(تخمیس بر غزلِ غالب) ملی کیا شے ازل میں، ایک قسمت…

(تخمیس بر غزلِ غالب)

ملی کیا شے ازل میں، ایک قسمت، واژگوں وہ بھی
اُسی سے زندگی وابستہ، لیکن بے سکوں وہ بھی
جو کچھ سرمایۂ عمرِ دو روزہ تھا، کہوں وہ بھی
بساطِ عجز میں تھا ایک دل، یک قطرہ خوں وہ بھی
سو رہتا ہے بہ اندازِ چکیدن سرنگوں وہ بھی

محبت گو ہے بیگانہ تصنع سے، تکلف سے
مگر جب غیر بھی رہنے لگے کچھ بے تکلف سے
ممیز اُن سے اپنے کو کیا ہم نے تکلف سے
رہے آزردہ ہم اُس شوخ سے چندے تکلف سے
تکلف برطرف تھا ایک اندازِ جنوں وہ بھی

اجل کے آسرے پر ہم نے چاہا تھا کہ دل ٹھہرے
ٹھہر جاتا، جو ہوتے صرف جیتے جی کے یہ صدمے
نہ ہو جب مر کے بھی امیدِ آسائش تو پھر کہیے
خیالِ مرگ کب تسکیں دلِ آزردہ کو بخشے
مرے دامِ تمنا میں ہے اک صیدِ زبوں وہ بھی

فغاں سے پیشتر بھی دل تڑپتا تھا مگر کم کم
معاذ اللہ اب تو یہ تپش کا ہو گیا عالم
کہ گویا اک جہانِ بے قراری ہے دلِ پُرغم
نہ کرتا کاش نالہ مجھ کو کیا معلوم تھا ہمدم
کہ ہو گا باعثِ افزائشِ دردِ دروں وہ بھی

تغافل، دل ستانی کا ہے کوئی راز؟ فرماؤ
تکبر، دل بری کا ہے کوئی انداز؟ فرماؤ
نہ یوں خونِ تمنائے دلِ جاں باز فرماؤ
نہ اتنا بُرّشِ تیغِ جفا پر ناز فرماؤ
مرے دریائے بے تابی میں ہے اک موجِ خوں وہ بھی

ملے آرام زیرِ چرخ، کیا یہ حوصلا کیجے
امیدِ کامیابی ہو تو عرضِ مدعا کیجے
تہی ظرفوں سے کیوں بے کار کوئی التجا کیجے
مئے عشرت کی خواہش، ساقیِ گردوں سے کیا کیجے
لیے بیٹھا ہے اک دو چار جامِ واژگوں وہ بھی

یہ سچ ہے، رہتے ہیں عاشق کے دل میں اس قدر ارماں
کہ مانی کے بقول اُن کا بیاں ہے خارج از امکاں
مگر سن مجھ سے دو لفظوں میں شرحِ حسرتِ پنہاں
مرے دل میں ہے غالب، شوقِ وصل و شکوهٔ ہجراں
خدا وہ دن کرے، جب اُس سے میں یہ بھی کہوں وہ بھی

(سید کلب احمد مانی جائسی)
فروری ۱۹۱۵ء

جواب چھوڑیں