گستاخ رسول یوسف کذاب ‘تاریخی عدالتی فیصلہ (3)

میاںغفاراحمد
لبرلز قادیانی لابیز اور سب سے بڑھ کر ہمارے اپنی صحافتی برادری کے لوگوں نے ایسی ایسی باتیں،ایسے ایسے قصے گھڑے اورتحقیق کو حسد میں بدل کررکھ دیا۔ کسی نے تحقیق کی کوشش نہیں کی ،کسی نے ہم سے مقدمے بارے کوئی ریکارڈنہیں پوچھا۔ حتیٰ کہ عشق رسول کادعویٰ کرنےوالوںکوبھی توفیق نہیں ہوئی کہ وہ ”خبریں“سے رابطہ کرکے حقیقت جان سکیں ۔کسی کوبھی تنقیدی تاثرات دیتے وقت نہ تواللہ کے احکامات یادتھے اور نہ ہی نبی پاک کافرمان کہ پس تم تحقیق کرلیاکرو۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے جہاں ایک طرف ہمیں وکلاءکاایک پوراپینل دے دیا وہاں دوسری طرف ملک بھر کی قادیانی لابی یوسف کذاب کی وکالت کرنے کےلئے جمع ہوگئی۔ اب پرابلم یہ تھا کہ کسی بھی طور پر یوسف کذاب کی ضمانت نہیں ہوسکتی تھی لہٰذا قانون میں موجود چورراستوں کی طرح ایک چورراستہ یوںڈھونڈاگیا کہ کوئی بھی کیس جس کی دوسال تک سماعت شروع نہ ہواس کیس کے ملزم کی تکنیکی بنیادوں پر ضمانت لی جاسکتی ہے۔ لہٰذا التوائی حربے استعمال کیے گئے ۔ادھرکیس کبھی ہائیکورٹ، کبھی سپریم کورٹ ،کبھی کوئی بہانہ کبھی کوئی درخواست اوراس طرح دوسال گزاردیئے گئے مگر مقدمہ شروع نہ ہوسکا۔پھروہی ہواٹیکنیکل بنیادوںپرلاہور ہائیکورٹ کے جج جسٹس راشدعزیز خان نے یوسف کذاب کی ضمانت لے لی اور جو معاملات طے ہوئے ان کامجھے مکمل علم ہے تاہم جسٹس راشد عزیز خان اب دنیا میں نہیں رہے لہٰذا میں وہ تفصیلات بیان کرنا مناسب نہیں سمجھتا۔تاہم یہ بتاتاچلوں کہ عدالت کے روبرو جو ڈرامہ نمابحث ہوئی اس میں مفتی نامی خاتون اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت سے استدعا کی کہ ملزم یوسف کاکیس دوسال سے ٹرائل نہیں ہوا لہٰذا ان کی ضمانت لے لی جائے۔ جج صاحب نے کہاکہ محترمہ آپ سرکاری وکیل ہیں آپ سے تو یہ توقع رکھی جاتی ہے کہ آپ ضمانت کی مخالفت کریں گی، آپ کس کے کہنے پرایسا کررہی ہیں ۔ نئی نئی اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل بننے والی مفتی نامی اس خاتون نے کہاسر آپ کے کہنے پر ‘جس پرجج صاحب سٹپٹا گئے اورکہاکہ یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں تواس خاتون نے کہاکہ سوری سر مجھے ایڈووکیٹ جنرل نے ایسا کرنے کا کہا ہے۔عدالت میں لوگ ایک دوسرے کا منہ تکتے رہ گئے۔ روزنامہ جنگ کے کورٹ رپورٹر اورسینئر جرنلسٹ ریاض شاکر اس وقت عدالت میں موجود تھے انہوں نے من وعن عدالت میں ہونے والی کارروائی جنگ کے صفحہ اول پرسنگل کالم شائع کردی مگراس کے باوجود جسٹس راشد عزیز خان نے یوسف کذاب کوضمانت پررہا کرنے کاحکم دے دیا۔
