تبت میں چند روز ۔۔افتخار گیلانی

بیجنگ سے جب ایئر چائنا کے جہاز نے تبت کے دارالحکومت لہاسہ کے لئے اڑان بھری، تو پچھلی نشستوں پر براجمان چار بھارتی صحافیوں کا وفد دم بخود تھا۔ یقین کرنا مشکل تھا کہ چند گھنٹوں میں ہم واقعی اسرار و رموز کی سرزمیں پر قدم رکھیں گے۔ بدھ بھکشوئوں، لامائوں کی تپسیا، ان کے کارناموں اور تبت کی بدھ خانقاہوں کی مسحور کن کہانیوں نے باہری دنیا کو کئی صدیوں سے متحیر کر رکھا ہے۔ بھارتی صوبہ ہماچل پردیش کے دھرم سالہ میں تبت کی جلا وطن حکومت اور دلائی لامہ کی موجودگی‘ اور ماضی میں وقتاً فوقتاً امریکی اور بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی طرف سے اس علاقہ میں شورش کو شہ دینے‘ اور تبتی مزاحمت کی حمایت کی وجہ سے چینی حکومت نے غیر ملکی سیاحوں اور صحافیوں کے لئے اس علاقہ میں رسائی محدود کر رکھی ہے۔ حتیٰ کہ چینی شہریوں کے لئے بھی تبت کی مقامی خود مختارعلاقائی حکومت یعنی تبت آٹونامس ریجن (ٹی آے آر) سے خصوصی پرمٹ کی ضرورت ہوتی ہے، جیسا کہ غالباً 1954ء تک کشمیر جانے کے لئے پرمٹ کی ضرورت ہوتی تھی۔

معلوم ہوا کہ ایک دہائی قبل دی ہندو کے ایڈیٹر این رام اور بعد میں سہاسنی حیدر کو لہاسہ تک رسائی ملی تھی۔ مگر اس بار پہلی دفعہ چار بھارتی اور پانچ نیپالی صحافیوں کے وفد کو اندرون تبت کے دور دراز اور دشوار گزار علاقوں تک رسائی دینے پر چینی حکومت آمادہ تھی۔ ہمارے جوش و خروش کی شاید یہی وجہ تھی۔ جب جہاز کی کھڑکی کی طرف اشارہ کرکے چینی فارن آفس کی مترجم شان شون وو‘ ہمیں کن لون پامیر پہاڑی سلسلہ دکھا کر بتا رہی تھی کہ یہ سلسلہ تبت کو شمال کی طرف اور ہمالیہ کا سلسلہ جنوب کی طرف اس خطے کو باقی دنیا سے الگ تھلگ کرتا ہے، تو شاید ہی کوئی دھیان سے سن رہا تھا۔ ہم اس سوچ میں غرق تھے کہ آنے والے تاریخی لمحات کو کس طرح زندہء جاوید بنایا جائے۔

تبت کے سطح مرتفع کی اوسط اونچائی 4500 میٹر کے لگ بھگ ہے‘ اور رقبہ تقریباً 12لاکھ مربع کلومیٹر۔ 6 گھنٹے کی تھکا دینے والی فلائٹ کے بعد جب ہم لہاسہ پہنچے تو یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ کسی دور دراز علاقہمیں وارد ہوئے ہیں۔ ایئرپورٹ سے لہاسہ شہر تک 35 کلومیٹر طویل شاہراہ نے تو متحیر کرکے رکھ دیا۔ بلند و بالا پہاڑوں کو چیر کر بنائی گئی اس سٹرک پر تین لمبی ٹنلز ہیں۔ سڑک بالکل سیدھی اور سطح سے اونچائی پر بنائی گئی ہے، جہاں پر بھی سامنے پہاڑ آیا اس کو چیر کر دوسری طرف نکل جاتی ہے۔ لہاسہ میں صاف ستھری سڑکیں، بلند و بالا عمارتیں، شاپنگ مالز دیکھ کر یقین نہیں آرہا تھا کہ کسی تیسری دنیا کے شہر میں ہیں۔ اس قدیم شہر کی پرانی نشانیوں میں اب صرف پہاڑی پر آن بان کے ساتھ قائم دلائی لامہ کا پوٹالہ پیلس اور نیچے جھوکھم بدھ خانقاہ ہی بچے ہیں۔

