کیا ہمیں آزادی راس نہیں آئی

ثاقب رحیم
اس دور ابتلا میں نبی پاک کا فرمان جو انہوں نے اپنے آخری خطبے میں ارشاد فرمایاتھا کہ کسی عربی کو کسی عجمی پر کسی گورے کو کسی کالے پر کوئی فوقیت نہیں ماسوائے تقویٰ کے ۔ تقویٰ کا مطلب اب مسلمانوں کی سمجھ اور عقل سے باہر ہوچکا ہے کہ مغربیت اور جدیدیت کے جنون نے تمام آداب اور اسلامی اطوارسے دور ہورہے ہیں، اس جنون کی منزل کیا ہے یہ تو اس میں مبتلا بھی نہیں جانتے، بس ایک دھن ہے جو ذہنوں پر بے طرح سما چکی ہے، اور قومیں اس پاگل پن کو ہی اپنی منزل سمجھ کر اسکے پیچھے دوڑے چلی جارہی ہیں۔
آج پوری دنیا کسی نا کسی طور مذہبی، جنسی اور قومیت کی عفریت کا شکار ہے۔ گورے تو کالوں کو کبھی برداشت نہیں کرسکتے کہ وہ ہندوقوم میں اچھوت کے فلسفے کے پیروکار نظر آتے ہیں، جیسے شودر یا اچھوت انکے معاشرے میں کمی کمین کے طور پر قبول کئے جاتے ہیں، اسی طرح گورے سیاہ فام کو غلام بناکر یا تیسرے درجے کے شہری کے طور پر قبول کرتے ہیں۔ امریکہ اور یورپ میں جہاں سیاہ فام یا مسلمان خاندان رہتے ہیں وہاں سے انگریز نقل مکانی کرکے ایسے علاقوں میں ہجرت کرجاتے ہیں جہاں سفید فام رہتے ہیں ، یعنی یہ تفریق انسانوں کے خون میں نفرت بن کر رواں دواں ہے ۔ ہمارے نبی اکرم نے سختی سے اس منافرت سے منع فرمایا ہے ۔ لیکن میرے خیال میں کہ اس کا مظاہرہ اسی معاشرے میں سب سے زیادہ دیکھا جاتا ہے جہاں پر ہدایت کی گئی ہے ، یعنی عرب میں ۔ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ عرب قوم کسی بھی وجہ سے اپنے آپ کو دنیا ئے اسلام میں افضل ترین گردانتی ہے۔ تیل کی دریافت سے قبل عربوں کی جو حالت تھی وہ سب جانتے ہیں ،لیکن جونہی عرب کے ریگستانوں اور میدانوں میں خام تیل دریافت ہوا تو عربوں کو وہ شان و شوکت نصیب ہوئی جس کا تصور بھی شاید ان کے لئے محال تھا۔اللہ تعالیٰ نے ان کو دولت کی فراوانی دکھائی ۔
ہم میں سے اکثر نے یہ بات محسوس کی ہے کہ عمرے اور حج کے مواقعوں پر بیرون ممالک کے حجاج کرام سے عربوں کا سلوک اس بات کا غماز ہے کہ وہ کسی قسم کی برتری کا شکار ہیں۔ حج مسلمانوں کا ایک مذہبی فریضہ ہے اور پوری دنیا سے مسلمان مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں اکٹھے ہوتے ہیں ۔عربوں کیلئے یہ آمدن کا بھی ایک بہت ذریعہ ہے۔
نئی نسل کیلئے اپنی تاریخ جاننا بہت ضروری ہے کیونکہ ہم اپنے اسلاف کی بجائے ان لوگوں اور قوموں کی تاریخ زیادہ جانتے ہیں جنہوں نے ہمیں ہماری جہالت کے طفیل غلام بنائے رکھا اور ہمیں خوب ہماری اوقات دکھائی اور کمال یہ ہے کہ ہم اسی پر فخر کرتے ہیں کہ ہمارے باپ دادا انگریزوں کی غلامی کرکے آج کن رتبوں اور مراعات سے فیض یاب ہورہے ہیں۔
