"بھائیو! آپ پر خدا کا قہر اس لیے ٹوٹا کہ آپ ت…

"بھائیو! آپ پر خدا کا قہر اس لیے ٹوٹا کہ آپ تھے ہی اس لائق۔۔ پہلی بار خدا نے یہ وبا کافروں کے خاتمے۔۔ اور فرعون کی سر کشی کی وجہ سے نازل کی تھی۔ طاعون نے اسے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا تھا۔ سو بہتر ہے کہ ہم بھی اس کے سامنے اب گھٹنوں پر آجائیں۔۔" فادر کے ان الفاظ پر کئی لوگ گھٹنوں پر جھک گئے۔

"پس نیکو کاروں کو بے فکر رہنا چاہیے۔۔ کہ طاعون خدا کی سوٹی ہے جس سے وہ اپنی زمین کی صفائی کرتا ہے، پھر گیہوں سے گھن جدا ہو جاتا ہے۔ مگر اب گیہوں کم ہے اور گھن زیادہ۔۔ (موت کا) فرشتہ اب بھی آپ کی بستی اور گھروں میں موجود ہے۔۔۔ بس خدا اپنے گھر میں صرف آپ کی حاضری مستقل اور تا دیر چاہتا ہے۔۔"

''دیوانہ' گرینڈ نے کہا اور ریکس کو ہانکتے ہوئے، وہاں سے باہر لے آئے، اگر یہی حال رہا تو قصبہ پاگل خانے میں تبدیل ہو جائے گا۔۔۔
موذی امراض کی ابتداء اور ان کے انجام سے جانے کیوں خطیب حضرات کو خاصی دلچسپی ہوتی ہے۔۔"

"فادر پینلکس کے وعظ کے فوراً بعد گرمی نے اپنا بدلہ اتارا اور سورج بستی پر آگ برسانے لگا۔۔اموات سات سو تک پہنچ گئیں۔ قصبے پر شدید مایوسی چھا گئی۔۔ پہلے کچھ گھروں سے جب طاعون کے مریضوں کے کراہنے کی آواز آتی تو لوگ وہاں جمع ہو جاتے، مگر وقت کے ساتھ ساتھ لوگوں کے دل سخت ہونے لگے، وہ ان آہوں اور کراہوں سے یوں گزر جاتے جیسے یہ کوئی عام سی بات ہو۔۔"

"طاعون نے اپنا بدلہ یوں لیا کہ مرگستان میں تابوت، چادریں اور قبرستان میں گنجائش کم پڑ گئی، مجبوراً لوگوں کو اجتماعی جنازوں اور قبروں پر راضی ہونا پڑا۔ پھر وہ وقت بھی آیا جب صرف پانچ تابوت رہ گئے۔۔جو مردوں کو قبروں میں اگل کر واپس آجاتے۔۔۔ ریکس کے کہنے پر دو گڑھے کھودے گئے۔ ایک مردانہ، ایک زنانہ، مگر یہ تفریق بھی زیادہ دیر قائم نہ رہ سکی۔ ایمبولینس برہنہ لاشوں کو ان گڑھوں میں سرکا کر پلٹ آتی اور چونے کی ایک اور تہہ بچھا دی جاتی۔۔۔"

"صبح انھوں نے فادر کو پہلے سے بد تر حالت میں پایا۔ وہ بستر پر نیم مردہ پڑے چھت کے پنکھے کو گھور رہے تھے۔۔۔ انھوں نے خاتون سے کہا کہ انھیں کسی ڈاکٹر کی ضرورت نہیں، بس سیدھا ہسپتال پہنچا دیا جائے تاکہ قانون کی پاسداری ہو سکے۔۔ یہ لفظ ان پر قیامت کی طرح ٹوٹے۔ انھوں نے فوراً ڈاکٹر کو فون کر کے بلا لیا۔۔ کوئی امید کارگر نہ ہوئی، رات فادر کی حالت خاصی بگڑی اور صبح ان کے انتقال کی خبر آگئی۔

کارڈ پر مبینہ لکھا ہوا تھا۔۔ طاعون!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
البرٹ کامیو کے ناول The Plague سے چند اقتباسات۔
اس ناول کا اردو ترجمہ عمار اقبال نے 'مرگستان' کے نام سے کیا ہے۔
ناشر: بک ٹائم کراچی


بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2788609121369603

جواب چھوڑیں