سیاسی خلائ | Khabrain Group Pakistan

میاں حبیب اللہ
عوام نے تحریک انصاف کو ووٹ دے کر حق حکمرانی اس لیے دیا تھا کہ لوگ دو جماعتوں کی سیاسی اجارہ داری سے تنگ آ چکے تھے۔ لوگ یہ سمجھتے تھے کہ دونوں جماعتیں آپس میں مل کر عوام کو بے وقوف بنا رہی ہیں اور عوامی مسائل پر توجہ اس لیے نہیں دی جاتی کہ انھیں سیاسی کھیل سے آﺅٹ ہونے کا کوئی خطرہ نہیں، دونوں جماعتوں نے باریاں لگائی ہوئی ہیں لہٰذا قوم نے تیسری سیاسی قوت کو آزمانے کا فیصلہ کیا۔ اب صورتحال یہ ہے کہ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کی قیادتیں کرپشن، ناجائز اثاثے بنانے اور ملکی خزانہ لوٹنے سمیت سنگین الزامات کے تحت مقدمات کا سامنا کر رہی ہیں جبکہ حکومت جسے عوام اپنے دکھوں کے مداوا کےلئے لےکر آئے تھے وہ چل نہیں رہی بلکہ رینگ رہی ہے، مسائل بڑھتے جا رہے ہیں اور امیدوں کے چراغوں کی روشنی مدھم ہوتی جارہی ہے۔ ایسے میں تھرڈ آپشن والا فارمولا عوام کی توقعات پر پورا نہیں اتر پا رہا، نتیجہ یہ ہے کہ سیاسی خلاءپر ہونے کی بجائے مزید بڑھتا جا رہا ہے۔ لوگ سوچ رہے ہیں کہ اگر تحریک انصاف کی حکومت ناکام ہوتی ہے تو کون آئے گا ؟ کیا عوام کو دوبارہ ن لیگ یا پیپلزپارٹی پر اکتفا کرنا پڑے گا یا سیاسی لیب میں مختلف سیاسی جماعتوں کے بانگڑو اکھٹے کر کے کوئی نیا مکسچر تیار کیا جائے گا۔ کچھ ناامید لوگ یہ سوچ بھی رکھتے ہیں کہ چونکہ موجودہ پارلیمانی نظام ڈیلیور کرنے میں ناکام ہو چکا ہے اور یہ نظام ہمارے حالات سے مطابقت نہیں رکھتا اس لیے صدارتی نظام کی طرف جایا جائے۔ کچھ لوگ خالص ٹیکنوکریٹس کے سیٹ اپ کی بات کرتے ہیں ۔قصہ مختصر یہ کہ پاکستان میں سیاسی نظام مضبوط ہونے کی بجائے مزید کمزور ہو چکا ہے۔ عوام اب سمجھ رہے ہیں کہ کچھ اور ہونے والا ہے۔ کمزور سے کمزور حکومتیں بھی یہ تاثر برقرار رکھتی ہیں کہ کچھ نہیں ہونے والا لیکن حکومت کے کل پرزے حکومتی جماعت میں اختلافات اور وقت کم رہ گیا‘ کی باتیں کرتے ہیں جس سے یہ تاثر پیدا ہو رہا ہے کہ کسی وقت بھی کچھ ہو سکتا ہے ۔
دوسری جانب حکومتی اتحادی جماعتیں ایک دفعہ پھر انگڑائی لے رہی ہیں ۔قبل ازیں بھی ایک بار اتحادی جماعتوں نے سر اٹھایا تھا لیکن اس وقت جہانگیر ترین اور پرویز خٹک انھیں مطمئن کرنے میں کامیاب ہو گئے تھے لیکن جو وعدے ان سے کیے گئے تھے ان پر مکمل عمل نہیں ہو سکا۔ اب معاملہ بلوچستان سے شروع ہوا ہے جو بڑا حساس صوبہ ہے وہاں کی اتحادی جماعتوں نے حکومت سے علیحدگی کی باتیں شروع کر دی ہیں سردار اختر مینگل نے تو طبل جنگ بجا دیا ہے شاہ زین بگٹی ان کی تقلید میں آرہے ہیں۔ اسی طرح مولانا فضل الرحمن کی اختر مینگل سے ملاقات اور مولانا کی حکومت کے خلاف تازہ بڑھک بھی سیاسی حلقوں میں زیر بحث ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومتی ٹیم ان اتحادیوں کو کچھ لے دے کر مطمئن کر پاتی ہے یا نہیں کیونکہ آج کل فنڈز کی تقسیم کا بھی موسم ہے ۔لیکن اگر معاملہ فنڈز کی بجائے کچھ اور نکلا تو حکومت کےلئے مشکل وقت شروع ہو جائےگا پھر معاملہ وہاں تک نہیں رکے گا باقی اتحادیوں کے مطالبات بڑھیں گے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ایم کیو ایم، مسلم لیگ ق،مسلم لیگ فنگشنل کا اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے ۔اگر باقی کی اتحادی جماعتیں بھی مینگل اور بگٹی کی تقلید میں اپنے مطالبات کے حق میں سٹینڈ لے لیتی ہیں تو حکومت مشکل میں آجائے گی اور اس کا مطلب یہ ہو گا کہ کہیں تبدیلی کی باتیں ہو رہی ہیں۔ حکومت کےخلاف عدم اعتماد کی کامیابی کا امکان کم ہے البتہ اگر اتحادیوں اور اپوزیشن نے زیادہ تنگ کیا تو عمران خان سرنڈر کرنے کی بجائے اسمبلی توڑ دیں گے۔ پھر فیصلہ کیا جائےگا کہ ملک میں نئے الیکشن کروانے ہیں یا کوئی اور سیٹ اپ لے کر آنا ہے۔
بہرحال 2020 ءبڑا اہم سال ہے۔ ابھی تو کرونا کی چادر نے تمام تر معاملات کو چھپا رکھا ہے کرونا کی وبا تھمتے ہی نئی سیاسی صف بندیاں سامنے آئیں گی۔ یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ کرونا میں مبتلا ہونے پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کا میاں شہبازشریف کو فون، چین کی جانب سے انھیں علاج کی پیشکش کو مسلم لیگی حلقوں میں کچھ اور رنگ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے لیکن وہ یہ بات بھول رہے ہیں کہ آرمی چیف نے بیگم کلثوم نواز کی وفات پر میاں نوازشریف کو فون کیا تھا اور یہ ہماری سماجی روایات ہیں انھیں سیاسی آلودگی سے بچانا چاہیے۔البتہ عمران خان کو اپنے آپ کو تھوڑا سوشل کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ پاکستان کی سیاست میں لوگوں کی غمی خوشی میں جانا بہت ضروری ہے۔
(کالم نگار قومی وسیاسی امورپرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭



بشکریہ

جواب چھوڑیں