#ابراہام_لنکن(Abraham Lincoln ) جب لنکن کی عمر 15…

#ابراہام_لنکن(Abraham Lincoln )
جب لنکن کی عمر 15 سال تھی تو وہ حروف تہجی سے روشناس تھا۔بمشکل تھوڑا سا پڑھ سکتا تھا لیکن اسے لکھنا بلکل نہیں آتا تھا ۔1824 کے موسم خزاں میں اس علاقے کا ایک بدوی استاد نو آبادی میں وارد ہوا ۔اس نے اس علاقے میں ایک سکول قاہم کیا #لنکن اور اس کی بہن جنگلوں میں چار میل کا سفر کر کے صبح شام یہاں تعلم حاصل کرنے کے لیے جاتے تھے ،
جب #لنکن اس سکول میں تعلم حاصل کرتا تھا تو گلہری کی کھال کی ٹوپی اور ہرن کی کھال کی
برجس(شکاریوں کا لباس ،انگریزی لباس،
موٹے گف کپڑے سے بنا ہوا پاجامہ) پہنتا تھا ۔
یہ برجس اس کے پاوں تک نہیں پہنچتی تھی ۔اس کے ٹخنے ننگے رہتے تھے اس لیے برفانی ہوا کی وجہ اسے اذیت پہنچتی تھی سکول ایک کمرے میں لگتا تھا کمرے کی چھت کی اونچائی اتنی نہ تھی کہ استاد سیدھا کھڑا ہوسکتا تھا کوئی کھڑکی نہ تھی ۔لنکن کے اسباق بائبل کے ابواب سے متلعق تھے،
#لنکن اتنا غریب تھا کہ ریاضی کی کتاب نہیں خرید سکتا تھا ۔اس نے ایک دفعہ ریاضی کی کتاب مستعار
(ادھار،مانگ کر لینا)لی جو کاغذ کے تختوں پر تحریر تھی اس نے اسے دھاگے کے ساتھ سی لیا اس طرح اسے ایک گھریلو مسودہ میسر آگیا ۔(اس کے وفات کے بعد وقت اس کی سوتیلی ماں کے پاس اس کتاب کے بعض حصے موجود تھے)
اب اس نے ان خصوصیات کو اپنانا شروع کیا جن کی وجہ سے وہ علاقے کے دوسرے علماء سے ممتاز ہوگیا اس نے مختلف عنوانات کے متلعق اپنی رات قلمبند کرنی شروع کی کبھی کبھی وہ اپنے خیالات کو نظم میں بھی بیان کرتا تھا تنقید کے لے وہ اپنی نظم اور نثر ولیم وڈ کے پاس لئے جاتا تھا وہ اپنے گیتوں کو ذہین نشین کرتا اور ترنم کے ساتھ پڑھتا تھا
اس کی پہلی انشا پردازی(مضمون نگاری) اس کے ساتھیوں کے ظالمانہ کھیل کے نتیجہ میں تھی ۔وہ کچھوے پکڑا کرتے تھے اور لطف اٹھانے کے لیے ان کی کھوپڑی میں دہکتے ہوئے کوئلے رکھ دیتے تھے ،لنکن نے ایسا کرنے سے روکا وہ اپنے ننگے پاوں سے بھاگتے ہوئے ان کوئلوں کو کچھووں سے ہٹا دیتا تھا اس کا پہلا مضمون جانوروں پر رحم کے بارے میں تھا اس کے دل میں شروع ہی سے مصیبت زدہ لوگوں کے لیے ہمدردی کے جذبات تھے اور یہ اس کی نمایاں عادت تھی ۔
پانچ سال کے بعد اس نے ایک اور سکول میں تھوڑے تھوڑے وقفوں کے ساتھ تعلم حاصل کی اس کی تعلم بے قاعدہ تھی جلد ہی اس نے تعلم کو خیر باد کہہ دیا سکول میں تعلم کا کل عرصہ بارہ مہینوں سے تجاوز نہں کرتا،
1847 ءمیں جب وہ اسمبلی کا ممبر بنا تو اس نے اپنی سوانح حیات کے بارے میں ایک سوال نامہ پر کیا جس میں ایک سوال یہ تھا آپ کی تعلم کیا ہے؟ اس سوال کے جواب میں لنکن نے ایک لفظ میں دیا ؛؛ناقص؛؛جب وہ پریزیڈنٹ کے عہدہ کے لیے نامزد کیا گیا تو اس وقت اس کا علم زیادہ نہ تھا بہرحال وہ معمولی لکھ پڑھ سکتا تھا یہی اس کا کل تعلیمی اثاثہ تھا اس کے بعد اس نے تعلیمی میدان میں جو بھی ترقی کی وہ ضروت کے تقاضے کے تحت تھی
اس پر آگئے چل کر بات کرتے ہیں،،
جاری ۔۔۔۔۔
بحوالہ کتاب :ابراہام لنکن
مصنف : ڈیل کارنیگی
مترجم : اسلم کھوکھر
انتخاب و ٹائپنگ :Shams Ullah Khan


بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2793469397550242

جواب چھوڑیں