بجٹ 2020ء – کورونا کے ساتھ ساتھ قوم پر نازل ہونے والی ایک اور مصیبت کی آمد آمد(حصّہ اوّل )۔۔ غیور شاہ ترمذی


آپ کا تعلق کسی بھی پارٹی سے ہو مگر سچائی، انصاف اور عدل کو سامنے رکھتے ہوئے یہ سوچیں کہ کیا یہ ممکن ہے کہ عمران خان حکومت آئی ایم ایف کے شدید دباؤ کو برداشت کرتے ہوئے آنے والے بجٹ میں مزید نئے ٹیکسز لگانے یا پرانے ٹیکسوں کی شرح میں ہوش ربا اضافہ سے باز رہے؟۔ پی ٹی آئی کی حکومت تو یقیناََ یہ دعویٰ کرے گی کہ مقامی ضروریات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اپنا بجٹ وہ خود تیار کر رہی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ وزیرِ اعظم کے مشیر برائے خزانہ و محصولات ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ اور گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان ڈاکٹر رضا باقر، دونوں نے 8 اپریل 2020ء کو ایک لیٹر آف انٹینٹ (letter of intent) پر دستخط کیے جس کے تحت بجٹ 2020ء کے سلسلہ میں پاکستان پر آئی ایم ایف کی سخت شرائط تسلیم کرنا لازم ہو چکا ہے۔ پی ٹی آئی کے سیاسی دعویٰ کے برعکس زمینی حقیقت یہی ہے کہ بجٹ بنانے کے عمل میں آئی ایم ایف حکومتی عہدے داران کے ساتھ اپنی شمولیت کو یقینی بنایا کرتی ہے۔

جب سے عمران خان  حکومت برسر اقتدار آئی ہے ان کی پالیسیوں کا براہ راست اثر مقامی معیشت کی تباہی پر متنج ہوا ہے مگر جن انڈسٹریز میں بھی تھوڑی بہت غیر ملکی سرمایہ کاری موجود ہے، وہ مسلسل اوپر کی طرف گامزن ہیں ۔ بیرون ملک سے پاکستان میں جن شعبوں میں سرمایہ کاری ہوئی ہے، ان میں فارما سیو ٹیکل انڈسٹری، فاسٹ فوڈ انڈسٹری، آٹو موبائل انڈسٹری، بنکنگ انڈسٹری، زرعی انڈسٹری، موبائل فون و کمپیوٹر انڈسٹری اور کمیونیکیشن انڈسٹری شامل ہیں۔ کچھ دیگر شعبے بھی ہیں لیکن کالم کے دامن میں  گنجائش نہ  ہونے کی وجہ سے فی الحال ہم اپنی گفتگو کو مرکز ان بیان کردہ انڈسٹریز تک ہی محدود رکھیں گے۔

فارما سیو ٹیکل انڈسٹری میں پاکستان کی تیز رفتار ترقی کو دیکھ کر ادویات بنانے والی دنیا کی نامور کمپنیوں نے پاکستان میں سرمایہ کاری کی۔ سنہ 2000ء کی دہائی میں پاکستان اس پوزیشن میں آ چکا تھا کہ وہ کچھ ادویات کو برآمد بھی کرنے لگا لیکن یہ برآمدات اتنی بڑی نہیں تھیں کہ غیر ملکی سرمایہ داران حاصل ہونے والے منافع سے مطمئن رہ سکتے ہوں۔ اسی لئے سنہ 2013ء سے ادویات کی قیمتوں میں ایک پالیسی کے تحت مسلسل اضافہ کرنا شروع کر دیا گیا۔ عمران خاں حکومت آنے کے بعد جب وفاقی وزیر صحت کی ذمہ داری عامر کیانی کو ملی تو فارما سیو ٹیکل انڈسٹری کی تاریخ میں قیمتوں میں ایک لمبی چھلانگ لگائی گئی اور کئی ادویات 300٪ تک مہنگی ہو گئیں۔ قیمتوں میں اس اضافہ پر کئی ذرائع نے عامر کیانی پر کرپشن کے الزامات لگائے اور کہا کہ انہوں نے ادویات بنانے والوں سے لمبی ڈیل کی اور دواؤں کی قیمتوں میں اضافہ ہونے دیا۔ اسی الزام کے تحت انہیں وزارت سے بھی ہاتھ دھونے پڑے مگر پھر وزیر اعظم عمران خاں نے انہیں معاف کر دیا اور پارٹی کا مرکزی جنرل سیکریٹری بھی بنا دیا۔

