سرکار بنام غلام سرور خان ….

شفیق اعوان
چیف جسٹس پاکستان جناب جسٹس گلزار احمد صاحب آپ نے بھی وزیر ہوابازی غلام سرور خان کا قومی اسمبلی میں پی آئی اے حادثہ کے متعلق یہ بیان سنا ہو گا کہ وطن عزیز میں 40فیصد پائلٹس کے لائسنس جعلی ہیں۔ یعنی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے جعلی لائسنس جاری کر کے ملک میں ہوائی سفر کرنے والے مسافروں کی زندگی داﺅ پر لگا دی ہے ۔ ان حادثات میں جانیں گنوانے والوں کا یہ صریحاً قتل ہے حادثہ نہیں ۔40 فیصد جعلی لائسنسوں کے انکشاف نے عالمی سطح پر پاکستان کی ائیر لائن انڈسٹری کی ساکھ کو بھی مشکوک بنا دیا ہے ۔ پاکستانیوں کی تو مجبوری ہے کہ ان کے پاس ائیر لائنز کی آپشن کم ہیں لیکن اس رپورٹ کے بعد اب کون غیر ملکی پاکستانی ائیر لائینز پر سفر کرے گا اور پاکستان کے تشخص کا کیا بنے گا۔ اس پر ظلم یہ کہ اس انکشاف کے باوجود یہ پائلٹس ابھی تک کام کر رہے ہیں اور اتنے بڑے انکشافات کے باوجود سول ایوی ایشن یا پی آئی اے کے ذمہ داران کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی۔ پی آئی اے والے جعلی لائسنسوں کی ذمہ داری سول ایویشن اتھارٹی پر ڈال رہے ہیں اور یہ ماننے کو تیار ہی نہیں کہ پائلٹس کے لائسنس کو کاﺅنٹر چیک کرنا ان کی بھی ذمہ داری ہے۔ آج تک سول ایوی ایشن کا سربراہ نہیں لگایا جا سکا اور ایڈہاک ازم سے کام چل رہا ہے ۔ جس ادارے کا سربراہ ہی نہ ہو اس میں ہونے والے سانحات کا کون جوابدہ ہو گا؟۔ پی آئی اے بھی جعلی لائسنسوں والے پائلٹس کی ذمہ داری اٹھانے کو تیار نہیں۔ لے دے کہ عدلیہ ہی ایک ادارہ رہ گیا ہے جو حکومت اور اس کے اداروں کو جھنجوڑ سکتا ہے۔ آپ سے اپیل ہے کہ وزیر ہوابازی کے انکشافات پر سوموٹو ایکشن لے کر معاملات کو درست کرنے کے احکامات جاری کریں تا کہ آیندہ نقصانات سے بچا جا سکے۔
اطلاعات کے مطابق وزیر اعظم عمران خان نے وزیر ہوابازی چوہدری غلام سرور خان کو وزارت پٹرولیم سے اس لیے علیحدہ کیا کہ پٹرولیم کی وزارت ان کے لیے تکنیکی تھی اور سادہ لوح غلام سرور خان کو اس کی سمجھ بوجھ نہ تھی۔ وزیر اعظم بادشاہ آدمی ہیں کسی کی نااہلی کو تکنیکی امور سے نابلدی سے تشبیہ دے کر اسے پہلے سے زیادہ تکنیکی وزارت یعنی ہوا بازی دے دی۔ یہ وہی چوہدری غلام سرور ہیں جنہوں نے جب ان کے خلاف آمدن سے زائد اثاثوں پر نیب انکوائری کی خبر آئی تو اسمبلی کے فورم پر کہا کہ وہ تو خوش ہیں کہ انہیں کوریج مل رہی ہے۔ جب ایک وزیر ایک نیب انکواری پر خوشیاں منائے گا تو اس کی اہلیت کا اندازہ با آسانی کیا جاسکتا ہے۔ عین اسی طرح میڈیا کوریج کے لیے وہ طیارہ حادثہ پر پہلے دن جس طرح سنسنی پھیلا رہے تھے مجھے تب ہی ڈر تھا کہ سستی پبلسٹی کے چکر میں اس نان ٹیکنیکل آدمی سے کوئی بڑا بلنڈر نہ ہو جاے۔ اور وہی ہوا۔
