چند اشعار کی صحت…. (2)

حیات عبداللہ
جناب ضیا شاہد کے حکم پر اشعار کی صحت کے متعلق دوسرا کالم حاضر ہے۔محترم ضیا شاہد کی خواہش ہے کہ اس سلسلے کو جاری رہنا چاہیے۔اب گا ہے گاہے اس نوع کے کالم آپ کے ذوق کی تسکین کے ساتھ ساتھ آبیاری بھی کرتے رہیں گے (ان شاءاللہ)۔
آئیے! اب کچھ اشعار کی صحت کا جائزہ لیتے ہیں۔
سعداللہ جان برق سینئر کالم نگار ہیں۔انھوں نے 30 مئی 2020ءکو اپنے ایک کالم میں مرزا غالب اور میر انیس کے اشعار کا جو بُھرکس نکالا ہے اس سے اشعار نہ صرف اوزان سے خارج ہو گئے ہیں بلکہ مفہوم کا حلیہ بھی بگڑ تگڑ گیا ہے۔ملاحظہ کیجیے غالب کا ایک شعر یوں لکھا گیا ہے۔
واں کے نہیں یہ واں کے نکالے ہوئے تو ہیں
”کعبے“ سے ان بتوں کو بھی نسبت ہے دور کی
غالب کے اس شعر کا پہلا مصرع لفظ ”گو“سے شروع ہوتا ہے اور پہلے مصرعے میں لفظ ”یہ“نہیں بلکہ ”پہ“ ہے۔غالب کا یہ شعر درحقیقت یوں ہے۔
گو واں نہیں پہ واں کے نکالے ہوئے تو ہیں
کعبے سے ان بتوں کو بھی نسبت ہے دُور کی
سعداللہ جان برق نے ہی غالب کی ایک غزل کا مقطع یوں تحریر کیا ہے۔
ہستی ہے نہ کچھ عدم ہے غالب
تو کیا ہے؟ اے نہیں ہے
شعر کا دوسرا مصرع اتنے بُرے طریقے سے بحر سے نکال دیا گیا ہے کہ علمِ عروض اور علمِ تقطیع کی سُوجھ بُوجھ نہ رکھنے والوں کو بھی اندازہ ہو گیا ہو گا کہ مصرعے میں کچھ نہ کچھ فنّی خرابی ضرور موجود ہے۔درست شعر دیکھیے۔
ہستی ہے نہ کچھ عدم ہے غالب
آخر تُو کیا ہے؟ اَے”نہیں ہے“
غالب کا تیسرا شعر اس طرح لکھا گیا ہے۔
مگر لکھوائے کوئی ان کو خط تو ہم سے لکھوائے
ہوئی صبح اور گھر سے کان پر رکھ کر قلم نکلے
پہلے مصرعے میں ”اُن کو“ نہیں بلکہ ’ ’اُس کو“ ہے۔
محترم قیّوم نظامی صاحب نے 30 مئی کے اپنے کالم کے آخر میں ایک نظم لکھی ہے۔مطلع ملاحظہ کیجیے۔
ایک مدت سے مرے گھر کوئی آیا نہ گیا
فون سے حال ہی پوچھا مگر بلایا نہ گیا
دوسرا مصرع قطعاً اس طرح بحر سے خارج نہیں کیا جانا چاہیے۔میرے خیال میں صحیح مصرع یوں ہونا چاہیے۔
فون سے حال ہی بس پوچھا، بلایا نہ گیا
محترم قیّوم نظامی نے ہی 3 جون کے اپنے کالم میں ایک شعر”بقول شاعر“ کہ کر یوں تحریر کیا ہے۔
تو ہی ناداں چند کلیوں پر قناعت کر گیا
ورنہ گلشن میں علاج تنگی داماں بھی تھا
حضرت علّامہ محمد اقبال رحمة اللہ کا یہ شعر بانگِ درا کی نظم ”شمع اور شاعر“ میں موجود ہے مگر لفظ ”تھا“ ان اشعار کی ردیف ہرگز نہیں ہے۔”تھا“ کو ردیف بنا کر اس شعر کی ساری لذت بھی ”تھی“ کر دی گئی ہے۔اس شعر سے قبل جو شعر ہے وہ بھی ردیف ”ہے“ کے لطف ساتھ ملاحظہ کیجیے۔
اب تلک شاہد ہے جس پر کوہِ فاراں کا سکوت
اے تغافل پیشہ! تجھ کو یاد وہ پیماں بھی ہے؟
تُو ہی ناداں چند کلیوں پر قناعت کر گیا
ورنہ گلشن میں علاجِ تنگیِ داماں بھی ہے
2 جون کو ڈاکٹر اشفاق احمد ورک نے اپنے کالم کے آغاز میں، اپنے ”حافظے کی دہلیز پر دھرے“ ایک نظم کے تین اشعار لکھے ہیں۔ان میں سے ایک شعر یوں تحریر کیا گیا ہے۔
اسلام کی فطرت میں قدرت نے لچک دی ہے