ایک نیپالی صحافی، جس نے 2002ء میں اس علاقہ کا دورہ کیا تھا، بھی حیران و پریشان تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ اس وقت شہر میں واحد اونچی بلڈنگ مواصلات کا دفتر تھا، اور راستے بھی خاصے تنگ اور تیسری دنیا کے دیگر شہروں اور قصبوں جیسے تھے۔ صرف دس سال کے قلیل عرصے میں تبت کی کایا پلٹ چکی ہے۔ چونکہ یہ علاقہ آب و ہوا اور جغرافیائی لحاظ سے لداخ سے خاصا مماثلت رکھتا ہے، اس لئے یہاں شاید ہی سبزیوں وغیرہ کی کاشت ہوتی تھی‘ مگر آخر چینی کس کو کہتے ہیں۔ شہر سے متصل دیہات میں گرین ہاوسز میں کنٹرولڈ آب و ہوا میں ہم نے بچشم خود سبزیاں ہی نہیں بلکہ ناریل اور کھجور کی بھی کاشت ہوتے ہوئے دیکھی۔ شہر کے ایک حصہ میں دریائے لہاسہ پر بند بنا کر ایک مصنوعی جھیل بنائی گئی ہے‘ جس میں سیر کے لئے موٹر سے چلنے والی انتہائی آرام دہ کشتیاں اور بجرے موجود تھے۔ چونکہ دریا کی سطح اس جھیل کی جگہ سے نشیب میں تھی، اس لئے دریا کی سطح کو بلاسٹ کرنا پڑا۔ جب میں نے مترجم کی وساطت سے انجینئر سے پوچھا کہ اس کو بنانے میں کتنا وقت لگا، تو نہایت ہی خفت کے ساتھ جواب ملا کہ ایک سال سے زائد کا وقفہ بنانے میں صرف ہوا۔ ہمارے یہاں تو ٹینڈر اور ابتدائی رپورٹ بنانے میں ہی دہائیاں نکل جاتی ہیں۔

پوٹالہ پیلس پچھلی 15 صدیوں سے لہاسہ کا امتیاز رہا ہے۔ یہاں سے پورے شہر کا احاطہ ہوتا ہے۔ یہ دراصل دو محلوں کا مجموعہ ہے۔ مرکزی حصہ لال رنگ کی وجہ سے ریڈ پیلس کہلاتا ہے، اس میں دلائی لامائوں کی قبریں، نقش و نگار، جواہرات، قدیم بدھ نسخے اور دیگر نوادرات موجود ہیں۔ یہ دراصل دلائی لامائوں کا سرکاری دفتر بھی ہے۔ اس وقت 14ویں دلائی لامہ کی جلا وطنی کی وجہ سے صرف ایک میوزیم کھلا ہوا ہے۔ اس کا لال رنگ بھی تبت کے پہاڑوں میں ایک خاص قسم کے پودے سے حاصل کیا جاتا ہے۔ باہری محل کا رنگ سفید ہے، اس لئے اس کو سفید پیلس کہا جاتا ہے، اس میں دلائی لامہ اور اس کے عملے کی پرائیوٹ قیام گاہوں کے علاوہ سونے کی بنی مہاتما بدھ کی نایاب مورتیاں، مطالعہ گاہ اور عبادت کے لئے مخصوص کمرے ہیں۔ اس محل کی سیر کرتے ہوئے تبت کی تاریخ سامنے نظر آتی ہے۔ پہاڑی سے اترتے ہی تبتی بودھ فرقہ کی سب سے مقدس عبات گاہ جوکھانگ خانقاہ ہے۔ چونکہ تبتی کیلنڈر کے حساب سے دو دن بعد مہاتما بدھ کا یوم پیدائش تھا، اس لئے یہاں لوگوں کا اژدحام تھا۔ یہ خانقاہ تبت کے سب سے طاقتور حکمران سونگستن گامپا کی چینی اور نیپالی بیویوں نے بنائی۔ دراصل دونوں دلہنیں چین اور نیپال سے بودھ مت سے وابستہ نوادرات جہیز میں لائی تھیں۔ ان کو محفوظ رکھنے کے لئے یہ خانقاہ تعمیر کی گئی۔ اشتراکی نظام کے زیر اثر 1966ء تک یہ خانقاہ بند تھی۔ 1972ء میں اس کی مرمت کی گئی تھی۔

لہاسہ اور اس کے آس پاس جس طرح عمارات اور نئے قصبے تیزی کے ساتھ وجود میں آرہے ہیں، اس سے صرف یہی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ آئندہ چند برسوں میں چینی حکومت، تبت کے سلسلے میں پوری دنیا کو کوئی سرپرائز دینے والی ہے۔ دو دن لہاسہ میں قیام کے بعد ہم 200 کلومیٹر مشرق کی طرف شانان ضلع کے صدر مقام زڈانگ قصبہ میں پہنچے۔ یہ قصبہ بھارت کی شمال مشرقی صوبہ اروناچل پردیش کی سرحد سے متصل ہے۔ چینی حکومت کا دعویٰ ہے کہ اروناچل پردیش دراصل اسی شانان ضلع کا ہی حصہ ہے، جس پر بھارت نے زبردستی قبضہ کر رکھا ہے۔ یہاں چینی فوج کا مستقر بھی ہے۔ دریائے برہم پترا یا مقامی زبان میں یارلنگ زنگبو کے بغل میں بسا یہ شہر سہولیات‘ وسیع و عریض شاہراہوں اور صفائی ستھرائی کے لحاظ سے یورپی شہروں سے کسی بھی طور کم نہیں ہے۔