طیاروں کے کاک پٹ میں ہوئی پائلٹوں کی باہمی گفتگو تحقیقات مکمل ہونے تک عام کرنا غیر قانونی ہے اور محض واہ واہ سمیٹنے کے لیے وفاقی وزیر نے یہ کام پارلیمنٹ کے فورم پر کیا۔ پی آئی اے کے ائیر بس طیارہ حادثہ کی ابتدائی رپورٹ پارلیمنٹ میں پیش کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے شہری ہوا بازی غلام سرور خان نے بہت زور دے کر بتایا کہ پائلٹس کورونا وائرس پر گفتگو کر رہے تھے۔
شہری ہوا بازی کے بین الاقوامی ادارے انٹرنیشنل سول ایوی ایشن آرگنائزیشن (اکاو) کے قانون Non Disclosure of records 5 12 ICAO Annex 13 کے تحت حادثہ کے شکار پائلٹوں کی کاک پٹ میں ہوئی گفتگو کو قانونی تحفظ حاصل ہے۔ کاک پٹ کی گفتگو کسی بھی حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے بہت اہم ہوتی ہیں اورحتمی رپورٹ آنے تک اسے خفیہ رکھا جاتا ہے۔ انہوں نے وہ بھی طشت از بام کر دیں بلکہ اپنے رفقاءکو سنائیں بھی۔ اور وہی ہوا۔ میرے خیال میں کراچی طیارہ حادثے میں انہوں نے نہ صرف حد سے تجاوز کیا بلکہ یہ انکشاف کر کے کہ پاکستان کی ائیر لائن انڈسٹری کے 40 فیصد پائلٹس کے پاس جعلی لائسنس ہیں اقوام عالم کی نظر میں پوری انڈسٹری کو محفوظ سفر کے حوالے سے ہی مشکوک بنا دیا۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ وہ اس کے ساتھ ہی ان پائلیٹس کے لائسنس منسوخ کرنے ، ان لائسنسوں کا اجراءکرنے والوں اور جعلی لائسنس رکھنے والے پائلٹس کے خلاف کارروائی کا بھی پارلیمنٹ میں ذکر کر دیتے تا کہ دنیا کو پتہ چل جاتا کہ پاکستان میں سزا اور جزا کا موثر نظام موجود ہے۔ صرف اپنی واہ واہ اور حکومتی کارکردگی کے لیے کہ ہم نے جعلی لائسنس کے حامل پائلٹس کا پتہ لگا لیا ہے‘ کا اعلان کر کے انہوں نے پاکستان کی ڈوبتی ائیر لائن انڈسٹری کو غرقاب کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ وزیر موصوف سول ایویشن اتھارٹی کے کرتا دھرتاﺅں کے خلاف بھی کارروائی کی تفصیل بھی ایوان میں رکھتے۔ لیکن انہوں نے محض اپنی واہ واہ کے لئے خانہ پری کرتے ہوئے پائلٹس کو قربانی کا بکرا بنا کر پوری دنیا میں پاکستان کے امیج کی ایسی تیسی پھیر دی۔ غلام سرور خان کی یہ تیسری پارٹی ہے اور ان کی واحد کوالیفیکیشن جو یہ فخر سے بتاتے ہیں کہ چوہدری نثار کو سیاست میں لانا اور انہیں شکست دینا ہے۔
آپ پی آئی اے کی غیر ذمہ داری کا اندازہ کریں کہ ان کے ترجمان عبداللہ کل چینل 5 کے پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں مجھے اپنا موقف دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ لائسنس کا اجرا ءسول ایوی ایشن اتھارٹی کرتی ہے اور ہم کسی بھی پائلٹ کو ملازمت دیتے وقت لائسنس اور ڈگریوں کی تصدیق نہیں کرواتے اور جعلی لائسنس کی ذمہ دار سول ایوی ایشن اتھارٹی ہے۔ یعنی پی آئی اے اپنے پائلٹوں کے لائسنس اور ڈگریوں کی تصدیق کیے بغیر سینکڑوں مسافروں کی زندگیاں ایسے نااہل پائلٹس کے حوالے کر دیتی ہےں۔ اس سے یادہ مجرمانہ غفلت اور غیر ذمہ داری اور کیا ہو گی۔
