ابدان ۔۔ مختار پارس | مکالمہ


جسم کی حیثیت اس وقت تک ہے جب تک زندہ ہے اور کامل ہے۔ اگر کوئی حصہ جسم سے الگ ہو جاۓ تو پھینکنا پڑتا ہے اور اگر جان جسم سے نکل جاۓ تو دفنانے کی جلدی کرنا پڑتی ہے۔ جو الگ ہو جاتے ہیں انہیں جسم کے درد کی پرواہ نہیں ہوتی اور جسم کے ساتھ وہ دوبارہ جڑ نہیں سکتے۔ جنہیں زندگی کہا جاتا ہے وہ بھی کبھی روانہ ہوتے وقت پیچھے مڑ کر دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتے۔ رب کے نظام میں جب کسی کو بلا لیا جاتا ہے تو پھر کوئی رک نہیں سکتا۔ جسم ایسے ٹوٹ کر گرتے ہیں جیسے باد و باراں میں برگ و بار۔روح ایسے روانہ ہوتی ہے جیسے کوئی مشتِ خاک کو ہوا میں اچھال دے تو مٹی تھوڑی دیر ہوا میں رہ کر وہیں گر جاتی ہے مگر بادِعمر کبھی سرسر کبھی صبا بن کرتیزی سے گزر جاتی ہے۔ زندگی بس اتنی ہے۔ تمام عمر دیدہ و دہن اور کام و سخن کو جو نظر آتا ہے وہ خاک کے سوا کچھ نہیں ۔ جو اصل سرمایہء تن ہے، وہ کسی کو نظر ہی نہیں آتا۔

بدن کو بت بنتے دیر نہیں لگتی اور بتوں کو صنم خانے میں سر جھکانے والے تو کبھی ڈھونڈنے ہی نہیں پڑتے۔ خدا کو دیکھنے کی خواہش پتھروں کو دھڑکن عطا کر سکتی ہے۔ اپنے بناۓ ہوۓ بتوں کے آگے سجدہ ریز ہونے کا حکم وہی دے سکتا ہے جس کو اپنے ہنر پر ناز ہو۔ سر جھکانے سے انکار وہی کر سکتا ہے جس کو سچ معلوم ہو۔ بے خبری ہمیشہ جھکنے پر مجبور کرتی ہے۔ انسان کو آسمانوں سے سرمایہء تن کی تلاش میں اتارا گیا ہے۔ اس نے ثابت کرنا ہے کہ مشتِ خاک کا اعجاز اسے سجدہ ریزوں سے ممتاز کرتا ہے۔ خدا کو صرف سجدوں کی ضرورت ہوتی تو اس کام پر مامور نورانی فرشتے کیا کم تھے۔ مٹی میں روح کسی اور مقصد کےلیے پھونکی گئی ہے۔ انسان عالمِ نیست میں ہستی کا ایک موہوم اشارہ ہے کہ خدائی تفویض ہو سکتی ہے۔ خدا کوسجدوں سے محبت ہوتی تو کیا وہ ازل سے عبادات میں مصروف ملائکہ کو انسان کو سجدہ کرنے کا کہتا۔ اسے تو اس بدن سے محبت تھی جسے اس نے کچھ سوچ کر تخلیق کیا تھا۔ اس نے آدم کو ہر چیز کے نام سکھا دیے تاکہ وہ سجدوں سے آگے سوچ سکے۔ جو علم کی حدوں سے آگے جھانکنے سے انکار کرتا ہے، وہ سجدوں سے آگے نہیں سوچ سکتا۔