اس واقعہ کے محض دوہفتے بعد مال روڈ لاہور پرای پلومربلڈنگ کے سامنے نامعلو م افراد نے فائرنگ کرکے جسٹس راشدعزیز خان کے بیٹے کو شدید زخمی کردیا اور وہ کئی دن زندگی اورموت کی کشمکش میں رہے پھر انہیں لندن شفٹ کر دیا گیا۔ کہا جاتاہے کہ ان کے علاج پر اس دور میں چارکروڑ روپے خرچ ہواتھاا ور دوسری طرف یوسف کذاب کے قریبی لوگوں کی صفوںمیں بیٹھنے والے ہمارے مخبروں کی اطلاع تھی کہ ضمانت کے عوض کسی وکیل کے ساتھ 40لاکھ میں ڈیل ہوئی ۔ میرے اللہ نے یہیں پر10گناجرمانہ وصول کرلیا مگر بات یہاں ختم نہیں ہوئی بلکہ قصور کے علاقے کنگن پور میں جسٹس راشدعزیز خان کی فیکٹری کوآگ لگ گئی اور ہرچیز کوئلہ بن گئی پھراس دوران جسٹس راشدعزیز خان پروموٹ ہوکرسپریم کورٹ چلے گئے مگروہاں بھی اپنی مدت ملازمت پوری نہ کرسکے بلکہ متعدد الزامات کے تحت بدنامی کاداغ سجائے نوکری چھوڑ کر گھر چلے گئے۔ ان لوگوں نے حرمت رسول کو مذاق سمجھ رکھاتھا کیا؟
ہائیکورٹ میں یوسف کذاب کی ضمانت کے فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ میں اپیل گئی تو سپریم کورٹ نے اس کی ضمانت تو بحال رکھی البتہ حکم دیا کہ سیشن کورٹ روزانہ کی بنیاد پر کیس سن کر 6ماہ کے اندر فیصلہ کرے۔ یوں سیشن کورٹ لاہورمیں اس وقت کے سیشن جج میاں جہانگیر پرویز کی عدالت میں روزانہ کی بنیادپرمقدمے کی سماعت شروع ہوگئی۔ اس دوران روزنامہ ”خبریں“ پرطرح طرح کے الزامات لگے اور الزامات لگانے والوں میں غیر کم اپنی صحافتی برادری کے لوگ زیادہ تھے اور ہرتیر کے کھانے کے بعد جب پیچھے مڑکردیکھتے تو اپنی ہی برادری کاکوئی تیرانداز سامنے آجاتا۔ ”خبریں“ نے اپنا دفتر تبدیل کیا اور پنج محل روڈ سے 12لارنس روڈ پرشفٹ ہوگئے ۔یہ عمارت جو سات منزلہ ڈھانچے پرمشتمل تھی اور تقریباً15 سال سے ا س لئے غیرآباد تھی کہ اس کے دو پارٹنر تھے جب اس کی تعمیر شروع کی تو ملحقہ گھرجس میں ایک بیوہ عورت اپنی تین بیٹیوںاور ایک بیٹے کے ساتھ رہائش پذیر تھی‘ پربھی قبضہ کرکے اپنے ہوٹل میں شامل کرنے کی کوشش کی۔ گھر کی دیوار گراکر تعمیر شروع کردی گئی جھگڑا ہواتوبلڈرز کے بندوں نے اس خاتون کے اکلوتے بیٹے کو قتل کردیا۔ضعیف عورت انتہائی ثابت قدمی سے مقدمہ لڑتی رہی اور مالکان محض نقشے پرہی اس بلڈنگ کی متعدد دکانیں فروخت کرکے فرار ہوگئے۔ خریدار اپنے کاغذات اٹھائے اپیلیں لیکر ”خبریں“ دفتر آنے لگے اور ہرکوئی دکانوں اور کمروں کے کاغذات بیچنا چاہتا تھا مگرکوئی خریدار نہیں تھا۔ اس میں سے چنددکانیں روزنامہ ”خبریں“ میں کام کرنیوالے ورکرز کی بھی تھیں جنہوں نے قسطوں میں یہ دکانیں 1988-89ءمیں خرید رکھی تھیں۔ اس دوران جناب ضیا شاہد نے تینوں مالکان سے رابطہ کیا اس خاتون کوبمشکل اس بات پرراضی کیاکہ جتنی زمین اس کی بنتی ہے اس کی چاردیواری کراکر دیتے ہیںا ور اس طرح دونوں مالکان سے ایک معاہدے کے تحت جناب ضیا شاہد نے ماہانہ قسط پر کئی سال کے عرصے میں اس عمارت کی ملکیت حاصل کرلی جوکہ لاہور کے میڈیا ہاو¿سز کے مقابلے میں بڑی بلڈنگ تھی لہٰذا ایک خوفناک اور بے بنیادپروپیگنڈا شروع ہواکہ ملعون یوسف کذاب کی یہ بلڈنگ ملکیت تھی اس پرناجائز قبضہ کرنے کےلئے ”خبریں“ والوں نے اس پر توہین رسالت کا جھوٹامقدمہ درج کرایاہے۔
میرے اللہ کی شا ن ملاحظہ ہوکہ 6ماہ تک روزانہ کی بنیاد پر سیشن کورٹ میں مقدمہ چلتا رہا تقریباً تین ہفتے مسلسل یوسف کذاب کاعدالت کے روبروبیان جاری رہا۔ اس نے اپنے حق میں سینکڑوں کاغذات عدالت کے روبرو ازخود پیش کیے حتیٰ کہ سیشن جج کے روبرواپنی خلافت عظمیٰ کا سرٹیفکیٹ پیش کردیا کہ یہ مجھے اللہ تعالیٰ نے دیا ہے اور میں اس وقت دنیا کاخلیفہ اعظم ہوں۔ جج صاحب نے فوری طور پراہم ترین کاغذ کو(ایگزی بٹ ڈی ایل) کے طورپر ریکارڈکاحصہ بنایا تو ہمارے وکیل غلام مصطفی چودھری نے باہرنکل کر مبارکباد دی۔کہنے لگے اب سارے گواہ بھی مکر جائیں تو یوسف کذاب کوسزائے موت سے کوئی نہیں بچا سکتا۔یہاں یہ سوال پیدا ہوتاہے کہ اگر یوسف کذاب روزنامہ ”خبریں“ کے دفتر واقع 12 لارنس روڈ میں ایک اینٹ کا مالک ہوتا تو وہ عدالت کے روبر وہ ثبوت ضرور پیش کرتاکیونکہ یوسف کذاب کو سزائے موت سیشن جج نے دی ”خبریں“ نے نہیں،فیصلہ جج کاتھااورتین ہفتے تک اپنا بیان دینے والا درجنوںوکلاءکی معاونت حاصل کرنے والا یوسف کذاب ”خبریں“ ٹاورکی ملکیت تو دور کی بات اس کی کسی ایک دکان حتیٰ کہ ایک اینٹ کی ملکیت بھی ثابت نہ کرسکا۔ا ور پھرسچ بات تویہ ہے کہ یوسف کذاب اوراس کے وکلاءکی طرف سے ”خبریں“ اور مجھ پردرجنوں الزامات تھے اگرالزام نہیں لگاتو اس بلڈنگ کی ملکیت کانہیں تھا۔ لوگوں کوتو محض زیب داستان کےلئے کہانیاں درکار ہوتی ہیں مگر عدالت توثبوت مانگتی ہے اور پھرعزت اورذلت بھی میرے اللہ کے ہاتھ میں ہے اوراللہ نے یوسف کذاب کے حق میں ابدی ذلت لکھ دی تھی اور اس نیک کام کےلئے ”خبریں“ کو سبب چن لیاتھا توکسی کی کیامجال کہ لب کشائی کرسکے۔ (جاری ہے)
(کالم نگار سیاسی و سماجی مسائل پر لکھتے ہیں)