کتابوں میں پڑھ رکھا ہے کہ تیل نکلنے سے پہلے عرب دنیا کی حالت بہت دگرگوں تھی۔ ایک پرانی فلم ”لارنس آف عربیہ “میں اسے بڑے واضح طریقے سے پیش بھی کیا گیا ہے۔ واقعہ کا مختصر بیان کچھ یوں ہے کہ برطانوی فوج کے ایک لیفٹیننٹ جنرل سرفرینڈوک سٹیلے کو بغداد فتح کرنے کی ذمہ داری دی گئی، بغداد پہنچنے پر اسکی ملاقات ایک چرواہے سے ہوئی ، اس نے اپنے مترجم سے کہا کہ اس چرواہے سے کہو کہ اپنے بھیڑ بکریوں کی رکھوالی کرنے والے کتے کو ذبح کردے، چرواہے نے منع کردیا تب اس جنرل نے کہا کہ اسے ایک ”شلنگ“ یعنی ایک پیسہ دو، اس پر اس چرواہے نے رکھوالے کتے کو کاٹ دیا جو اسکا بہت وفادار ساتھی تھا، لیکن اس زمانے میں ایک شلنگ بہت قیمت رکھتا تھا، جنرل نے ایک شلنگ کا لالچ اور دیا اور کہا کہ اپنے کتے کی کھال بھی اتار دواسکے بعد جنرل نے کہا ایک اور شلنگ کے بدلے کتے کے چار ٹکڑے کردو، وہ بھی ہوگیا، اس کے بعد جنرل نے چوتھا شلنگ دیا کہ اس کتے کے گوشت کو کھاو¿ اور جنرل نے کہا کہ میں نے یہ اس لئے کیا کہ میں اس ملک کے اقدار کا جائزہ لے سکوں، اس نے کہا کہ یہ قوم پیسوں کیلئے اپنی انتہائی وفادار شے کو قتل کرکے اسکا گوشت بھی کھا سکتے ہیں، اس کے بعد اس نے اپنے سپاہیوں سے کہا خوف زدہ مت ہو، ایسی ذہنیت کی قوم و ملک کو بہت آسانی سے خرید کر شکست دی جاسکتی ہے، لڑنے کی ضرورت ہی نہیں پڑیگی۔
چونکہ اسلام اور مسلمانوںکاقبلہ و کعبہ سب کچھ سعودی عرب میں ہے اور ان مقدس مقامات کی موجودگی میں پوری اسلامی دنیا ان کی عزت کرتی ہے۔
دوسری طرف ہم دیکھتے ہیںکہ آج ایک بار پھر امریکہ میں سفید اور سیاہ فام کے درمیان نفرت کی آگ بھڑک اٹھی ہے جو کس انجام تک پہنچتی ہے وہ بعد کی بات ہے، مارٹن لوتھر سینئر اور مارٹن لوتھر جونیئر کی تحاریک کے بعد اب پھر وہی حالات درپیش ہیں یعنی یہ نفرت بجائے کم ہونے کے مزید بڑھ گئی ہے۔
1944ءمیں ہونیوالے ایک مضامین لکھنے کے مقابلے میں جو کولمبس اور ہیویو میں منعقد ہواتھا ‘میں ایک سولہ سالہ سیاہ فام نے مقابلہ جیتا تھا۔ اس کے مضمون کا ایک فقرہ پورے مغرب میں مقبولیت اختیار کرگیا۔
مقابلے میں مضمون کا عنوان تھا ”جنگ کے بعد ہٹلر سے کیا سلوک کیا جائے“۔ جو فقرہ تمام مضامین پر بھاری ثابت ہوا وہ تھا۔
”Put Him In A Black Skin And Let Him Live The Rest Of His Life In America“۔
یعنی ہٹلر کو سیاہ فاموں کی کالی رنگت والی کھال میں ڈھالا جائے اور باقی ماندہ زندگی سیاہ فام رنگت میں امریکہ میں گزارنے کیلئے چھوڑ دیا جائے۔
جنگ عظیم دوئم میں موجود منافرت بھری سوچ اور حالات تاحال قائم ہیں اور یہ قیامت تک ختم نہیں ہوسکتے، اسی لئے تو انسانِ اعظم حضرت محمد نے آج سے 15سو سال پہلے اس حقیقت کو بھانپ لیاتھا ، اسی لئے اپنی آخری گفتگو یا ہدایات میں اس امر کو اجاگر کیااور پوری انسانیت کو اس کی تباہ کاریوں سے آگاہ کیا اور ایسے وقت سے بچنے کی تنبیہ کی۔
سمجھنے والی اقوام حالات سے سمجھ کر ترقی کرتی ہیں، جیسے جاپان نے ایٹم بم کے حملوں کے بعد بدلے کی بجائے اس سے سبق حاصل کرکے خود کو مضبوط بنانے کا عزم کیا اور آج دنیا کے سامنے ہیں وہ لوگ، اسی طرح ایک سمجھدار آدمی نے چھوٹے سے واقعے سے عبرت حاصل کی اور اپنے ملک کو اپنے پاو¿ں پر لاکھڑا کیا۔
روس کے سابقہ صدر میخائل گوربا چوف نے اپنی سوانح عمری میں ایک چھوٹا سا واقعہ تحریر کیا ہے جو دلچسپی سے خالی نہیں ہوگا۔