جسم جب سوچتا ہے تو روح تحلیل ہوتی ہے۔ جسم کچھ بھی سوچ سکتا ہے اور روح کہیں بھی جا سکتی ہے۔ جسم کا مدار اس دنیا تک محدود ہے مگر روح کی پرواز کی حدود نہیں۔ جسم صرف اپنے بارے میں سوچ سکتا ہے اور روح کسی بھی مکان میں مقیم ہو سکتی ہے۔ جب کاٹنے پر بدن میں لہو نہ ہو تو تکلیف کسی اور بدن میں بھی ممکن ہے۔ مگر یک جاں ہونے کا تصور روح سے نتھی ہے۔ کششِ ثقل ہو یا اڑانِ خاطِر، بغیر محبت کے یہ کیمیاگری ممکن ہی نہیں۔ جسم کے بغیر محبت کا تصور ادھورا ہے اور روح کے سوا ابدان آتش کدے۔ بدن میں آگ ہو تو جلا کر راکھ کر دیتی ہے اور روح بھڑک اٹھے تو نمرود کی مجال نہیں۔ جو الفاظ زبان سے نکلتے ہیں وہ صرف مطلب پورا کرتے ہیں۔ روح کی عمیق گہرائی سے کشید کی گئی بات لفظوں کی محتاج نہیں۔ ایسے لفظ ٹوٹے پھوٹے بھی ہوں تو جسم و جاں کو جوڑ دینے کا اثر رکھتے ہیں۔ ارسطو نے کتابیں بھر دیں، سکندر نے دنیا لتاڑ ماری، سِسرو نے خطابت کے سحر میں جکڑ ڈالا مگر ایک توتلا بولنے والا ‘کلیم اللہ’ بن گیا۔ روح کی تجلی نے کوہِ طور کو آنکھ کا سرمہ بنا ڈالا اور ابدان سرخ انگاروں پر جھلستے رہ گئے۔

ماس اور باس مہہ و سال گننے کےلیے ہوتے ہیں۔ خون رگوں میں دوڑنے کےلیے پابند ہے اور ہڈیاں گوشت کو سہارا دینے کےلیے۔ دست و بازو اپنی آگ بجھانے پر مامور ہیں اور قدم وہیں جاتے ہیں جہاں انہیں قیام ملتا ہے۔ آنکھ بھی باربار اسی طرف اٹھے گی جہاں سے تشنگی بجھے گی اور دل بھی تب تب دھڑکے گا جب جب ناز اٹھے گا۔ پھر ایک لمحہ آتا ہے جب انسان، جسم کی میلی چادر اتار کر پھینک دیتا ہے۔ جسم اگر بھوک پیاس پر غالب آ جاۓ تو پھر زندگی لہو کی گردش کی محتاج نہیں رہتی۔ ہاتھوں کی طاقت اگر دوسروں کو سہارا دینے کےلیے استعمال ہونے لگے تو انسانیت کی معراج یہی ہے۔ قدم اگر اس راستے پر چل پڑیں جو دشوار ہو تو یہ نصرت کی نوید ہے اور آنکھ اگر حسنِ بیتاب کی طرف ایک بار اٹھ کر دوبارہ نہ اٹھے تو یہ پیغمبری ہے۔ انسان پیدا خود ہوتا ہے مگر اسے زندہ دوسروں کےلیے رہنا پڑتا ہے۔ اگر وہ صرف اپنے لیے زندہ رہے تو صرف جسم بن کر رینگتا رہتا ہے اور اگر باعثِ حیات کوئی مقصدِ عظیم ہو تو روحِ رواں بن کر پرواز کرتا ہے۔

ہر جسم ایک علیحدہ اکائی ہے۔ ہر انگشت کے نشان مختلف ہیں۔ ہر دست پر کچھ جدا لکھا ہے۔ جس نے خود کو ڈھونڈ لیا، وہ زمان و مکان کی قید سے نکل کر منفرد ہو گیا۔ جس کی نگاہ خیرہ ہوکر امتیاز نہ کر سکی، وہ ریت بن کر ریت میں بکھر گیا۔ تنہائی بھی ایک خدائی ہے۔ انسان اگر یکتا ہونے کا ہنر نہیں سیکھے گا تو تخلیقِ کائنات کی توثیق نہیں ہو سکے گی۔ اسے محبت بھی کرنا ہے اور قہر بن کر ٹوٹنا بھی ہے۔ اسے رحم بھی کرنا ہے اور انصاف بھی۔ وہ نہ تدبیر ہے اور نہ تقصیر، نہ جفا نہ سزا، نہ خیال نہ حقیقت۔ وہ ابتدا ہے اور انتہا۔ اسے اپنے ہونے کی وجہ ڈھونڈنا ہے۔ بدن اس پیام کے اظہار کا ذریعہ ہے اور کچھ نہیں۔ کون ہے جو خط کھول کر پڑھنے کے بعد کچھ سوچے گا نہیں۔ محبت کا یہ نامہ، قیامت سے کم نہیں۔





بشکریہ

جواب چھوڑیں