٭….٭….٭میاںغفاراحمد
لبرلز قادیانی لابیز اور سب سے بڑھ کر ہمارے اپنی صحافتی برادری کے لوگوں نے ایسی ایسی باتیں،ایسے ایسے قصے گھڑے اورتحقیق کو حسد میں بدل کررکھ دیا۔ کسی نے تحقیق کی کوشش نہیں کی ،کسی نے ہم سے مقدمے بارے کوئی ریکارڈنہیں پوچھا۔ حتیٰ کہ عشق رسول کادعویٰ کرنےوالوںکوبھی توفیق نہیں ہوئی کہ وہ ”خبریں“سے رابطہ کرکے حقیقت جان سکیں ۔کسی کوبھی تنقیدی تاثرات دیتے وقت نہ تواللہ کے احکامات یادتھے اور نہ ہی نبی پاک کافرمان کہ پس تم تحقیق کرلیاکرو۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے جہاں ایک طرف ہمیں وکلاءکاایک پوراپینل دے دیا وہاں دوسری طرف ملک بھر کی قادیانی لابی یوسف کذاب کی وکالت کرنے کےلئے جمع ہوگئی۔ اب پرابلم یہ تھا کہ کسی بھی طور پر یوسف کذاب کی ضمانت نہیں ہوسکتی تھی لہٰذا قانون میں موجود چورراستوں کی طرح ایک چورراستہ یوںڈھونڈاگیا کہ کوئی بھی کیس جس کی دوسال تک سماعت شروع نہ ہواس کیس کے ملزم کی تکنیکی بنیادوں پر ضمانت لی جاسکتی ہے۔ لہٰذا التوائی حربے استعمال کیے گئے ۔ادھرکیس کبھی ہائیکورٹ، کبھی سپریم کورٹ ،کبھی کوئی بہانہ کبھی کوئی درخواست اوراس طرح دوسال گزاردیئے گئے مگر مقدمہ شروع نہ ہوسکا۔پھروہی ہواٹیکنیکل بنیادوںپرلاہور ہائیکورٹ کے جج جسٹس راشدعزیز خان نے یوسف کذاب کی ضمانت لے لی اور جو معاملات طے ہوئے ان کامجھے مکمل علم ہے تاہم جسٹس راشد عزیز خان اب دنیا میں نہیں رہے لہٰذا میں وہ تفصیلات بیان کرنا مناسب نہیں سمجھتا۔تاہم یہ بتاتاچلوں کہ عدالت کے روبرو جو ڈرامہ نمابحث ہوئی اس میں مفتی نامی خاتون اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت سے استدعا کی کہ ملزم یوسف کاکیس دوسال سے ٹرائل نہیں ہوا لہٰذا ان کی ضمانت لے لی جائے۔ جج صاحب نے کہاکہ محترمہ آپ سرکاری وکیل ہیں آپ سے تو یہ توقع رکھی جاتی ہے کہ آپ ضمانت کی مخالفت کریں گی، آپ کس کے کہنے پرایسا کررہی ہیں ۔ نئی نئی اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل بننے والی مفتی نامی اس خاتون نے کہاسر آپ کے کہنے پر ‘جس پرجج صاحب سٹپٹا گئے اورکہاکہ یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں تواس خاتون نے کہاکہ سوری سر مجھے ایڈووکیٹ جنرل نے ایسا کرنے کا کہا ہے۔عدالت میں لوگ ایک دوسرے کا منہ تکتے رہ گئے۔ روزنامہ جنگ کے کورٹ رپورٹر اورسینئر جرنلسٹ ریاض شاکر اس وقت عدالت میں موجود تھے انہوں نے من وعن عدالت میں ہونے والی کارروائی جنگ کے صفحہ اول پرسنگل کالم شائع کردی مگراس کے باوجود جسٹس راشد عزیز خان نے یوسف کذاب کوضمانت پررہا کرنے کاحکم دے دیا۔
