تاریخ گُم گَشتہ: خاتمہ کتاب (Epilogue) مائیکل مورگن – ترجمہ: ناصر فاروق

اس تحریر کا پچھلا حصہ اس لنک پہ ملاحظہ کریں۔

یورپ کا عروج اور مسلم دنیا کا زوال

آج وقت بہت تیزی سے آگے بڑھ 159چکا ہے؛ لگتا یوں ہے کہ زیادہ تر لوگ اب رُک کر سانس تک لینا نہیں چاہتے۔ کچھ لوگوں کے لیے تاریخ غیر متعلق ہے؛ وہ یقین رکھتے ہیں کہ وہ ’’تاریخ کے اختتام‘‘ سے گزرچکے ہیں، اور ایک نئی دنیا میں داخل ہوچکے ہیں، تیزی سے ترقی کرتی ہوئی اک ایسی دنیا جووقت سے بے نیازہوچکی ہے، بلکہ وقت سے بھی آگے نکل چکی ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اپنی بے بہا دولت، طاقت، اور ٹیکنالوجی سے تاریخ کے قوانین مٹھی میں لے سکتے ہیں (۱)۔ .اکثران حضرات نے محسوس کیا ہے کہ تاریخ کی تکریم ضروری نہیں، یا اس سے بے خبری ہی اچھی ہے، تاریخ جاننے نہ جاننے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

دیگر لوگوں کے لیے، ماضی گُزرے ہوئے لمحے جتنا اہم ہے، اور زندگی کے ہرپہلو پر ہمہ وقت پوری قوت سے ظاہرہورہا ہے۔ یہ لوگ دور حاضر کی ’’طاقت‘‘ سے بالکل بھی نہیں بہکے(۲)۔ ان کے لیے، ماضی حال سے عظیم تر ہے، اورکبھی یہ متواترصدیوں سے جاری انتقامی جھگڑوں کے اسباب جاننے کا ذریعہ بھی ہوتا ہے۔ یہ لوگ جب تک ماضی کی حقیقی یا تصوراتی بدافعالیوں اور جرائم پر سے پردہ نہیں ہٹادیتے، سکون سے نہیں بیٹھتے۔
ایسی صورتحال میں مستقبل کے امکانات کیا ہوسکتے ہیں کہ جب ’تصور تاریخ‘ اور ’تصور وقت‘ پرہمارا اتفاق رائے نہ پایا جاتا ہو؟مستقبل کی تعبیر کا کوئی تیسرا رستہ ہے؟ ایسا رستہ جو حال کی حقیقت کا ادراک کرے اور ماضی کی حقیقتوں کی قدر پہچان سکے؟

آج کی دنیا میں، بہت سوں کے لیے دمشق، بغداد، قرطبہ، قاہرہ، سمرقند، اصفہان، آگرہ، اور استنبول کے سنہرے ادوار دور ازکار رفتہ ہیں، اور اکثر کے لیے یہ ناقابل بازیاب ہیں۔ انگلستان کا ہندوستان پر قبضہ، نپولین کی مصرپر حکمرانی، یورپ کی افریقا، مشرق وسطٰی، اور ایشیامیں نوآبادیاتی مہمات، پہلی عالمی جنگ کے اختتام پر خلافت عثمانیہ کے حصے بخرے، یہ سب غیر معمولی اور استثنائی تہذیبی ترقی پرمہلک ضرب ثابت ہوئے(۳)۔

