کیا موت کا خوف بھی ہمیں متحد نہیں کر سکتا

پیارے پڑھنے والے جنگ ہو یا کوئی آسمانی آفت یا کوئی غیر ملک حملہ کر دے یا کوئی دوسری آفت آ جائے تو عام طور پر بڑے خطرے بڑے پریشانی بڑے حملے اور بڑی مصیبت کے مقابلے میں ساری دنیا کے لوگ وقتی طور پر متحد ہو جاتے ہیں۔ جمہوریت کا مطلب ایک دوسرے کا خون پینا نہیں ہوتا یہ تو ایک دنیاوی نظام ہے جس میں عام طور پر پورا اتفاق نہ ہو ون پوائنٹ ایجنڈا تلاش کیا جاتا ہے جس پر وقتی طور پر سبھی متفق ہو جاتے ہیں لیکن ہم کتنے بدقسمت ہیں کہ ہمارا ملک تو کیا پوری دنیا کرونا کی وبا کی زد میں ہے کوئی پتہ نہیں کب کس کی باری آ جائے ہمارے گرد لوگ بیمار پڑتے ہیں کچھ ٹھیک ہو جاتے ہیں اور چند یا بعض اوقات کچھ لوگ اور کبھی بہت سے لوگ چند روز کی بیماری کے بعد خاموشی سے دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں۔ یوں لگتا ہے جیسے ہاتھ میں کوئی مچھلی تھی زندہ اور چونکہ چکنی تھی اس لئے اچانک ہاتھ سے پھسل گئی۔ ساری دنیا میں یہی کچھ ہو رہا ہے کوئی دوا نہیں کوئی ویکسین نہیں کوئی علاج نہیں دنیا کی سائنس بلکہ میڈیکل سائنس مجبور ہے۔ ہم سب بے بس ہیں۔
لیکن یہ کیسی جمہوریت ہے لگتا ہے جانی اور پرانی دشمنی ہے ہر شخص ایک دوسرے کو کاٹنے کو پھرتا ہے بس میں ہو تو جان سے مار دے اسمبلی میں کرونا کے نام پر اجلاس بلایا گیا مگر اس میں بھی ایک دوسرے کو برا بھلا کہہ کر اور کچھ ارکان کو کرونا کروا کر اجلاس ختم ہو گیا۔ کوئی پارلیمانی کمیٹی نہیں کوئی تجویز نہیں کوئی مل بیٹھ کر مشکلات کو حل کرنے کی تدبیر نہیں۔ لوگ مر رہے ہیں تو کیا ہوا ہم تو ابھی زندہ ہیں لہٰذا جب تک زندہ ہیں ایک دوسرے کا خون پینے کی کوشش کرتے رہیں گے۔
جناب دوسری جنگ عظیم میں ساری دنیا جنگ کے شعلوں کی نذر ہو گئی تو بہت سے ملکوں میں اپوزیشن اور حکومت کا یک نکاتی اتحاد ہو گیا۔ طے پایا کہ پہلے اتحادی ہٹلر سے لڑ لیں پھر آپس میں لڑائی کر لیں گے۔ ہماری جمہوریت جہاں سے چلی تھی یعنی برطانیہ وہاں چرچل وزیراعظم بن گئے کہ سب کا اتفاق تھا کہ اس جنگ میںوہ بہتر کارکردگی دکھا سکیں گے انہیں کسی نے پوچھا کیا ہم جنگ جیت لیں گے؟ تو وہ بولے اگر عدالتیں انصاف کر رہی ہیں اور سکولوں میں بچے پڑھ رہیں تو ہم جنگ جیت لیں گے اور واقعی چرچل نے جنگ جیت لی مگر آج کل عدالتوں سے کتنا انصاف ملتا ہے اس کا جواب خود سوچ لیں اور سکول ویسے ہی بند ہیں۔ قومی حکومت بنانے کی سوچ دور دور تک پائی نہیں جاتی اور حکومت نہ سہی کوئی پارلیمانی کمیٹی بھی نہیں بنتی جس میں سبھی پارٹیاں شامل ہوں۔