پاکستان میں فاسٹ فوڈ کھانے کے رجحان پر یورپین جرنل آف اکنامکس، فنانس اینڈ ایڈمنسٹریٹو سائنس کے 48ویں شمارے (2012ء) میں شائع ہونے والی ایک تحقیق اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ پاکستان میں 60 فیصد افراد کا کہنا تھا کہ وہ مشہور بین الاقوامی برانڈز کے فاسٹ فوڈ کی تیزی سے بڑھتی ہوئی قیمتوں سے ہرگز مطمئن نہیں ہیں۔ قیمتوں کے بارے میں اس بے اطمینانی کے باوجود بھی مشہور بین الاقوامی برانڈز کی فاسٹ فوڈ پراڈکٹس مثلاً فرائیڈ چکن، برگر، سینڈوچ، پزا، فروزن فلیورڈ یوگرٹس، شیکس وغیرہ کی قیمتوں پر نظر دوڑا لیں اور سنہ 2010ء کی قیمتوں کا سنہ 2020ء کی قیمتوں سے تقابلی جائزہ لیں تو آپ کے علم میں آئے گا کہ ان میں 200٪ تک اضافہ ہو چکا ہے جبکہ ان کے بزنس میں بھی دن دگنی رات چوگنی ترقی ہو رہی ہے۔

آٹو موبائل انڈسٹری میں غیر ملکی سرمایہ کاری کو جیسے پاکستان میں مکمل پروٹوکول دیا گیا ہے ویسا دنیا کے کسی ملک میں موجود نہیں ہے۔ مقامی طور پر آٹو موبائل انڈسٹری میں مینوفیکچرنگ نہیں ہوتی بلکہ گاڑیوں کے زیادہ تر پارٹس باہر سے منگوائے جاتے ہیں اور پاکستان میں زیادہ چلنے والی گاڑیوں کے پلانٹس میں انہیں جوڑ کر گاڑی بنا دیا جاتا ہے۔ ان گاڑیوں کی کمزور باڈی اور غیر تسلی بخش کارکردگی کے باوجود بھی ان کی قیمتیں آسمانوں کو چھو رہی ہیں۔ ایک فیملی کے لئے 660 سی سی جیسی چھوٹی کار بھی 14 سے 15 لاکھ تک ہی ملتی ہے جبکہ اس انجن capacity کی کاریں انڈیا میں صرف 6 سے 7 لاکھ پاکستانی روپوں تک مل جاتی ہے اور وہ کارکردگی میں ہمارے یہاں کی کاروں سے بہتر ہوتی ہیں۔ گاڑیاں بنانے والے تمام بین الاقوامی ادارے تو پاکستان میں صرف گاڑیوں کی assembling تک ہی خود کو محدود رکھے ہوئے ہیں لیکن انڈیا میں گاڑیوں کے تمام پرزے مقامی سطح پر تیار کئے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب انڈیا پچھلے کئی سالوں سے تمام مشہور برانڈز کی عالمی معیار کی گاڑیاں بھی بنا رہا ہے اور ان کی برآمدات بھی کر رہا ہے۔ ہماری حکومتیں آٹو موبائل انڈسٹری کے ہاتھوں اتنی یرغمال بنی ہوئی ہیں کہ وہ لوگوں کو دوسرے ممالک سے 30 مہینے سے زیادہ پرانے ماڈل کی درآمدات کی بھی اجازت نہیں دیتیں ورنہ لوگ اچھی اور معیاری گاڑیاں درآمد کر کے ان برانڈز کی ناجائز منافع خوری کا خاتمہ کر دیں۔

