( غیــر مطبـوعـہ ) گُل محبت کا خزاؤں کے مقابل آیا…

( غیــر مطبـوعـہ )

گُل محبت کا خزاؤں کے مقابل آیا
اک دیا جیسے ہواؤں کے مقابل آیا

میں نےحالات کے ہاتھوں تجھے ہارا تھا مگر
پھر مرا ہاتھ دعاؤں کے مقابل آیا

اس نے ہنستے ہوئے آنکھوں سے ہٹایا ساون
اک شجر دھوپ سے چھاؤں کے مقابل آیا

نیند سے جاگ کے دیکھا ترا چہرہ ہم نے
یوں لگا چاند گھٹاؤں کے مقابل آیا

یہ بغاوت مرے شجرے نے انڈیلی مجھ میں
میرا انکار خداؤں کے مقابل آیا

( سِـدرہ سَـحَـر ؔ عمـران )

— with Sidra Sahar Imran.

جواب چھوڑیں