تاریخ اس نازک مرحلہ پر کسی اور رُخ پربھی نکل سکتی تھی۔ پندرہویں صدی کے اواخر اور سولہویں صدی کا یہ دوروہ تھا کہ جب چین، ہندوستان، مسلم دنیا، اوریورپ میں بہ مشکل ہی کوئی عدم توازن تھا، یورپ کا کوئی بھی حریف اسپین، پرتگال، اور برطانیہ کی طرح نوآبادیاتی مہمات کا عزم کرسکتا تھا۔ چینی باآسانی بحر الکاہل سے جُڑی آبادیوںکی کھوج میں نکل سکتے تھے، عثمان ترک شاید بحر اوقیانوس پرمکمل اقتدار ہی قائم کرچکے ہوتے۔ کیا ہوتا کہ اگر جنوبی و شمالی امریکا، اور جنوب مشرقی ایشیا میں یورپیوں، چینیوں، اورترکوں کے مابین نوآبادیاتی کشاکش ہوتی؟ کیا ہوتا اگر ترک اور چینی نئی کالونیاں مستحکم کرچکے ہوتے، مقامی معیشتوں اور معاشروں، اور علمی روایتوں پرا ثر انداز ہوچکے ہوتے، اور اپنی اصلاحات نافذ کرچکے ہوتے، اور سمندر پارسلطنتوں کی ضروریات پوری کرچکے ہوتے؟ کیا ایسی صورتحال میں یورپی نشاۃ ثانیہ اور دور تنویرانتشار کی نذرنہ ہوچکا ہوتا؟ مصنف کا یقین ہے کہ ایسا ہوسکتا تھا۔ مسیحیت مزید مادہ پرست مخالف اور مذہبی جنونی ہوچکی ہوتی؛ بادشاہی سلسلہ میں چند انحرافات واقع ہوجاتے، توانکوئزیشن انگلینڈ میں قائم ہوسکتی تھی۔ کرام ویل انگریزی سیاسی فلسفہ کا روح رواں بن کرسامنے آجاتا، اور جان لاک کوکوئی بھی نہ جانتا۔

اس متوازی کائنات میں، مسلم دنیا بھی کچھ کی کچھ بن کر تاریخ پرجلو گر ہوسکتی تھی، یہ یورپی نشاۃ ثانیہ اور دور تنویرکی قیادت بھی کرسکتی تھی، اوراس کے سارے ثمرات بھی سمیٹ سکتی تھی، وہ ثمرات کی جس کی تخم ریزی اور آبیاری درحقیقت خودانھوں نے ہی کی تھی۔ مسلمان’’ دور دریافت‘‘ کے رہنما بھی ہوسکتے تھے، مگر یہ دور یورپی عیسائیوں کونصیب ہوا۔ مصنف کویقین نہیں کہ یورپی مغرب کا کوئی عروج ناگزیر تھا۔ تاریخی اور انسانی تناظر میں اسلامی تہذیب کا زوال ایک المیہ تھا۔ آخر یہ کیونکر ہوا کہ وہ معاشرے جنھوں نے صدیوں تک دنیا کے بہت سے حصوں میں علم کی پرورش کی، یورپی فکر کو اڑان بخشی، اور سائنس کی بنیاد رکھی، کس طرح رو بہ زوال ہوگئی؟ مؤرخین اور علماء ہمیشہ اس سوال پرغور کرتے رہیں گے۔ کیونکہ اس کا کوئی ایک جواب نہیں ہے، کئی ایسے عوامل ہیں جنھوں نے اس زوال میں اپنا حصہ ڈالا ہے۔ کچھ نتائج خالص بدقسمتی سے برآمد ہوئے ہیں، کچھ تہذیبی ارتقاء کا نتیجہ ہیں۔

اسلام کا جغرافیہ تہذیبوں کی جائے پیدائش ہے۔ میسوپوٹیمیامیں چند ثقافتیں پروان چڑھیں، اور چند تہذیبوں کی آبیاری وادی نیل اور وادی ہند میں ہوئی۔ یہ ہری بھری وادیاں چند ہزاریوں میںصحرا بن گئیں، معاشی مواقع انتہائی گھٹ گئے۔ مسلم دنیا کے قلب میں وسطی ایشیا سے مسلسل حملوں کی لہر چلی۔ منگولوں، سلجوقیوں، اور عثمان ترکوں نے بتدریج تباہی مچائی۔ جبکہ وسطی اور مغربی یورپ اس دوران تباہی اور انتشار سے محفوظ رہے، یہاں ترقی کے مواقع پیدا ہوتے چلے گئے۔ جبکہ مشرق وسطٰی، ایران، اور ترکی کواپنی تعمیر ازسرنو کرنی پڑی۔
سترہویں صدی میں، جب یورپی قوموں نے شمالی اور جنوبی امریکا میں نوآبادیاں قائم کیں، سمندر پارسے بے بہا دولت یورپ منتقل ہوئی، وہ اس قابل ہوئے کہ مسلم دنیا میں بھی مہم جوئی کرسکے۔

مسلم دنیا میں یورپی استعماریت، مشرق وسطٰی، ایران، افریقا، ہندوستان، اور جنوب مشرقی ایشیا میں نوآبادیوں کا قیام آخری جھٹکا ثابت ہوا۔ نوآبادیاتی نظام نے مسلم دنیا کو شدید معاشی تباہی سے دوچار کیا، جس سے خلاصی میں صدیاں لگ گئیں۔