اپوزیشن پارٹیاں ہیں کہ وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا پروگرام بنا رہی ہیں حکومتی حلیف ایک ایک کر کے الگ ہو رہے ہیں ڈاکٹروں کا تخمینہ ہے کہ دو ماہ تک یعنی ادھر تحریک عدم اعتماد پیش کر دی جائے گی یا کرنے کا سوچا جا رہا ہو گا اور کرونا اپنی انتہا کو پہنچ جائے گا زیادہ بیمار زیادہ اموات یا اللہ یہ کیسا ملک ہے یہ کیسی جمہوریت ہے۔ آپ کچھ نہیں کر سکتے تھے توایک دوسرے کی ٹانگ تونہ کھینچیں زندگی کا کچھ پتہ نہیں کون جانے جو آج سانس لے رہا ہے وہ چند روز بعد بھی زندہ ہو گا یا نہیں۔ ستم یہ کہ اپوزیشن میں کچھ مذہبی پارٹیاں بھی ہیں کاش انہیں ہی خیال آ جائے یہ ہم کس بات پر اکڑ رہے ہیں یہ اقتدار کے پیچھے ہم کہاں تک جانا چاہتے ہیں کون جانے کہ جب اقتدار مل بھی رہا ہو تو اس سے پہلے جان نکل جائے جانے والوں کو کس نے روک لیا اور جو لوگ حکومت میں ہیں ان کی اکڑ اور شان کا کیا کہنا معلوم نہیں ان کو یہ گمان کیسے ہوا کہ انہوں نے آب حیات پی رکھا ہے بلاوا تو کسی کا بھی آ سکتا ہے مگر ذرا ملاحظہ ہو دونوں طرف سے کیسی دھمکیاں چل رہی ہیں کبھی کبھار یوں لگتا ہے کہ ریفری ہی دھم سے نہ آ ٹپکے کہ کہیں سب ختم پہلے کرونا سے تو نبٹ لیں۔
ہم میں جس کی بھی آ گئی ہو اسے روک نہیں سکتے مگر جو بیمار ہیں ان کی دیکھ بھال تو کر سکتے ہیں اور جو ابھی تک بیمار نہیں ہوئے ان کے لئے احتیاطی تدابیر تو اختیار کی جا سکتی ہیں کوئی مشترکہ لائحہ عمل مل کر کوئی تدبیر وہ جو سب سے بڑا حاکم ہے اس سے کوئی توبہ دُعا یا معافی۔ باقی ہر چیز نظر آتی ہے مگر اس سوسائٹی میں خدا خوفی دکھائی نہیں دیتی نہ ہم جیسے کلین شیو لوگوں میں نہ بڑی بڑی داڑھیوں والوں میں ہم سب یہ سوچ کر بیٹھے ہوئے ہیں کہ وہ جو کل مر گیا جو آج بیمار ہو گیا ہے یہ تو وہ ہے ہم تو نہیں ہمیں تو شاید کوئی پٹہ لکھوا رکھا ہے کہ بھائیو نہ ہم نے بیمار ہونا ہے اور نہ ہم نے مرنا ہے ہم تو بخشی ہوئی مخلوق ہیں وہ جو مر گئے وہ کوئی اور تھے جو بیمار ہو گئے وہ بھی کوئی اور ہوں گے۔ اگر ہمیں یقین ہو جائے تو شاید ہم اللہ کے حضور جھک جائیں اور کبھی مصلّے پرسے ہی نہ اٹھیں لیکن ہم بڑے ”بہادر“ لوگ ہیں نہ ہمیں اللہ کا خوف اور نہ اپنے پاس سے کھڑے کھڑے ہاتھ سے مچھلی کی طرح موت کی گود میں پھسل جانے والوں کا احساس ہماری اکثریت زبان سے تو کہتی ہے کہ الحمدللہ ہم مسلمان ہیں لیکن دلوں میں دولت کے اختیار کے اقتدار کے اور دنیا کے بُت بٹھائے ہوئے ہیں دنیا میں اتنی تبدیلی آ گئی ہے کہ سائنس بھی بیکار ہو چکی ڈاکٹری کا بستر گول ہو گیا اور ہم ایک ایک کر کے اس اللہ کی بارگاہ میں پیش ہوتے جا رہے ہیں جن کے پاس ہمیں بتایا گیا تھا کہ ایک دن سبھی نے جانا ہے کیا امریکہ کیا چین کیا روس کیا بڑے ممالک کیا چھوٹے ممالک کیا آج کے ہٹلر مودی صاحب انہیں کون سا مرنا ہے ان کا خیال ہو گا کہ وہ شاید یہیں رہیں گے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے وقت کی طنابیں کھینچ دی جائیں گی اور وہ کشمیر میں مسلمانوں کی آبادی کم کر کے ہندوﺅں کی اکثریت وہاں ثابت کر سکیں گے معلوم نہیں ان کے بھگوان نے شاید انہیں نہیں بتایا ہو گا کہ جانا تو وہیں ہے چاہے زمین میں دفن کر دو یا خشک لکڑیوں پر لاش رکھ کے جلا دو انجام تو سبھی کا یہی ہونا ہے۔ اور یہ جو آدھی دنیا نہیں مانتی کہ کوئی خدا کی ذات بھی ہے وہ نہ مانے کیا موت کو وہ روک سکی ہے۔ کیا چھوٹے سے نظر نہ آنے والے جرثومے یا وائرس کا مقابلہ کر سکی ہے۔ بھائی جو چیز نظر ہی نہیں آتی اس کا مقابلہ کیسے کرو گے احتیاطی تدابیر سے بچ سکتے ہو تو اب ان پیش گوئیوں کا کیا کرو گے کہ کرونا کی اگلی لہر ستمبر میں آنے والی ہے۔ چین نے ایک صوبے ووہان میں قابو پا لیا مگر اب بیجنگ میں کرونا پھوٹ پڑا ہے مگر عقل کے اندھوں کو لاک ڈاﺅن میں بھی جوا ءگھر، ناچ گھر، جسم پر ٹیٹو بنوانے والوں کی بند دکان کی فکر ہے دنیا کی سب سے بڑی حقیقت موت نے بھی انہیں کچھ نہیں سکھایا۔ ان کی مذہبی کتابیں بھی اگر کوئی ہیں تو انہیں کچھ نہیں سکھاتی وہ جہاں ہم زندگی بھر حاضری دینے کے لئے تڑپتے تھے یعنی کعبہ شریف سعودی عرب نے اس بار ساری دنیا سے حج کرنے والوں کو مکہ آنے سے روک دیا۔
پھر تم اپنے رب کی کون کون سی باتوں کو جھٹلاﺅ گے؟
بڑے بڑے مولوی بڑے بڑے دانشور ا للہ کے تقرب میں رہنے والے اہل علم بھی خاموش ہیں اور وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں جیسے انہیں پتہ چل گیا ہے کہ تحریک عدم اعتماد سے پہلے وہ اس دنیا سے جانے والے نہیں جس طرح شاید کچھ حاکم لوگوں کو یقین ہے کہ ابھی ان کے اقتدار کے ساڑھے تین سال رہتے ہیں انہیں کون ہلا سکتا ہے۔
پس اے عقل کے اندھو! یہ کس دنیا کے لئے مرے جا رہے ہو وہ جہاں سے کسی بھی وقت کوچ کر جانا ہے۔ اخبار دیکھو ٹی وی چینل دیکھو نیٹ پر پڑھ لو، فیس بک دیکھ لو کبھی کبھار ایک آدھ دُعا آ جاتی ہے کہ میرا ابا، بھائی، بیٹا، بہن یا بیوی بیمار ہے اس کے لئے دُعا کریں شاید کچھ لوگ رسمی طور پر دو چار جملے لکھ دیتے ہوں گے جیسے مرنے والے کے لئے لکھا جاتا ہے کہ اللہ ان کی مغفرت کرے ضرور کہنا چاہئے یہی اللہ اور اس کے رسول کا حکم ہے مگر یہ عذاب جو قبر سے شروع ہو گا کچھ اس سے نجات ملنے کی تدبیر بھی ہے کبھی جہنم کی آگ سے بچنے کا طریقہ بھی سوچا ہے بقول شخصے:
بُلھے شاہ اسی مرنا نا ہیں گور پیا کوئی ہور
کتنا علم ہے پاکستان میں ایک سے ایک پڑھا لکھا فاضل انسان مگر آنکھوں پر پردہ پڑا ہوا ہے یہ جنم جنم کے اندھے دیکھ نہیں سکتے کہ اللہ کا عذاب کیسے نازل ہوتا ہے یا اللہ بخش دے یا اللہ رحم کر ہم گنہگار سہی مگر تیرے آخری نبی کی اُمت میں سے ہیں تو نے ہی تو کہا تھا تو رحمن و رحیم ہے تو سب سے بڑا رحم کرنے والا ہے دنیا کے 18 ملک ایسے ہیں جن میں کرونا نہیں آیا یا اللہ ہمیں بھی اس عذاب سے بچا کسی بزرگ نے کہا اللہ کا دروازہ زور زور سے کھٹکھٹاتے رہو مانگتے رہو اس سے گڑ گڑاتے رہو اس کے سامنے ہاتھ جوڑ کر توبہ کرتے رہو شاید رحمت خداوندی کو کبھی جوش آ جائے وہ جو شہ رگ سے قریب ہے وہ ہماری بھی سن لے بھائیو اور بہنو بزرگوں اور بچو! خدا سے بخشش کی دُعا مانگو وہی ہمیں اس عذاب سے بچا سکتا ہے کیونکہ سائنس فیل ہو چکی دولت اور اقتدار گھٹنے ٹیک چکا اب اس سے مانگنا ہے تو کچھ ملے گا دیکھنا کہیں دیر نہ ہو جائے کہیں دیر نہ ہو جائے۔
٭٭٭



بشکریہ

جواب چھوڑیں