڈیر ٹی ایم کی طرح اُس میں اور بھی کردار تھے، جو حقیقی دنیا میں وہاں نہیں تھے، جہاں اُنھیں ناول میں دِکھایا گیا، لیکن جیسے میں نے کہا، A Case of Exploding Mangoes ایک ناول تھا، کوئی تاریخی کتاب نہیں۔۔۔

سوال : گو کہ آپ کے ناول کا موضوع سنجیدہ ہے، مگر اس میں ایک خاص نوع کا مزاح ملتا ہے۔ مزاح کو بہ طور آلہ برتنے کا سبب کیا رہا؟

محمد حنیف: دیکھیں، کوئی کتاب خلا میں پیدا نہیں ہوتی۔ لوگ کہتے ہیں، یہ زندگی سے پیدا ہوتی ہے، تجربے سے جنم لیتی ہے، مگر حقیقت میں ہم جانتے ہیں کہ جو کتابیں آپ نے پہلے پڑھی ہوتی ہیں، اُن ہی کی تحریک سے نئی کتاب جنم لیتی ہے۔ تو مرڈر مسٹری، جس میں مزاح بھی ہو، مجھے پسند ہے۔ میرا تعلق ایک چھوٹے شہر سے ہے۔ وہاں کلچر ہے کہ نُکڑ پر بیٹھے لوگ کسی بہت سنجیدہ بات پر بحث کر رہے ہوتے ہیں، مگر آخر میں بات کسی لطیفے پر ختم ہوتی ہے۔ یعنی مزاح ہمارے معاشرے میں ہے۔ مجھے یاد ہے، ہمارے زمانے میں لطیفے بہت چلا کرتے تھے۔ آج کراچی میں آپ نے ایک چٹکلا سنا، کل پشاور میںکوئی آپ کو یہی لطیفہ سنا رہا ہوگا۔ انٹرنیٹ اور موبائل فون نہ ہونے کے باوجود یہ لطیفے حیرت انگیز طور پر پورے ملک میں پھیل جاتے تھے۔ تو مجھے محسوس ہوتا تھا کہ شاید ایک ہی لمحے، ایک سے زیادہ لوگ مختلف جگہوں پر بیٹھے، ایک جیسی بات سوچ رہے ہیں۔ مختصر یہ کہ جو کتابیں میں نے پڑھیں تھیں، اور نُکڑ پر ہونے والے گفت گو سے، جس کا میں نے بچپن میں تجربہ کیا تھا، مجھے یہ تحریک ملی۔۔۔


بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2776661645897684

جواب چھوڑیں