اس نے لکھا ہے کہ اس کی جواں عمری میں جب وہ یورپ میں زیر تعلیم تھا اس کے ساتھ دو جاپانی طلبہ بھی حصول علم میں شامل تھے۔ اس نے بتایا کہ دوسری جنگ عظیم ابھی ختم ہوئی تھی اور اس کے برے اثرات پوری دنیا پر چھائے ہوئے تھے، خاص طور پر جاپان ایٹمی دھماکوں سے بری طرح زخمی تھا، اور تقریباً ملک کا بیشتر حصہ تباہ ہوچکا تھا، اور ابتلاءکا دور تھا۔ معاشی تباہ حالی اور اس پر اقتصادی پابندیوں نے برا حال کیا ہوا تھا، اس ابتر حالات میں وہ دونوں جاپانی طالب علم باری باری نوٹس لکھا کرتے تھے۔ جب ایک لکھتا تھا تو دوسرا پنسل کو تراشتا تھا اور اسی طرح اپنی باری پر دوسرا یہی کرتاےھا اور ان کے پنسل کا سقہ بھی بار بار ٹوٹ جاتا تھا، کہ ان کے پاس جو پنسلیں تھیں وہ گھٹیا کوالٹی کی تھیں ۔ یاد رہے اس وقت تک جاپان ترقی پذیر بھی نہیں تھا، ساتھی طلبہ نے انہیں کافی مرتبہ بہتر پنسل استعمال کرنے کا مشورہ بھی دیا، جو مہنگی اور برطانیہ کی بنی ہوئی تھیں، ان کی آنکھوں میں آنسو ہوتے اور انہوں نے جواباً کہا ۔
”اگر ہم خود اپنے ملک کی اشیاءنہیں خرید سکتے چاہے گھٹیا ہی ہوں اور استعمال نہیں کرتے تو دوسرے ان کو کیسے خرید کر استعمال کرینگے اور ہماری ملک کی صنعت کیسے ترقی کرے گی۔ ہمیں اعتراف ہے کہ ہمارے ملک میں بنی ہوئی اشیاءکا معیار بہتر نہیں، لیکن ایک دن دنیا دیکھے گی کہ جاپان کی اشیاءکا معیار کیا ہے“۔
ہمارے ملک پاکستان میں بننے والی اشیاءکی خرید و فروخت اور استعمال کو ہم کیا مقام دیتے ہیں ،یہ ہم سب کیلئے لمحہ فکریہ ہے۔ ہمارے صنعت کاروں پر بھی لازم ہے کہ وہ معیار اور خریدار کی جیبوں کا خیال رکھیں تاکہ ان کی جیبوں کے ساتھ ساتھ ملکی خزانہ بھی بھرے۔
چرچل بھی انتہائی متعصب شخص تھا ۔اس نے بھی سیاہ فام افراد کو بہت برے حالات سے دوچار کیا، ان سے کام لینے کے بعد انہیں آئر لینڈ بھجواکرقید کروا دیا اور ان پر آج کل کی طرح دہشتگرد ،بدمعاش اور تخریب کاری جیسے الزامات لگاکر سینکڑوں غلاموں کو موت کی نیند سلادیا، غیر معینہ مدت تک قید و بند کی صعوبتوں سے ہمکنار کیا اور لاتعداد کو گولیوں سے چھلنی کردیا۔ چرچل بھی مودی کی طرح ” Self Rule“ یعنی ہندو توا جیسے نظریات کا زبردست حامی تھا، اور چاہتا تھا کہ سیاہ فام اپنے ملکوں میں دھکیل دیئے جائیں اور انہیں انتخابات میں ووٹ کا حق بھی نہ دیا جائے وہ کہتا تھا۔
”I Do Not Agree That The Dog In A Manager Has The Final Right To The Manager“
یعنی سیاہ فام کو وہ کتا سمجھتا تھا اور کہتا تھا کہ اگر کوئی کتا (سیاہ فام) اگر منیج منٹ میں ہے تو اسے منیجر بننے کا حق نہیں دیا جاسکتا۔ سفید فاموں کا آقاو¿ں والا رویہ ہندوستان میں بسنے والے تمام اقوام نے دیکھا ہے۔ جب انگریزوہاں حکمران تھا۔ آج مغرب کا رویہ پوری دنیا میں غریب ممالک کے ساتھ وہی ہے۔ وہ خود کو اعلیٰ اور برتر سمجھتے ہیں جبکہ انگریز خود کو اونچی نسل کی قوم سمجھتے ہیں، اور کہتے ہیں کہ دنیا بھر میں حکومت کا حق صرف ان کا ہے اور ان کے غلام کبھی آقا نہیں بن سکتے ۔ اب فیصلہ ہم پر ہے کہ کیا ہمیں حضور اکرم نے غلام بنایاتھا یا قائد اعظم نے بھی کوشش کرکے ہمیں آزاد قوم بنایاتھا؟
کیا ہم آزاد ہیں، یا مادر پدر آزاد قوم بن چکے ہیں؟
(کالم نگارسیاسی وسماجی ایشوزپرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭



بشکریہ

جواب چھوڑیں