خطرہ جان اور خطرہ ایمان۔۔ڈاکٹر اظہر وحید

اس کرونائی موسم نے کِتّوں کا پول کھولا ہے، کتنے بلند بانگ ڈھول تھے ٗجن کا پول کھل گیا۔ کتنے قد آور لوگوں کا اورملکوں کا اصل چہرہ سامنے لے آیا ہے,یہ ننھا سا وائرس جسے کرونا کہتے ہیں۔اللہ مالک الملک کے لشکروں میں سے ایک لشکر ہے۔ کتنے لاکھوں سال سے اس کے لشکروں کی یہ پلٹن چھپی بیٹھی تھی، یہاں تک کہ اسے حکم ہوا کہ آج کے فرعون صفت عوام اور نمرود صفت حکمرانوں کو ناکوں چنوں چبوا دے۔ حکومتوں کی مت ماری جا چکی ہے، منظم ادارے مخبوط الحواس ہو کر دیواروں سے ٹکریں مار رہے ہیں، کوئی راستہ نظر آتا ہے، نہ نجات کا کوئی دَر ہی اس وقت نظر میں ہے۔

عبادت گاہوں کے مقفل دروازے ابھی پوری طرح وا نہیں ہوئے، بس دزدیدہ سے کسی مخمورِ ناز محبوب کی آنکھوں کی طرح اَدھ کھلے ہیں۔ کندھے سے کندھا ملا کر فرض نماز تو دُور کی بات نمازِ جنازہ بھی پڑھنے میں نمازی متامل ہیں۔ انسان،انسان کے دُکھ کا دارو ہوا کرتا تھا، لیکن اب صرف محاورے کی حد تک ہے۔ فی الوقت اس کی زندگی کی ضمانت ایک دوسرے سے دُور رہنے میں بتائی جاتی ہے۔ ترقی کا بت چاروں شانے چت ہوا پڑا ہے ، کسی کی کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا، طبیب ، ادارے ، حکومتیں اور عوام سب اپنی اپنی ہانک رہے ہیں۔

ایسے ہی سمے چشمِ فلک نے عجب منظر دیکھا، وہ معاشرے جن کے نظم و ضبط ، حسنِ معاشرت اور ترقی اور تیزرفتاری کی مثالیں دی جاتی تھی، اور اس قدر تیزی سے دی جاتیں کہ ہم ایسے سست الوجود عوام احساسِ کمتری میں مبتلا ہو جاتے تھے ،اِن معاشروں میں جلاؤ گھیراؤ اور سماجی فاصلوں کی پامالی نے ہمیں انگشت بدنداں  کر دیا۔ پس ثابت ہوا کہ گورے اور کالے میں کوئی فرق نہیں، حیوانی جبلتوں کے اظہار میں مشرق و مغرب ہم مشرب ہیں۔

مختلف میڈیا چینلز اور سوشل میڈیا پر بولنے والے مقررین کا بھی یہی حال ہوا۔۔ شروع میں انکار، بعد میں آفت سر پر دیکھتے ہوئے بادلِ نخواستہ اقرار۔ قوم پر سازشی  تھیوریاں بیان کرنے والوں کا پول بھی خوب کھلا۔ سازش تھیوری پر یقین رکھنے والا اصل حقائق سے لاعلم ہوتا ہے، اور اس تھیوری پر یقین کرنے کی  پاداش میں وہ بدعلمی میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ مرشدی حضرت واصف علی واصفؒ فرمایا کرتے “بے علمی بدعلمی سے بدرجہا بہتر ہے”۔ دراصل بدعلمی جہالت کی تاریک وادی میں لے جاتی ہے۔ جہالت کسی حقیقت سے بے خبر ہونے کا نام نہیں بلکہ کسی شئے کی اصل حقیقت کو کچھ اور سمجھ لینے پر بضد ہونے کا نام ہے۔ جہالت سے پناہ مانگی گئی ہے۔ لاعلم ہونا بے ضرر ہے ، لاعلم انسان ایک کورا کاغذ ہے ، جس پر اصل حقیقت کی روشنائی سے کچھ لکھا جا سکتا ہے، جبکہ جاہل بمعنی بدعلم کی اصلاح ناقابلِ یقین حد تک دشوار ہے۔ ہماری میڈیکل شعبے میں کہا جاتا ہے کہ آدھا علاج کر کے آنے والے مریض مشکل سے ٹھیک ہوتے ہیں۔
Partially treated patients are difficult to treat.

