“پائلٹ کی غلطی”والی کہانی۔۔نصرت جاوید

ٹی وی سکرینوں کے ذریعے جو ’’صحافت‘‘ ہوتی ہے اس کے بارے میں ’’چسکہ فروشی‘‘اور ’’سرخی پائوڈر‘‘ والی اصطلاحات کو مجھ بدنصیب ہی نے پرنٹ سے ٹی وی صحافت کی جانب منتقل ہونے کے بعد متعارف کروایا تھا۔ Ratingsکے ریکارڈ بناتے ہوئے میرے کئی ساتھیوں نے فراخ دلی کے ساتھ میرے پھکڑپن کو برداشت کیا۔میری عمر کی لاج رکھی۔ جب بھی ملے انتہائی خلوص سے مجھ سے ’’سیکھنے‘‘ کی تمنا کا اظہار کرتے رہے۔ہمارے معاشرے میں اس رویے کو ’’آنکھ کا لحاظ‘‘ اور ’’بزرگوں کا احترام‘‘ کہا جاتا ہے۔ذاتی حقیقت یہ بھی ہے کہ جب میرے اندر کا ’’آتش‘‘ جوان تھا تو اپنے پیشے کے چند افراد کے علاوہ باقی ’’بزرگوں‘‘ کا میں نے شاذہی لحاظ کیا۔ اپنے ’’ہنر‘‘ پر اِتراتارہا۔یہ ’’مان‘‘ مگر میرے کسی کام نہیں آیا۔ عمر کے آخری حصے میں پہنچا ہوں تو ’’میرخوار‘‘ ہوئے پھررہا ہے۔’’کوئی پوچھتا نہیں۔‘‘

صحافت مگر پیشہ ہی نہیں علت بھی ہے۔مرتے دم تک جان نہیں چھوڑتی۔ اسی علت کے ہاتھوں جمعتہ الوداع کے روز لاہور سے کراچی جانے والی پرواز کے سانحے کی بابت خبر سوشل میڈیا کی بدولت ملی تو طویل عرصے کے بعد اپنے کمرے میں لگے ٹی وی کو آن کرلیا۔

مزید گفتگو سے قبل نہایت ایمان داری سے یہ اعتراف کرنے کو مجبور ہوں کہ مذکورہ سانحے کے حوالے سے ’’لمحہ بہ لمحہ باخبر‘‘ رکھنے کے نام پر بے تحاشہ ایسے مناظر سکرینوں پر دکھائے جارہے تھے جو صحافتی اخلاقیات کی مبادیات کو جاہلانہ نہیں بلکہ سفاکانہ انداز میں پامال کررہے تھے۔سوشل میڈیا پر چھائے صاحب دل نوجوانوں کی ایک مؤثر تعداد اس کی وجہ سے بہت چراغ پا ہوئی۔ طیش کے عالم میں انہوں نے ہمارے میڈیا کی مذمت شروع کردی۔

ان کا غصہ برحق۔ دُنیا بھر میںلیکن ٹی وی کے لئے ہوئی ’’صحافت‘‘‘ کا چلن ایسا ہی ہے۔ جرمن زبان میں اس کے لئے ایک اصطلاح استعمال ہوتی ہے۔ہماری زبان میں اسے ’’کچرا‘‘ کہا جائے گا۔ حقیقت مگر یہ بھی ہے کہ ٹی وی سکرینوں پر ’’کچرا‘‘ ہی بکتا ہے۔بھارت میں گوسوامی نامی اینکر کو سٹار بنادیتا ہے۔امریکہ کاکامیاب ترین تصور ہوتا Foxٹی وی اسی طرزِ صحافت کا حتمی نمائندہ ہے۔یہ ڈونلڈٹرمپ کا پسندیدہ نیٹ ورک ہے۔ان دنوں Covid-19کو معمول کا ’’نزلہ زکام‘‘ پکارتے ہوئے کاروبار زندگی بحال کرنے کی مہم چلارہا ہے۔عوامی جمہوریہ چین کو کرونا کی وباء دُنیا بھر میں پھیلانے کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے اس ملک کے خلاف نسل پسندانہ نفرت کو بھی فروغ دینے میں مصروف ہے۔

فروعات میں اپنا اور آپ کا وقت ضائع کرنے کا مگر مجھ میں اس وقت حوصلہ نہیں۔ٹھوس حقیقت ہے تو فقط اتنی کہ عید سے دو روز قبل ہوئے اس سانحے نے پوری قوم کو ادا س کردیا۔کرونا کی بدولت کئی مہینوں سے خوف کی زد میں آئے ہم پاکستانی عید کے تہوار کو اپنا غم بھلانے کے لئے کماحقہ استعمال نہیں کر پائے۔ہفتے کی سہ پہر سے یہ قضیہ بھی پھوٹ پڑا کہ عید کا چاند فواد چودھری صاحب کا ’’سائنسی‘‘ رویہ آسمان پر طلوع کروائے گا یا اس کے نمودار ہونے کی خبر ہمیں مفتی منیب الرحمن صاحب کی وساطت ہی وصول ہوگی۔

