خان صاحب کی اقبال شناسی۔۔خورشید ندیم


تاریخ فہمی کے بعد‘ اب خان صاحب کی اقبال شناسی کے چرچے ہیں۔
انسان اپنی کمزوریوں سے بدرجہ اتم واقف ہوتا ہے۔دوسروں سے بڑھ کر اپنے احوال سے آگاہ۔یہ آگاہی خود شناسی کا دروازہ کھولتی ہے۔واقعہ یہ ہے کہ انسان کو کمزور پیدا کیا گیا ہے۔وہ ایک میدان کا شہ سوار ہو سکتا ہے‘دو کا ہوسکتا ہے لیکن سب کا نہیں۔ خود شناسی کا یہ پہلا سبق ہے۔ ہم ایک کامیابی ملنے پر گمان کرتے ہیں کہ اپنی قوتِ بازو سے ہر میدان میں فتح کے جھنڈے گاڑ سکتے ہیں۔ بس یہی غلطی جگ ہنسائی کا سامان کرتی ہے۔ خان صاحب کے ساتھ بھی یہی ہو تا ہے۔
نوازشریف علم و ادب کی دنیا کے آدمی نہیں ہیں۔تاہم ایسی بے خبری بھی نہیں ہے جو داستان طراز بیان کرتے ہیں۔غالب ان کا پسندیدہ شاعر ہے۔غالب شناس نہیں ہوں گے کہ مولانا حالی یا سلیم احمد کی طرح غالب پر کتاب لکھ ڈالیں لیکن اب ایسا بھی نہیں تھا کہ کوئی منیر نیازی کا نام لے اور وہ پوچھیں کہ یہ کون صاحب ہیں؟صوفی شاعری سے بھی ان کو شغف ہے۔ سیف الملوک شوق سے سنتے ہیں۔ دانش وربہر حال وہ نہیں ہیں۔انہوں نے کتاب سے کم اور تجربات سے زیادہ سیکھا۔ان کی اصل قوت یہ تھی کہ وہ اپنی اس کمزوری سے واقف تھے۔اس لیے کبھی دانشور یا اقبال شناس بننے کی کوشش نہیں کرتے تھے۔
عمران خان صاحب کا معاملہ اس سے باؒکل مختلف ہے۔وہ خیال کرتے ہیں کہ زندگی کے ہر میدان میں وہ یکتا ہیں۔اور اگر نہیں ہیں تو بن سکتے ہیں۔وہ اکثر اس کیلئے دلیل اپنی زندگی سے لاتے ہیں۔انگریز ان کی باؤلنگ پر ہنستے تھے۔انہوں نے مگر اپنی محنت سے انہیں چوٹی کا باؤلر بن کر دکھایا۔پس ثابت ہوا کہ ہر چوٹی سر کرسکتے ہیں۔ حتیٰ کہ دانشور بھی ہوسکتے ہیں۔ مذہب سے واقف‘ تصوف کے اسرارشناس‘اقبال آگاہ اور تاریخ دان بھی۔
ایسا ہوناعملاًمحال ہے۔علم کا حصول کبھی خان صاحب کی ترجیح نہیں تھا۔ان کی دلچسپی کے میدان دوسرے تھے۔اس میں کیا شبہ ہے کہ انہوں نے ان میدانوں میں فتوحات کے نئے ریکارڈ قائم کیے اور دنیا اس کی گواہ ہے۔ان میں سر ِفہرست کرکٹ ہے۔کرکٹ کی تاریخ میں وہ ہمیشہ نمایاں ترین لوگوںمیں شمار کیے جائیں گے۔لیکن اقبال شناسی؟ تصوف؟ اسلام؟تاریخ؟ تاریخ پرکلام کیاتو جرمنی اور جاپان کی سرحدیں ملا دیں۔دانش کی طرف رجوع کیا تو ٹیگور کے اقوال کو خلیل جبران کے نام کر دیا۔اب اقبال شناسی کے چرچے ہیں۔جس نے اقبال کی نظم ‘ہمدردی‘بھی پڑھ رکھی ہے‘وہ ان اشعار کو ان سے کبھی منسوب نہ کرے جو جناب نے کر دیے۔