یہ آدھے مریض ، آدھے طبیب، یہ آدھے مُلا اور آدھے صوفی۔۔ سب کے سب خطرہ ہیں۔ اپنی مختصر سی ملازمت کے دوران کا واقعہ ہے، ممتاز بختاور ہسپتال میں چیئرمین میاں محمد شفیع مرحوم ڈاکٹروں کی ایک میٹنگ کی صدارت کر رہے تھے، کسی مرض پر بات کرتے ہوئے اچانک کسی دوا کا نام لے دیا، اور پھر اَز راہِ تفنن مسکراتے ہوئے کہا
ڈاکٹروں کے ساتھ رہتے ہوئے میں بھی آدھا ڈاکٹر ہو گیا ہوں۔ اس پر ہمارے ایک سرجن بریگیڈئیر (ر) بشیر احمد نے یکلخت ٹوکتے ہوئے کہا،میاں صاحب! ڈاکٹر یا تو پورا ہوتا ہے یا پھر نہیں ہوتا، یہ آدھا ڈاکٹر کہیں نہیں ہوتا ، اگر کوئی آدھا ڈاکٹر ہے تو زیادہ خطرناک ہے۔

اس وبا کے موسم میں موسمی حکیم، موسمی مصلحین اور موسمی محققین کی بھرمار ہے۔ ہر موقع پرست شخص اس موقع پر اپنی پراڈکٹ بیچ رہا ہے، خواہ وہ پراڈکٹ نظریہ ہو،کوئی جڑی بوٹی ہو یا یو ٹیوب چینل۔ اِس پُرمُہیب موقع پر پریشان حال انسانوں کے زخموں پر مرہم رکھنے کی بجائے، کاروباری ذہنیت رکھنے والے لوگ جدید طریقوں سے اپنی دکانداریاں چمکا رہے ہیں، ایسے یوٹیوبرز بھی ہیں جنہوں نے اس وبا کو ایک سازش سے تعبیر کیا، اُن کا مال تو دھڑا دھڑ بک گیا لیکن بے علم عوام بدعلمی میں مبتلا ہو گئے۔

یہی حال اس بے حال عوام کا جڑی بوٹیاں بیجنے والوں نے کیا، پنساریوں کی چاندی ہو گئی، جن جڑی بوٹیوں کی بند بوریوں کو جالا لگ گیا تھا،وہ سونے چاندی کے بھاؤ فروخت ہونے لگیں۔ ایک ڈاکٹر ( پی ایچ ڈی ) لندن سے”براہِ راست” گوروں کو “سنا مکی” بیچتے ہوئے دکھائے گئے، اس دعوے کے ساتھ کہ چند گھنٹوں میں کرونا ٹیسٹ پازیٹو سے نیگیٹو ہو جاتا ہے۔ ( حالانکہ کرونا کا پازیٹو اور نیگیٹو ہونا اتنا اہم نہیں، تیس فیصد مریضوں میں کرونا ٹیسٹ نیگیٹو ہوتا ہے،جو اس بیماری کا زیادہ خطرناک پہلو ہے، مریض جھوٹی تسلی میں آجاتا ہے اور جعلی اعتماد کے زیراثر شہر بھر میں کرونا وائرس پھیلاتا پھرتا ہے)۔ یہ کاروباری حرکت بھی شاید برداشت ہوجائے لیکن ناقابلِ برداشت بات یہ کہ اسے طبِ نبویؐ کا نام دے کر فروخت کیا جا رہا ہے۔ لوگوں کی عقیدتوں کا استحصال ‘ استحصال کی بدترین قسم ہے۔

اپنے دین کو چند سکوں کے عوض فروخت کرنے کی ایک مثال یہ بھی ہے کہ ہم شہد کو اسلامی شہد اور کھجور کو سنت کہہ کر فروخت کریں۔ شہد کے اسلامی ہونے سے پہلے شہد کی مکھی سے کلمہ سن لینا چاہیے، کیا معلوم وہ کسی یہودی یا نصرانی کے باغ کے پھولوں کا رس چوس کر اپنے چھتے پر واپس لوٹی ہو۔ ہم کردار کی سنّت بھول گئے،اور سہل پسندی میں آسان سنّتیں اپنا لیں۔ جن سنّتوں پر عمل کرنے سے انا پر ضرب پڑتی ہے،انہیں بھول جاتے ہیں۔۔۔۔ دشمن کو معاف کرنا سنّت ہے، سچ بولنا سنّت ہے، اہلِ خانہ کے ساتھ حسنِ سلوک سے پیش آنا سنّت ہے،یہ مشکل سنّتیں ہیں،شاید یہ صرف بیان کیلئے ہیں، عمل کرنے کیلئے شہد اور کھجور کافی ہیں۔