وزیر اعظم عمران خان کو چاہیے کہ تکنیکی صلاحیت کو تو چھوڑیں‘ کامن سینس سے عاری بعض وزراءکو سیاسی مجبوریوں کے پیش نظر اگر رکھنا ہی ہے تو انہیں وزیر بے محکمہ ہی کر دیں۔ عمران خان کی نیک نیتی پر کوئی شک نہیں لیکن وہ اپنی ٹیم پر نظر دوڑائیں اور ایسے وزراءسے جان چھڑائیں جو نہ صرف ان کا امیج بلکہ پاکستان کا امیج بھی برباد کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔
سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ڈپٹی ڈی جی عامر محمود نے تصدیق کی کہ پائلٹس کو لائسنس سول ایوی ایشن اتھارٹی دیتی ہے لیکن اس سوال کا جواب ان کے پاس بھی نہیں تھا کہ بقول وزیر ہوابازی 40 فیصد جعلی لائسنس کیسے جاری ہو گئے اور کون ذمہ دار ہے۔
کراچی طیارہ حادثے کے علاوہ ماضی میں ہونے والے حادثات کی رپورٹ بھی جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ائیر بلیو اور بھوجا ائیر لائن کے حادثات بھی پائلٹ کی غلطی قرار۔ گو کہ تحقیقات میں یہ نہیں بتایا گیا یا چھپایا گیا کہ ان حادثات کا شکار جہازوں کے پائلٹس بھی جعلی لائسنس رکھتے تھے ۔ پاکستان کی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے جعلی لائسنس جاری کر کے ہزاروں مسافروں کی زندگی سے کھیلنے کے ساتھ ساتھ پاکستانی ہوابازی کی صنعت کا بیرونی دنیا میں تشخص بری طرح تباہ کر دیا۔ لیکن سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ایک بھی فرد کے خلاف کاروائی نہیں کی گئی۔
چیف جسٹس صاحب سے اپیل ہے کہ وہ اس کا نوٹس لیں ورنہ سیاست میں لتھڑے ہوئے اس نظام میں (خدانخواستہ )اگلے حادثے تک ایک اور فائل بند ہو جائے گی ۔
میرے گزشتہ کالم بعنوان ” عمران خان نااہل ٹیم کا کپتان …. “کے حوالے سے90 فیصد قارئین نے سراہا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی نیک نیتی پر کوئی شک نہیں لیکن ان کی ٹیم آپس میں ہی دست و گریبان ہے اور ہر کسی نے پارٹی کے اندر اپنی پارٹی بنائی ہوئی ہے جس کی وجہ سے حکومت کی کارکردگی شدید متاثر ہوئی ہے۔
ایک وفاقی وزیر نے بتایا کہ آنے والے وقت میں فواد چوہدری سے زیادہ بڑے انکشافات سامنے آ سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا وفاقی کابینہ میں ٹیم ورک کا فقدان ہے اور وزیر اعظم کو بھی اس کا بخوبی علم ہے۔ قارئین کرام اپنی رائے کا اظہار اس وٹس ایپ 03004741474 پر کریں۔
( کالم نگار سینئر صحافی ہیں)
٭….٭….٭



بشکریہ

جواب چھوڑیں