اقبال شناسی کھیل نہیں۔اقبال تک رسائی کے لیے طالب علمانہ صحرانوردی لازم ہے۔علم کی کسی بڑی دنیا میں قدم رکھتے وقت ہم جیسے طالب علم‘پہلے اس میدان کے شہسواروں سے رجوع کرتے ہیں۔کوشش ہوتی ہے کہ ان کی سندسے بات کی جائے۔یہ اقبال کا معاملہ ہے۔اسلام تو خیر بہت آگے کی بات ہے۔
اپنی کتاب میں انہوں نے تصوف شناسی کا بھی تاثر دیا ہے۔اس باب میں مشاہدات صوفی بشیر سے شروع ہوتے اور پاک پتن آکر تمام ہو جاتے ہیں۔ وہ کتاب میں گے ایٹن(Gai Eaton) کا بھی ذکر کرتے ہیں۔ میں نہیں جان سکتا کہ کوئی رینے گینوں کو پڑھے بغیر ایٹن کو کیسے سمجھ سکتا ہے یاروایت کو جانے بغیر ان سے کیسے استفادہ کر سکتاہے۔ اس باب میں ان کا آخری پڑائودیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ وہ تصوف کو کتنا سمجھے ہیں۔
ملک کا وزیراعظم یا سیاست دان ہونے کے لیے ہر فن مولا ہونا لازم نہیں۔اگر جوہری طور پر سیاست دان ہوتے ہوئے کوئی علوم و فنون سے دلچسپی رکھتا ہے تو یہ اضافہ خوبی ہے۔تاہم ایک سیاست دان کویہ ضرور معلوم ہونا چاہیے کہ معاشرے میں کون کس فن کا ماہر ہے؟کون علم کے کس میدان کا امام ہے؟بجائے خود کو کسی علم کا ماہر ثابت کرنے کے‘اس میں یہ صلاحیت ہونی چاہیے کہ وہ رجالِ کار تلاش کرے اوران سے کام لے۔
جو رجال تیار یا تلاش کئے گئے ‘ہمارے سامنے ہیں۔نابغوں کے حسنِ کارکردگی کے مظاہر‘اب تو گلی گلی بکھرے ہیں۔یہ انتخاب ظاہر کرتا ہے کہ علم سے کتنا شغف رکھتے ہیں۔سیاست کی مجبوری اپنی جگہ مگر چاہیں تو باصلاحیت افراد کے لیے راستہ نکال سکتے ہیں۔آخر پارلیمانی روایت سے انحراف کرتے ہوئے بے شمار مشیربھی تو رکھے گئے ہیں۔
یہ اصل امتحان ہے جو بتاتاہے کہ علم سے اپنا حقیقی تعلق کتنا ہے۔یہ آپ کی ترجیحات میں کہاں پر ہے۔خان صاحب کی تاریخ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سماج کے بہترین افراد کے دل ان کی طرف موڑ دیے تھے۔ان میں اہلِ علم بھی تھے۔وہ جو علم و ادب کے بہتے دریا ہیں۔خان صاحب کے لیے ان کی موجوں میں اضطراب تھا۔وہ خود انہیں سیراب کرنا چاہتے تھے۔انہوں نے مگران سب کو خود سے الگ کر دیا۔ ایک نعمت کی ناشکری کی۔پھر اللہ نے انہیں زلفی بخاری اور شہبازگل جیسے مشیروں کے حوالے کردیا۔اس مشاورت کا نتیجہ اقبال شناسی کا یہ نیا نمونہ ہے۔
