ہندی شاعرہ: روپم مشر نظم: چلی تھیں کلکٹر بنانے! …

ہندی شاعرہ: روپم مشر
نظم: چلی تھیں کلکٹر بنانے!
مترجم: آفتاب احمد ( چند الفاظ کی تبدیلی کے سوا یہ نظم اپنے ہندی روپ میں ہے)
اردو ہندی لکچرر ، کولمبیا یونیورسٹی نیویارک

چلی تھیں کلکٹر بنانے!

پہلی بار اسکول جاتے ہوئے خوب روئی تو
دادی نے ماں کو ڈانٹا، نہیں پڑھتی تو جانے دو!

چلی ہیں کلکٹر بنانے!

چولھے کے پاس راکھ پر اُنگلی سے لکھواتی
ماں پھر ڈانٹ دی گئی کہ
ابھی تک کھانا تیار نہیں ہوا

چلی ہیں کلکٹر بنانے!

ماں یہ الفاظ سُنتے سُنتے بوڑھی ہو رہی تھیں۔
اور میں بڑی
اتنی بڑی کہ جب اسکول میں کسی لڑکے کے چِٹّھی
پھینکنے پر ہنگامہ ہُوا تو
بابا لاٹھی لے کر ماں کی طرف دوڑے

گھونگھٹ میں سہمی ماں باورچی خانے کے
کِواڑ کے کونے میں چھپی کانپتی رہیں

اور میں اوسارے میں پُھپُّھو سے لپٹی روتی رہی
شاید انھیں رحم آ گیا ہم بےچاروں پر
وہیں آنگن سے لاٹھی چُولھے کے پاس پھینکتے ہوئے
پھر وہی کہا بابا نے

چلی تھیں کلکٹر بنانے!

کتابوں کو ہاتھ میں ہی تھامے
میں اب سسرال آ گئی تھی

معصوم مَن ابھی گھرداری نہیں سیکھ پایا تھا
قدم قدم پر ہوتی رہیں غلطیاں

جلتی اُنگلیوں پر گیلا آٹا چِپکاتی
سُنتی رہی ساس کی کڑک آواز
ایک بھی ڈھنگ نہیں سکھایا ماں نے تیری

چلی تھیں کلکٹر بنانے!

بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2805843156312866

جواب چھوڑیں