یہاں ہمارے ایک ساتھی کو اپنا جوتا ٹھیک کروانے کی ضرورت محسوس ہوئی۔ مقامی گائیڈ جب ہمیں ہوٹل سے متصل مارکیٹ میں موچی کی دکان پر لے گیا، تو آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ شیشے کی دیواریں اور صاف ستھری دکان کسی بھی صورت میں موچی کی دکان ہونے کی دلیل نہیں دے رہی تھی۔ آخری کاونٹر پر جوتا لیا گیا۔ پاس ہی کھڑی ایک خاتون نے مشین سے اس کو ٹھیک کیا‘ اور کریڈٹ کارڈ سے معاوضہ لے کر جوتا واپس کر دیا۔ شہر میں صبح سویرے دھماکوں کی آوازیں ارتعاش پیدا کرتی ہیں۔ لگا شاید فوج مشق کر رہی ہے، مگر بتایا گیا کہ ریل نیٹ ورک بچھانے کے لئے پہاڑوں کے اندر دھماکے کرکے راستہ صاف کیا جا رہا ہے۔ یہ ریلوے نیٹ ورک بھارت کی سرحد اروناچل پردیش اور سکم تک جائے گا‘ اور اس کی شاخیں نیپال اور بھوٹان کو بھی منسلک کریں گی۔ جس تیز رفتاری سے اس نیٹ ورک پر کام ہو رہا ہے اس سے یہی نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ مستقبل قریب میں تبت، چین اور جنوبی ایشیا کے درمیان تجارتی گزرگاہ بننے والا ہے۔ چین کے چوتھے بڑے شہر چنگڈو سے لہاسہ تک جانے والی 1118کلومیٹر طویل مشرقی ریل لائن پچھلے سال ہی مکمل ہوئی ہے۔ بلند و بالا اور مہیب پہاڑوں کے بیچ سے گزرنے والی اس لائن پر ہر 60 کلومیٹر کے بعد نئے قصبے تعمیر کئے گئے ہیں۔ چینی حکومت کے ایک افسر نے بتایا کہ 2020ء تک ان کا ہدف تبت میں ایک لاکھ دس ہزار کلومیٹر روڈ نیٹ ورک بنانا طے ہوا ہے‘ اور اسی مدت کے دوران 1300 کلومیٹر طویل مزید ریلوے نیٹ ورک بھی مکمل کرنا ہے۔

جب ہم تبت کے دورہ پر تھے تو چینی پریس نے دو اہم واقعات رپورٹ کئے۔ ایک چین نے اپنے ملٹری ریفارم پروگرام کے تحت تبت کی ملٹری کمانڈ کو براہ راست پی ایل اے کی گرائونڈ فورسز کے تابع کیا‘ اور دوسرا گانسو صوبہ سے تبت کے راستے نیپال کے دارالحکومت کٹھمنڈو کے لئے 83 کارگو کنٹینروں کی روانگی تھی۔ یہ کنٹینر ساحلی شہر لان زھو سے تبت تک ریل کے ذریعے اور بعد میں ٹرکوں کے ذریعے 3000 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرکے ایک ماہ میں کٹھمنڈو پہنچ جائیں گے۔ ان دونوں واقعات میں بھارت کے لئے واضح پیغام موجود ہے۔

لہاسہ میں مسلمانوں کی ایک قلیل تعداد بھی رہتی ہے۔ یہاں ان کو کاچی کے نام سے جانا جاتا ہے‘ کاچی کا لفظی معنی کشمیری ہے۔ شاید صدیوں پہلے جب سرحدیں نہیں تھیں تو وادی کشمیر سے لوگ یہاں آ کر بس گئے ہوں گے اور یہاں شادیاں بھی کیں، زبان کی عدم واقفیت کی وجہ سے ان سے ہم کلام ہونے کا شرف حاصل نہ ہو سکا۔ چین کی اقتصادی طاقت کا مظاہرہ تبت میں قدم قدم پر ہوتا ہے۔ چین نے واقعی تبت کی سڑکوں کو سونے سے مزین کیا ہے۔

مگر سوال یہ ہے کہ آیا اقتصادی ترقی آزادی اور حق رائے دہی کا متبادل ہو سکتی ہے؟ یہ ایک بحث طلب ایشو ہے‘ مگر جس طرح چین نے تبت کے دشوار گزار علاقوں میں تعمیر اور ترقی کے نئے باب رقم کئے ہیں، کچھ عجب نہیں یہ خوشحالی آئندہ چند سالوں میں ان علاقوں کے نصیب میں بھی آجائے، جو چین پاکستان اقتصادی کوریڈور کے زمرے میں آتے ہیں





بشکریہ

جواب چھوڑیں