تعلیم، سائنس، اور تحقیق میں ترقی کا انحصار سرکاری سرپرستی پر ہوتا ہے، مگرمسلم سائنس اُس وقت زوال پذیر ہوگئی جب حکمرانوں نے سارے وسائل دفاعی امور پر لگادیے، یہ سلسلہ سولہویں صدی کے بعد شروع ہوا۔ یورپ کا عروج اور مسلم دنیا کا زوال ایک ہی سکے کے دورخ بن کر سامنے آئے۔

اکیسویں صدی تک، مسلم علم و تحقیق کے مراکز ترقی پذیر دنیا کا حصہ بن چکے تھے، اور یہاں کے مسائل میں گھرچکے تھے۔ غربت، معاشی بدحالی، اور سیاسی عدم استحکام عام ہوچکا تھا۔ مسلمانوں کی درخشاں تاریخ گُم گَشتہ ہوچکی تھی۔

دنیا ایک بار پھر بدل رہی ہے۔ مسلم دنیا میں پھرعلم اور تحقیق کے مراکز قائم کیے جارہے ہیں۔ یورپ اور امریکا میں مسلم تارکین وطن کی آبادیاں جہاں تہذیبی کشمکش کا سبب ہیں، وہیں نت نئے تفکرات اور تفہیمات کے سلسلے بھی قائم ہوگئے ہیں۔

گو ابتدائی مسلم سنہرے ادوار زمانہ ہوا رخصت ہوچکے ہیں، مگر نئے پیدا ہورہے ہیں، حالانکہ آج کی سرخیاں اس کے برعکس ہی ظاہر کررہی ہیں۔ ماضی کی بازیافت میں مستقبل پرنظر کرنا شاید بہترین رہنما اصول ہے، جیسا کہ نو صدیوں پیچھے ریاضی داں شاعر عمر خیام نے ایمان کے اعتراف میں کہا تھا:

ہم دونوں تم اور میں ایک ہی صورت پر پیدا ہوئے
گرچہ کہ کچھ ڈوب جائیں گے کچھ ابھر جائیں گے
ہم سب ہی خاک ہیں، خاک ہوجائیں گے۔ ۔ ۔ اس سے زیادہ کچھ نہیں!

حواشی
۱۔ اس خاتمہ کتاب کا ترجمہ جس وقت ضبط تحریر میں لایا جارہا ہے، دنیا کورونا وائرس کی لپیٹ میں ہے۔ تاریخ کے قوانین کومٹھی میں کرنے کا گُمان خاک ہوچکا ہے۔ وقت کی رفتارسے آگے نکلنے کا گُمان کرنے والوں کو وقت نے ایک جست میں بہت پیچھے دھکیل دیا ہے۔ ایک حقیر سے وائرس نے دو ہفتوں میں جدید سائنس کے انسان کوتباہی کے دہانے پرپہنچادیا، واشگاف کردیا ہے کہ تاریخ کے الٰہیاتی قوانین اٹل ہیں، جب بھی بے پناہ طاقت اور قوت کا غرورسرچڑھے گا، سرنگوں کردیا جائے گا۔

۲۔ مائیکل مورگن کا یہ موازنہ گہ کہ سن 2007کی بات ہے، لیکن تاریخ فہمی کی عمدہ عکاس ہے۔ آج جب کہ دور حاضرکی ’’طاقت‘‘ کا غرور کورونا وائرس کے ہاتھوں خاک ہوچکا ہے، تاریخ فہمی کی اہمیت اور ماضی سے واقفیت کی ضرورت واضح ہوچکی ہے۔

۳۔ یہ ایک مستند اور ذمے دار مغربی مؤرخ کی اہم گواہی ہے، اور یہ گواہی نیشنل جیوگرافیکل جیسے ادارے کی اشاعت میں شامل کی گئی ہے، کہ صنعتی انقلاب اور نوآبادیاتی مہمات انسانی تہذیب کی نشوونما کے لیے مہلک ضرب ثابت ہوئیں۔ واضح رہے کہ یہ سند یا گواہی اہل مغرب یا مغرب زدگان کے لیے ہے، مسلم علماء اور مشرقی دانشوروں کے لیے یہ ہرگزچونکادینے والی یا انکشافاتی نہیں ہے، اور نہ ہی کسی استثنائی اہمیت کی حامل ہے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)




بشکریہ

جواب چھوڑیں