سیاست دان کے لیے عالم ہونا ضروری نہیں لیکن بے علم ہونا بھی لازم نہیں۔کم ازکم وہ یہ تو جان سکے کہ اقبال کس سطح کے شاعر تھے اور سرسید نے کیسی نثر لکھی۔یہ صلاحیت مطالعے اور سیاسی تربیت سے آتی ہے۔اگر آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاسوں میں خطبہ صدارت کے لیے علامہ اقبال جیسی شخصیات کا انتخاب کیا جا ئے گا تواس جماعت کی کچھ تو تربیت ہو گی۔اگر کانگرس میں ابوالکلام آزاد اور نہرو جیسی شخصیات کو قیادت سونپی جائے گی تو ابوالکلام کی تقریریں سن کرکچھ تو زبان وبیان اورتاریخ کی تفہیم پیدا ہوگی۔ابوالکلام سیاسی آدرش میں ناکام سہی لیکن کیا یہ کامیابی کم ہے کہ ہماری سیاست کو ابوالاعلیٰ ونواب زادہ نصراللہ خان دے گئے اورصحافت کو غلام رسول مہر و شورش۔
ہماری سیاسی جماعتوں میں صرف جماعت اسلامی ہے جس نے اپنے کارکنوں کی اخلاقی کے ساتھ علمی تربیت کا اہتمام کیا۔اس جماعت میں ایک نصاب مقرر ہے جسے پڑھے بغیر کوئی رکن نہیں بن سکتا۔اس نصاب میں مولانا مودودی کی کتابیں شامل ہیں۔قاری کچھ اور سیکھے نہ سیکھے ‘کم ازکم یہ تو جان لیتا ہے کہ اپنا مقدمہ کس استدلال کے ساتھ پیش کرنا ہے اور اس کے لیے الفاظ کا موزوں ترین انتخاب کیسے کیا جا تا ہے۔اسی سے پروفیسر خورشید احمدپیدا ہوتے ہیں۔سینیٹ میں ان کی تقاریر اپنی سنجیدگی اورنفس ِمضمون کے اعتبار سے ہمیشہ ممتاز رہیں۔ نون لیگ میں مشاہد اللہ خان کے شعری ذوق کا چرچا ہے۔ یہ ذوق بھی جماعت اسلامی نے پیدا کیا۔باقی ان کا اپنا کسب ہے۔
یہ ذوق پیدا کرنے کا اب کوئی نظام موجود نہیں ہے۔اب جوکچھ ہے ہمارے سامنے ہے۔لیڈروں کی دین فہمی اور اقبال شناسی کے مظاہر ہم دیکھ ہی رہے ہیں۔میری گزارش ہے کہ لیڈروں کوکم از کم اس کمزوری کا ادراک ہونا چاہیے۔ورنہ وہ جگ ہنسائی کا سبب بنتے ہیں۔وہی بات کہی جائے جس کے بارے میں یقین ہو۔ایک آدھ غلطی تو بشریت کے کھاتے میں ڈالی جا سکتی ہے مگر لیڈر کو ہمیشہ بشر ہونے کا ثبوت فراہم نہیں کرنا چاہیے۔اگر لوگوں نے انہیں لیڈر بنایا ہے تو ‘فوق البشر‘سمجھ کر۔کوئی حرج نہیں کہ قوم کو کبھی کبھی اس کے مظاہر بھی دیکھنے کو ملتے رہیں۔
یہ اسی وقت ممکن ہوتا ہے جب انسان اپنی محدودیت کا ادراک کرے۔ایک میدان میں کامیابی‘اس بات کی دلیل نہیں بن سکتی کہ آپ ہر میدان کے فاتح ہوں۔ ‘لاادری'(میں نہیں جانتا)کا جملہ لوگ اہلِ علم ہی کی زبان سے سنتے ہیں۔کثرت ِکلام صرف عیبوں کو نمایاں کرتا ہے۔

دنیا





بشکریہ

جواب چھوڑیں