اتنا ہی یہ ابھرے گا جتنا کہ دبا دیں گے
یہ شعر صفی لکھنوی کی معروف نظم ”جذبہ¿ اسلام“ میں موجود ہے۔یہ نظم 1912ءمیں کہی گئی۔اس نظم کے کہنے کی پاداش میں صفی لکھنوی کو برطانوی حکومت کے سامنے جواب دہ بھی ہونا پڑا تھا۔یہ نظم بارہ اشعار پر مشتمل ہے مگر کالم میں لکھے گئے باقی دو اشعار کم از کم ”جذبہ ¿ اسلام“ میں تو کہیں نظر نہیں آتے۔اس شعر کے دوسرے مصرعے میں ڈاکٹر اشفاق احمد ورک نے کیا غلطی کی ہے اس کی نشان دہی سے قبل معروف ادبی محقق جناب ناصر زیدی کی اس شعر کے متعلق تحقیق کا ذکر بھی ضروری سمجھتا ہوں۔ان کے مطابق یہ شعر یوں ہے۔
اس دین کی فطرت میں قدرت نے لچک دی ہے
اتنا ہی یہ ابھرے گا جتنا کہ دبا دیں گے
مگر حقیقت اس کے بھی برعکس دکھائی دیتی ہے۔اس لیے کہ ”منظوماتِ صفی“ مرتّبہ سیّد زائر حسین کاظمی مطبوعہ 1977 ءانوار بک ڈپو لکھن¶ اور ”صحیفہ… یادگارِ صفی“ 1974ء صفی اکاڈمی لکھن¶ میں یہ شعر اس طرح موجود ہے۔
اسلام کی فطرت میں قدرت نے لچک دی ہے
اُتنا ہی پھر ابھرے گا جتنا کہ دبا دیں گے
اشفاق احمد ورک صاحب کو معلوم ہو گیا ہو گا کہ شعر کے دوسرے مصرعے میں لفظ ”یہ“کی بجائے ”پھر“ ہے۔ڈاکٹر اشفاق احمد ورک نے میر تقی میر اور شاہین عباس کے اشعار بھی غلط تحریر کیے ہیں، اگر قارئین کے ساتھ کوئی حُسنِ سلوک کرنا چاہتے ہیں تو اُنھیں بھی درست فرما لیں۔
جناب اثر چوہان کالم نگاروں کے استاذ کی حیثیت رکھتے ہیں۔میرے جیسے طالبِ علم ان کے کالموں سے بہت کچھ سیکھتے رہتے ہیں۔31 مئی کے کالم میں انھوں نے حضرت علّامہ محمد اقبال رحمہ اللہ کے ایک فارسی شعر کا پہلا مصرع سہواً یوں لکھ دیا۔
رشتہ ءآئین حق، زنجیر ماست
جب کہ شعر میں ”زنجیر ما“ نہیں بلکہ”زنجیرِ پا“ ہے۔
2 جون کے اپنے کالم میں جناب ہارون الرشید نے حضرت علامہ اقبال رحمہ اللہ کی نظم ”شیکسپئر“ کا آخری شعر اس طرح لکھا ہے۔
حفظ اسرار کا فطرت کو ہے سودا ایسا
رازداں پھر نہ کرے گی کوئی ایسا پیدا
شعر کے دوسرے مصرعے میں ردیف کی جگہ قافیہ اور قافیے کی جگہ ردیف لکھ کر گڑبر پیدا کر دی گئی ہے۔دوسرا مصرع یوں ہے۔
رازداں پھر نہ کرے گی کوئی پیدا ایسا
ڈاکٹر طاہر رضا بخاری نے 5 جون کے اپنے کالم میں ”اکبر الہ آبادی کے بقول“ کہہ کر یہ شعر لکھا ہے۔
کیا کہیں احباب، کیا کار نمایاں کر گئے
بی اے کیا، نوکر ہوئے، پنشن ملی اور مر گئے
جب کہ اکبر الہ آبادی کے بہ قول یہ شعر ہرگز اس طرح نہیں ہے۔پہلے مصرعے میں ایک اور دوسرے مصرعے میں دو اغلاط ہیں۔
ہم کیا کہیں احباب کیا کارِ نمایاں کر گئے
بی اے ہوئے، نوکر ہوئے، پنشن ملی پھر مر گئے
ڈاکٹر طاہر رضا بخاری کے کالم سے متّصل عمر قاضی کا کالم بھی شائع ہوا ہے۔کالم کے آخر میں یہ شعر موجود ہے۔
ہم سہل پسند کون سے فرہاد تھے لیکن
اب شہر میں تیرے کوئی ہم سا بھی کہاں ہے؟
جب کہ فیض احمد فیض نے پہلے مصرعے میں”سہل پسند“کی جگہ ”سہل طلب“ لکھا ہے۔
(کالم نگارقومی وسماجی امور پر لکھتے ہیں)
٭….٭….٭



بشکریہ

جواب چھوڑیں