( غیــر مطبــوعــہ ) مری چاہتیں بھی تو خام تھیں&#…

( غیــر مطبــوعــہ )

مری چاہتیں بھی تو خام تھیں' ترے عشــق کو بھی زوال تھا

نہ ہی تجھ کو تھیں مِری چاہتیں' نہ ہی تجھ کو میرا خیال تھا

لئے دل میں کتنی کدورتیں ' یہ جو عمــــــر ساتھ گزار دی

تری صلح جوئی بھی ہے سبب مرے ضبط کا بھی کمال تھا

تو چلا گیـا مجھے چھـــوڑ کر' تو زباں زمانے کو مل گئی

مِرے حق میں تو مِرے مہرباں ! مرے اعتماد کی ڈھال تھا

نہ وہ عشــــق میں رہیں شدّتیں ' نہ وہ گفت گُو میں حــلاوتیں

سو یہ کیوں نہ سمجھوں کہ ہم نفس! ترے دل کے شیشے میں بال تھا

مِرے سامنے وہ نہ تھــا مگر ' مِری روح میں رہا جـلوہ گر

کہ جدھر جدھر بھی نظر گئی ' تو اسی کا عکسِ جمـال تھا

یہ جو مجھ سے تو ہے خفا خفا ' یہ بتا ذرا ! ہوئی کیا خطا

یہی اب بھی تجھ سے سَـــوال ہے' یہی ایک میرا سَـوال تھا

اب اُسی کے بِن مِری زندگی جوگزر رہی ہے ہنسی خوشی

کبھی ایک لمحـــہ گزارنا بھی بغیـــر جس کے محـــــال تھا

( نائلـہ ؔ راٹھـور )

— with Naila Rathore.

جواب چھوڑیں