میری چھوٹی بیٹی کو لاک ڈائون کے موسم میں کھانے پکانے کا شوق لاحق ہوچکا ہے۔عید کی دوپہر وہ ہمارے اور دیگر مہمانوں کے لئے پلائو دم کرنا چاہ رہی تھی۔اسے تیار کرنے سے قبل ہاتھوں پر مہندی لگوانے کو بے چین تھی۔ہفتے کی رات کے دس بجے تک طے ہی نہ کرپائی کہ اتوار کے روز عید ہے یا نہیں۔بالآخر یہ طے ہوگیا تو محض پلائو تیار کرنے پر ہی اکتفا کرنا پڑا۔

فواد چودھری صاحب کے بے تحاشہ مداحین جن کی ایک بڑی تعداد تحریک انصاف کی شدید ناقد بھی ہے اتوار کے روز ہوئی عید کی بابت بہت شاداں ہیں۔ان کا اصرار ہے کہ بالآخر وطنِ عزیز میں ’’سائنس‘‘ جیت گئی۔عید منانے کے لئے ہمیں اب رویت ہلال کمیٹی کی جانب سے اعلان کی ضرورت نہیں رہی۔تحریک انصاف کے جید متوالے فی الوقت مگر ’’اس حد تک‘‘ جانے کو تیار نہیں۔ان کی حقیقی خوشی بلکہ فخر کا باعث یہ خبر رہی کہ ’’پاکستان میں پہلی بار‘‘ ملک بھر میں عید کا تہوار بغیر کسی تنازعہ کے ایک ہی روز منایا گیا ہے۔عمران حکومت کے طفیل ہمارے ملک میں ’’پہلی بار‘‘ والے ایسے کئی خوش گوار واقعات ہوئے چلے جارہے ہیں۔ایسی خوش بختیاں ماضی کی حکومتوں کو نصیب نہیں ہوئی تھیں۔گماں ہوتا ہے کہ ہمارے حصے میں آئی (یا آیا) ’’نرگس‘‘ جو ہزاروں سال رونے کی عادی ہوا کرتی ہے بالآخر چمن میں ’’دیدہ ور‘‘ کی آمد سے لطف اندوز ہوناشروع ہوگئی ہے۔

گزشتہ جمعہ کے روز ہوئے سانحے نے لیکن مجھے ذاتی طورپر بہت پریشان کررکھا ہے۔ایوی ایشن جیسے دقیق اور پیچیدہ علم کے بارے میں قطعی نابلد ہوتے ہوئے بہت سے پاکستانیوں کی طرح ابتدائی طورپر میں یہ سوچنے کو مجبور ہوا کہ غالباََ پرواز کی اجازت دینے سے قبل کسی طیارے کی جو جانچ پڑتال ہوتی ہے وہ معیار کے عین مطابق نہ تھی۔ ’’ڈبل کرواستاد‘‘ والا رویہ اپنایا گیا۔ اسی باعث اس بدنصیب طیارے کا انتہائی تجربہ کار پائلٹ اسے معمول کے مطابق کراچی ایئرپورٹ پراتارنہیں پایا۔مرحوم جان سے گئے۔ سینکڑوں گھرانوں میں اس سانحے کی وجہ سے صفِ ماتم بچھی۔ لاکھوں پاکستانیوں کے جی مسوس ہوکر رہ گئے۔

جبلی طورپر یہ طے کرنے کے بعد مجھ جیسے لوگوں کے پاس اس کے سوا کوئی اور راستہ ہی باقی نہیں رہا کہ حادثے کی وجوہات طے کرنے کے لئے بنائی انکوائری کمیٹی کی حتمی رپورٹ کا انتظار کیا جائے۔خالص معقولیت پر مبنی اس رویے کو اختیار کرنے میں لیکن یہ حقیقت بھی مانع آتی ہے کہ ہمارے ہاں ہوئے فضائی حادثوں کی ’’اصل وجوہات‘‘ بالاخر سادہ الفاظ میں ہم بے بس ولاچار لوگوں کو کوئی بتاتا ہی نہیں۔