اس واقعہ کے محض دوہفتے بعد مال روڈ لاہور پرای پلومربلڈنگ کے سامنے نامعلو م افراد نے فائرنگ کرکے جسٹس راشدعزیز خان کے بیٹے کو شدید زخمی کردیا اور وہ کئی دن زندگی اورموت کی کشمکش میں رہے پھر انہیں لندن شفٹ کر دیا گیا۔ کہا جاتاہے کہ ان کے علاج پر اس دور میں چارکروڑ روپے خرچ ہواتھاا ور دوسری طرف یوسف کذاب کے قریبی لوگوں کی صفوںمیں بیٹھنے والے ہمارے مخبروں کی اطلاع تھی کہ ضمانت کے عوض کسی وکیل کے ساتھ 40لاکھ میں ڈیل ہوئی ۔ میرے اللہ نے یہیں پر10گناجرمانہ وصول کرلیا مگر بات یہاں ختم نہیں ہوئی بلکہ قصور کے علاقے کنگن پور میں جسٹس راشدعزیز خان کی فیکٹری کوآگ لگ گئی اور ہرچیز کوئلہ بن گئی پھراس دوران جسٹس راشدعزیز خان پروموٹ ہوکرسپریم کورٹ چلے گئے مگروہاں بھی اپنی مدت ملازمت پوری نہ کرسکے بلکہ متعدد الزامات کے تحت بدنامی کاداغ سجائے نوکری چھوڑ کر گھر چلے گئے۔ ان لوگوں نے حرمت رسول کو مذاق سمجھ رکھاتھا کیا؟
ہائیکورٹ میں یوسف کذاب کی ضمانت کے فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ میں اپیل گئی تو سپریم کورٹ نے اس کی ضمانت تو بحال رکھی البتہ حکم دیا کہ سیشن کورٹ روزانہ کی بنیاد پر کیس سن کر 6ماہ کے اندر فیصلہ کرے۔ یوں سیشن کورٹ لاہورمیں اس وقت کے سیشن جج میاں جہانگیر پرویز کی عدالت میں روزانہ کی بنیادپرمقدمے کی سماعت شروع ہوگئی۔ اس دوران روزنامہ ”خبریں“ پرطرح طرح کے الزامات لگے اور الزامات لگانے والوں میں غیر کم اپنی صحافتی برادری کے لوگ زیادہ تھے اور ہرتیر کے کھانے کے بعد جب پیچھے مڑکردیکھتے تو اپنی ہی برادری کاکوئی تیرانداز سامنے آجاتا۔ ”خبریں“ نے اپنا دفتر تبدیل کیا اور پنج محل روڈ سے 12لارنس روڈ پرشفٹ ہوگئے ۔یہ عمارت جو سات منزلہ ڈھانچے پرمشتمل تھی اور تقریباً15 سال سے ا س لئے غیرآباد تھی کہ اس کے دو پارٹنر تھے جب اس کی تعمیر شروع کی تو ملحقہ گھرجس میں ایک بیوہ عورت اپنی تین بیٹیوںاور ایک بیٹے کے ساتھ رہائش پذیر تھی‘ پربھی قبضہ کرکے اپنے ہوٹل میں شامل کرنے کی کوشش کی۔ گھر کی دیوار گراکر تعمیر شروع کردی گئی جھگڑا ہواتوبلڈرز کے بندوں نے اس خاتون کے اکلوتے بیٹے کو قتل کردیا۔ضعیف عورت انتہائی ثابت قدمی سے مقدمہ لڑتی رہی اور مالکان محض نقشے پرہی اس بلڈنگ کی متعدد دکانیں فروخت کرکے فرار ہوگئے۔ خریدار اپنے کاغذات اٹھائے اپیلیں لیکر ”خبریں“ دفتر آنے لگے اور ہرکوئی دکانوں اور کمروں کے کاغذات بیچنا چاہتا تھا مگرکوئی خریدار نہیں تھا۔ اس میں سے چنددکانیں روزنامہ ”خبریں“ میں کام کرنیوالے ورکرز کی بھی تھیں جنہوں نے قسطوں میں یہ دکانیں 1988-89ءمیں خرید رکھی تھیں۔ اس دوران جناب ضیا شاہد نے تینوں مالکان سے رابطہ کیا اس خاتون کوبمشکل اس بات پرراضی کیاکہ جتنی زمین اس کی بنتی ہے اس کی چاردیواری کراکر دیتے ہیںا ور اس طرح دونوں مالکان سے ایک معاہدے کے تحت جناب ضیا شاہد نے ماہانہ قسط پر کئی سال کے عرصے میں اس عمارت کی ملکیت حاصل کرلی جوکہ لاہور کے میڈیا ہاو¿سز کے مقابلے میں بڑی بلڈنگ تھی لہٰذا ایک خوفناک اور بے بنیادپروپیگنڈا شروع ہواکہ ملعون یوسف کذاب کی یہ بلڈنگ ملکیت تھی اس پرناجائز قبضہ کرنے کےلئے ”خبریں“ والوں نے اس پر توہین رسالت کا جھوٹامقدمہ درج کرایاہے۔
میرے اللہ کی شا ن ملاحظہ ہوکہ 6ماہ تک روزانہ کی بنیاد پر سیشن کورٹ میں مقدمہ چلتا رہا تقریباً تین ہفتے مسلسل یوسف کذاب کاعدالت کے روبروبیان جاری رہا۔ اس نے اپنے حق میں سینکڑوں کاغذات عدالت کے روبرو ازخود پیش کیے حتیٰ کہ سیشن جج کے روبرواپنی خلافت عظمیٰ کا سرٹیفکیٹ پیش کردیا کہ یہ مجھے اللہ تعالیٰ نے دیا ہے اور میں اس وقت دنیا کاخلیفہ اعظم ہوں۔ جج صاحب نے فوری طور پراہم ترین کاغذ کو(ایگزی بٹ ڈی ایل) کے طورپر ریکارڈکاحصہ بنایا تو ہمارے وکیل غلام مصطفی چودھری نے باہرنکل کر مبارکباد دی۔کہنے لگے اب سارے گواہ بھی مکر جائیں تو یوسف کذاب کوسزائے موت سے کوئی نہیں بچا سکتا۔یہاں یہ سوال پیدا ہوتاہے کہ اگر یوسف کذاب روزنامہ ”خبریں“ کے دفتر واقع 12 لارنس روڈ میں ایک اینٹ کا مالک ہوتا تو وہ عدالت کے روبر وہ ثبوت ضرور پیش کرتاکیونکہ یوسف کذاب کو سزائے موت سیشن جج نے دی ”خبریں“ نے نہیں،فیصلہ جج کاتھااورتین ہفتے تک اپنا بیان دینے والا درجنوںوکلاءکی معاونت حاصل کرنے والا یوسف کذاب ”خبریں“ ٹاورکی ملکیت تو دور کی بات اس کی کسی ایک دکان حتیٰ کہ ایک اینٹ کی ملکیت بھی ثابت نہ کرسکا۔ا ور پھرسچ بات تویہ ہے کہ یوسف کذاب اوراس کے وکلاءکی طرف سے ”خبریں“ اور مجھ پردرجنوں الزامات تھے اگرالزام نہیں لگاتو اس بلڈنگ کی ملکیت کانہیں تھا۔ لوگوں کوتو محض زیب داستان کےلئے کہانیاں درکار ہوتی ہیں مگر عدالت توثبوت مانگتی ہے اور پھرعزت اورذلت بھی میرے اللہ کے ہاتھ میں ہے اوراللہ نے یوسف کذاب کے حق میں ابدی ذلت لکھ دی تھی اور اس نیک کام کےلئے ”خبریں“ کو سبب چن لیاتھا توکسی کی کیامجال کہ لب کشائی کرسکے۔ (جاری ہے)
(کالم نگار سیاسی و سماجی مسائل پر لکھتے ہیں)
٭….٭….٭



بشکریہ

جواب چھوڑیں