صبر و ضبط کی جاناں داستاں تو میں بھی ہوں داستاں تو…

صبر و ضبط کی جاناں داستاں تو میں بھی ہوں داستاں تو تم بھی ہو
اپنی اپنی عظمت کا آسماں تو میں بھی ہوں آسماں تو تم بھی ہو

ساحلوں کی دوری سے ساونوں کے موسم میں کیسے ڈوب سکتے تھے
بے قرار موسم میں بادباں تو میں بھی ہوں بادباں تو تم بھی ہو

جسم اپنے فانی ہیں، جان اپنی فانی ہے، فانی ہے یہ دنیا بھی
پھر بھی فانی دنیا میں جاوداں تو میں بھی ہوں جاوداں تو تم بھی ہو

ہم نے جو بھی پایا ہے عشق کے خزانے سے وہ ہے دفن سینے میں
ان دکھوں کا جانِ جاں پاسباں تو میں بھی ہوں پاسباں تو تم بھی ہو

پھر پرانی رسمیں ہیں اور پھر وہی دنیا درمیاں میں حائل ہے
وقت اور سمے کا ترجماں تو میں بھی ہوں ترجماں تو تم بھی ہو

ہم بچھڑ چکے لیکن رسم و راہ کی خاطر ملتے رہتے ہیں ورنہ
کچھ اداس شاموں کا رازداں تو میں بھی ہوں رازداں تو تم بھی ہو

ایک جیسا دریا ہے ایک جیسی موجیں ہیں ایک جیسی طغیانی
آبِ غم کی لہروں کے درمیاں تو میں بھی ہوں درمیاں تو تم بھی ہو

(بقا بلوچ)

المرسل :-: ابوالحسن علی ندوی

جواب چھوڑیں