ہمارے ایک دوست اور  سکول کے زمانے کے ہم جماعت بابر بن دلاور کی تحقیق ہے کہ سنا مکی گرم خشک مزاج رکھتی ہے، وہ کہتا ہے کہ دو ہزار سال کی طب اٹھا کر دیکھ لیں، مفرد سنا مکی کبھی ان علامتوں میں استعمال نہیں ہوئی جو کووڈ کی علامات ہیں، کرونا کے مریض پر خشکی کا مزاج غالب ہوتا ہے اس لئے اسے گرم تر غذا اور ادویات کی ضرورت ہوتی ہے، لگتا ہے موقع پرست نیم حکیم کرونا سے بچنے والوں کو جلاب آور بوٹیاں کھلا کر اَسہال (ڈائیریا) سے مار ڈالیں گے۔ سادہ لوح عوام ایسے ہی نیم حکیموں کے انٹرویو یو ٹیوب پر “صدقہ جاریہ” سمجھ کر دھڑا دھڑ فارورڈ کیے جارہے ہیں۔ ذرا غور سے دیکھیں تو معلوم ہو گا کہ ان خود ساختہ چینلوں پر خود کو ڈاکٹر کہنے والے یا تو اُردو کے ڈاکٹر ہیں یا آئی ٹی کمپنی میں آئی ٹی کے پی ایچ ڈی ڈاکٹر ہیں۔

کچھ ایسا ہی حال اخلاقیات اور عرفانیات پرلیکچر دینے والے پیشہ ور مقررین کا ہے، سنی سنائی باتیں اپنے نام کے ساتھ آگے سے آگے پھیلائی جا رہی ہیں۔ کاروباری آداب کو اسلامی اخلاقیات کے نام سے بیچا جا رہا ہے۔ احسان کے نصاب کو انصاف کے پلڑوں میں تولنا سکھایا جا رہا ہے۔ درسِ احسان کی حرمت پر اہلِ احسان نے بہت قربانیاں دی ہیں، وہ اس نصاب کو بگڑنے نہیں دیں گے۔ اخلاقیات کا کاروبار کرنے والے اخلاقیات کا کیسا سبق دے سکتے ہیں۔ اخلاقیات کی کہانی سب سے پہلے اپنے گھر سے شروع ہوتی ہےٗ اور اِس گھر کا نام دل ہے۔ خود شناسی کو ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام سمجھ لیا گیا ہے۔”من عرف نفسہ فقد عرف ربہ” ۔۔۔۔ جس قول پر صوفیا نے عمر بھر ریاضت کے بعد اپنے وجود سے گواہی دی تھیٗ اسے کسی مسئلۂ فیثاغورث کی طر ح پانچ منٹ کی وڈیو میں ڈائیاگرام کی شکل میں سمجھایا جا رہا ہے۔ معرفت چہرے کی پہچان ہے… چہرے اور تصویر میں فرق ہوتا ہے، تصویر اور ڈائیگرام میں کتنا فرق ہوگا۔۔۔ سب کچھ کارٹون بنا دیا گیا۔ تعلیمات کا اصل چہرہ مسخ ہو کر رہ گیا۔ عرفانیات کے ساتھ یہ عجب مذاق ہے۔ اہلِ نصاب اِسے معاف نہیں کریں گے۔ لوگ اَتائی اورعطائی کے ہجوں میں فرق بھول چکے ہیں۔

محاورے صدیوں کی اجتماعی دانائی folk wisdom کا نتیجہ ہوتے ہیں۔۔۔۔ صدیوں پرانا محاورہ تو یہی تھا ٗ نیم حکیم خطرہ جان ، نیم ملا خطرہ ایمان ۔۔۔۔۔ اب اس میں چار لفظ کا اضافہ کرنا پڑے گا۔۔۔۔ نیم صوفی خطرہ عرفان!





بشکریہ

جواب چھوڑیں