جنرل ضیاء الحق سے شدید نفرت کرنے والے بے تحاشہ افراد بھی خلوص دل سے یہ جاننا چاہ رہے تھے کہ 17اگست 1988کے دن انہیں بہاولپور سے اسلام آباد لانے والے طیارے کے ساتھ حقیقتاََ کیا ہوا تھا۔اس سوال کا تسلی بخش جواب فراہم کرنا ضروری تھا۔معاملہ فقط جنرل صاحب کی ذات سے متعلق ہی نہیں تھا۔اس بدنصیب جہاز میں ہمارے کئی اعلیٰ ترین فوجی اور سول افسر بھی موجود تھے۔ان دنوں پاکستان میں تعین امریکی سفیر-آرنلڈرافیل- بھی اس حادثے کی نذر ہوئے۔ موصوف کے ساتھ میری کافی بے تکلفی تھی۔ میں انہیں Your Excellencyپکارنے کے بجائے ’’آرنی‘‘ کہتے ہوئے مخاطب کرتا۔ حادثے سے محض تین روز قبل 14اگست 1988کے دن میری ان سے ملاقات بھی ہوئی تھی۔اس روز ہمارے The Nationمیں جنرل ضیاء الحق کا ایک تفصیلی انٹرویو چھپا تھا۔ موصوف نے تعطیل کے دن اپنا دفتر کھلوایا۔ سہ پہر کی چائے پر کرید کرید کو مذکورہ انٹرویو کی بابت سوالات پوچھتے رہے۔ ہماری ملاقات سے چند لمحے قبل ان دنوں عمران حکومت کے اٹارنی جنرل خالد جاوید خان صاحب کے والد پروفسر این ڈی خان کی بھی ان سے ملاقات ہوئی تھی۔ ہمیں موصوف نے صرف یہ بتایا کہ پروفیسر صاحب محترمہ بے نظیر بھٹو صاحبہ کا ’’اہم پیغام‘‘ لے کر آئے تھے۔

اصل موضوع کی جانب لوٹتے ہوئے مجھے اصرار فقط یہ کرنا ہے کہ ہمارے ہاں 17اگست 1988جیسے انتہائی ہائی پروفائل فضائی حادثے کے بارے میں بھی ذہنوں میں کھدبد کرتے تمامتر سوالات کے تسلی بخش جواب دیتا سچ سامنے نہیں آیا۔ جمعتہ الوداع کے روز ہوئے سانحے کے بارے میں حقائق عیاں ہونے کا انتظار کرنے کو لہذا دل آمادہ نہیں ہورہا۔

ہم پاکستانیوں کو’’حقائق‘‘ جاننے کی حقیقی معنوں میں تڑپ ہی محسوس نہیں ہوتی۔ہم صرف اپنے دلوں میں پہلے سے موجود تعصبات کا اثبات کرنے والے ’’حقائق‘‘ کے منتظر رہتے ہیں۔ہماری یہ کمزوری حکمران اشرافیہ کو اپنی پسند کے ’’حقائق‘‘ مرتب کرنے میں بے پناہ مدد فراہم کرتی ہے۔میں یہ جان کر لہذا ہرگز حیران نہیں ہوا کہ بتدریج ہمارے ذہن میں کمال مہارت سے یہ بات بٹھائی جارہی ہے کہ پرواز کرنے سے قبل سانحے کا شکار ہونے والا طیارہ بالکل Fitحالت میں تھا۔ لینڈنگ کے قریب اچانک ہنگامی صورت حال نمودار ہوگئی۔ بدنصیب پائلٹ اس صورت حال سے نبردآزما نہ ہوپایا۔’’پائلٹ کی غلطی‘‘‘ والے تاثر نے مرحوم کے لواحقین کو جائز بنیادوں پر پریشان کیا۔وہ اس ضمن میں چند سوالات ایک پریس کانفرنس کے ذریعے اٹھانا چاہ رہے تھے۔ گورنر پنجاب نے ان کی خاموشی Manageکرلی۔

’’پائلٹ کی غلطی‘‘ والی کہانی کو قابل اعتبار بنانے کے لئے Youtubeپر Juan Browneنام کا ایک شخص بھی متحرک ہوگیا ہے۔یہ امریکی شہری “Blancolirio”نام سے ایک چینل چلاتا ہے۔اپنی تھیوری کو ثابت کرنے کے لئے اس نے جو آخری وڈیو تیار کی ہے یہ کالم لکھنے سے قبل اسے پانچ لاکھ سینتیس ہزار (537,000)افراد دیکھ چکے تھے۔ میں نے جو نام لکھے ہیں انہیں گوگل کے سرچ انجن پر ڈالیں۔وڈیو نمودار ہونے کے بعد انتہائی غور سے اسے دیکھیں۔ اسے دیکھنے کے بعد آپ بآسانی یہ طے کرسکتے ہیں جمعہ کے روز ہوئے سانحے کی بابت جو انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی ہے وہ بالآخر ممکنہ طورپر کونسے ’’حقائق‘‘ ہمارے سامنے لاسکتی ہے۔

نوائے وقت




بشکریہ

جواب چھوڑیں