قصیدہ (شاعر: مرحوم علامہ طالب جوہری) دل کہ اک طو…

قصیدہ
(شاعر: مرحوم علامہ طالب جوہری)

دل کہ اک طوفاں زدہ کشتی بہ موجِ اشکِ غم
جس کا افسانہ شکستہ بادباں پر ہے رقم

دل کہ گھر اللہ کا لیکن بتوں کی جلوہ گاہ
فطرتاً وہ کس قدر معصوم لیکن متہم

اور اس تہمت کے پس منظر میں اُن جذبوں کی دھوم
جن کی ہر لغزش خود اپنی حد میں بے حد محترم

آدمی اِک بے سہارا ناؤ مانجھی کے بغیر
زندگی اندھے ارادوں کا تلاطم یم بہ یم

اس قدر حساس کر دیتا ہے کربِ زندگی
دل میں چبھ جاتا ہے کوئل کی نوا کا زیر و بم

وہ کسی کوہِ ندا نے دور سے آواز دی
بے خیالی میں بڑھے آواز کی جانب قدم

پاؤں بڑھتے جا رہے تھے اپنی منزل کی طرف
منتظر تھی گود پھیلائے ہوئے شامِ الم

جھُٹ پٹے کے وقت بستی کے مکانوں سے پرے
گاؤں کے پنگھٹ پہ دو پرچھائیاں ہوتی تھیں ضم

اِک کلی کے قامتِ زیبا پہ بھونرے کی نگاہ
ناپتی جاتی تھی جسمِ مرتعش کا پیچ و خم

راہرو گُم تھا طلسمی راستوں کے جال میں
نقشِ منزل دور ہوتا جا رہا تھا دم بدم

پھر اسی گم کردہ راہی کے افق پر چونک اُٹھا
اِک ستارہ، جس کے تیور میں ہلالِ نو کا خم

سرخ صحراؤں کی تپتی سرزمیں کے درمیاں
ایک نخلستان جو رکھ لے مسافر کا بھرم

زندگی کی منفعل بے چہرگی کی چھاؤں میں
ایک چہرہ جس میں صدیوں کی رفاقت کا حشم

جس نے بتلایا کہ ناقص ہے وجود انسان کا
آدمی کا دوسرا حصہ نہ ہو جب تک بہم

گاہ قربت کی سبیلیں، گاہ ہجرت کی فصیل
گاہ دلداری کا امرت، گاہ دل سوزی کا سَم

گاہ رخصت کی گھڑی میں ایک جھُولے کی طرح
دلبری کی پینگ لیتی مرمریں بانہوں کا خَم

گاہ عرضِ حالِ دل پر بے رخی کے باوجود
راز پنہاں کھول دیتا تھا نَفس کا زیر و بم

گاہ ہنگامِ تمنّا اس کی آنکھوں کے غزال
نرم پلکوں کی گھنیری چھاؤں میں کرتے تھے رَم

اِک روایت ہے قصیدے میں غزل کی چاشنی
رِیت ہے دونوں کی فن کارانِ ماضی ہوں کہ ہم

ورنہ اس سنجیدہ تر صنفِ سخن کی لوح پر
جب غزل لکھے تو پھر رُک رُک کے چلتا ہے قلم

اب یہ لازم ہے کہ اِس برگِ بہار انجام پر
زندگی کے کچھ خزاں افگن حقائق ہوں رقم

**

ذات اِک مبہم تصور، کیا وجود اور کیا عدم
عقل اِک اندھی پجارن کیا خدا اور کیا صنم

حاسّہ اِک بے حقیقت کیف کیا سمع و بصر
خاصّہ اِک پر فریب احساس کیا جود و کرم

مادّہ اِک نا رسیدہ جسم کیا ارض و سما
ماہیت اِک ناشنیدہ اسم کیا خلق و قدم

الغرض اس زندگی کے بے نہایت پیچ و خم
ایک نقطے کے ہزاروں زاویے ہیں بیش و کم

ایک ہی نقطہ کے دو رخ ہیں زماں ہو یا مکاں
فلسفہ نے ہم کو سمجھائے یہ اسرار و حِکَم

ایک ذرّہ کا تموّج یہ خلا کی وسعتیں
ایک لمحے کا تسلسل یہ زمانے کا بھرم

وہ کوئی ذرّہ ہو یا لمحہ اساسِ کائنات
ہے وہی نورِ محمّد اس کی عظمت کی قم

نور وہ جو رمزِ ایجاد و بقائے کائنات
نوعِ انساں پر ربوبیّت کا بے پایاں کرم

**

پھونک کر دشتِ عرب کی کوکھ میں رُوحِ اِرم
اِک گھنیری چھاؤں پھیلا دی سرِ فرقِ امم

وہ قدیم انسان تخلیقِ جہاں سے بھی قدیم
جس کے احساسات کی تجسیم ہیں لوح و قلم

وہ بقا پرور کہ با معنی ہے مفہومِ وجود
وہ فنا دشمن کہ اب اِک لفظ مہمل ہے عدم

وہ ازل آثارِ تعلیمِ ملائک جس کی بھیک
وہ ابد کردارِ جنّت جس کے دروازے پہ خم

جس کے بل پر ناز کرتا ہے امانت کا مزاج
جس کے دم سے سانس لیتا ہے دیانت کا بھرم

اُس سے باتیں کر کے پا لے ہم کلامی کا شرف
تھم، خدا کے واسطے، اے نارسا ادراک تھم

اے قضا آگاہِ مرسل اے قدر پیما نبی
اے عمودِ خیمۂ جاں اے وجودِ کیف و کم

تُو دیارِ آگہی میں رب کے ہونے کا نشاں
تُو فصیلِ فہم پر توحیدِ خالق کا علم

عقل کی خاکِ تیمّم ہے ترے قدموں کی دھُول
فکر کا آبِ وضو ہے تیری پیشانی کا نَم

(مرحوم علامہ طالب جوہری کی کتاب حرفِ نمو سے انتخاب)

جواب چھوڑیں