بنکنگ انڈسٹری بھی وہ شعبہ ہے جس میں پاکستان نے بہت اضافہ دیکھا۔ ہر شہر قصبہ، گاؤں تک کون سا بنک نہیں ہے جو موجود نہ ہو؟۔ بڑے شہروں کے علاوہ چھوٹے شہروں میں بھی دوسرے ممالک کے بنکوں کی برانچیں کھل چکی ہیں۔ بنکنگ انڈسٹری میں حکومت کی طرف سے صارفین پر ذرائع آمدن کے ثبوتوں کی ڈاکیومنٹیشن جیسی پالیسیاں متعارف کروائے جانے کے باوجود بھی غیر ملکی بنکوں کے بزنس پر کچھ زیادہ اثر نہیں ہوا۔ سنہ 2010ء میں بنک کی طرف سے اپنے صارفین کو فراہم کی جانے والی سروسز کے چارجز البتہ ہر سال دو سال میں غیر محسوس طریقہ سے بڑھائے جا رہے ہیں۔ شاید آپ یہ جان کر حیران ہوں کہ اگر کوئی بنک اپنے سروسز چارجز میں اضافہ کر دے تو قانون کے لحاظ سے صارفین اس کی شکایت نہیں کر سکتے اور انہیں بنک کا فیصلہ قبول کرنا ہی ہو گا۔
زرعی انڈسٹری میں کھادوں کے علاوہ، کیڑے مار ادویات، بیج، زرعی مشینوں کے پارٹس و آلات جیسے سیکٹر شامل ہیں۔ عمران خاں حکومت کو برسراقتدار آتے ہی امداد اور قرضوں کی شکل میں 14 ارب ڈالرز تک حاصل ہوئے۔ بدقسمتی سے ملک میں جو بھی نقد پیسہ آیا اسے پاکستان جیسے زرعی ملک میں زراعت کی ترقی اور Agro based انڈسٹری پر نہیں لگایا گیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ زرعی شعبہ مسلسل تنزلی کا شکار رہا جبکہ اس شعبہ میں بیرون ملک سے درآمد کی جانے والی ہر چیز اور غیر ملکی کمپنیوں کی پاکستان میں اپنے پلانٹس پر بننے والی تمام چیزوں میں بھی مسلسل اضافہ ہوتا رہا۔ سچی بات تو یہ ہے عمران خاں حکومت ہی نہیں مسلم لیگ نون کی حکومت نے بھی زراعت کی ترقی پر کوئی توجہ نہیں دی۔ آج اس کا نتیجہ یہ ہے کہ زرعی شعبہ انتہائی دگر گوں حالات کا شکار ہونے کے باوجود بھی استعمال ہونے والی اشیاء کی قیمتوں میں شدید اضافہ کے آئے روز نئے ریکارڈ بنا رہا ہے۔

موبائل فون، ٹیبلٹ اور کمپیوٹر انڈسٹری میں بھی آٹو موبائل کی طرح پاکستان میں مینوفیکچرنگ نہیں بلکہ assembling ہی ہوتی ہے۔ اس میں زیادہ انویسٹمنٹ دوست ملک چین کے سرمایہ کاروں کی ہے مگر دوسرے ممالک کے مشہور برانڈز بھی خوب فروخت ہوتے ہیں۔ اس مارکیٹ میں ایک عجیب ٹرینڈ یہ ہے کہ جیسے ہی ان gadgets, accessories اور مشینوں کا کوئی نیا ماڈل متعارف ہوتا تو اس کی قیمت بہت زیادہ رکھی جاتی ہے اور لوگ دیوانوں کی طرح اس پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔ یہ قیمتیں اتنی زیادہ ہوتی ہیں کہ 3/4 مہینے میں ہی نیچے آ جاتی ہیں لیکن اس دوران غیر ملکی سرمایہ دارانہ ڈھیروں اور ناقابل یقین منافع کما کر سائیڈ لائن ہو چکے ہوتے ہیں اور اگلے ماڈل کو متعارف کروانے کا اعلان کر رہے ہوتے ہیں۔ ہمارے یہاں اپنے پاس سب سے نئے اور مہنگے ماڈل کے موبائل فون کو رکھنے کا ایک جنون سا ہے مگر یقین جانیں کہ درآمد کئے ہوئے مہنگے فون کے مقابلہ میں چین سے درآمد یا پاکستان میں assembled موبائل بھی ویسے ہی فیچرز اور خصوصیات پیش کرتے ہیں جن کے بارے میں بین الاقوامی طور پر مشہور ترین برانڈز کے دعوے ہیں۔ ہر آنے والے نئے ماڈل کی قیمتوں میں جو اضافے ہوتے ہیں وہ کس بنیاد پر ہیں، یہ کوئی نہیں جانتا اور نہ کسی کو ایسے سوال پوچھنے کی اجازت دی جاتی ہے۔

جاری ہے





بشکریہ

جواب چھوڑیں