سو زندگی اصل میں دنیا کی سب سے پیاری اور دلکش چیز …

سو زندگی اصل میں دنیا کی سب سے پیاری اور دلکش چیز نہیں ہے – میں تلخی سے چلا اٹھا، یہ موت ہے- تو پھر اے اداس بادشاہ میں تم سے التجا کرتا ہوں کہ مجھے موت کا کوئی نغمہ سناؤ- پتوار پر بیٹھے آدمی نے تب موت کے بارے ایک گیت چھیڑ دیا اور اس عمدگی سے گایا کہ میں نے پہلے کسی کو اس طرح گاتے نہ سنا تھا- عجیب بات یہ تھی کہ موت بھی دنیا کہ سب سے پیاری اور دلکش چیز نہ نکلی اور اس نے اسے بھی باعث تسکین قرار نہ دیا-موت زندگی ہے اور زندگی موت، یہ ایک دوسرے کی چاہت کی لافانی اور سنگ دل جدوجہد میں اس طرح گندھے ہوئے ہیں کہ یہی حرف آخر ہے اور یہی دنیا کا مطلب- وہیں سے اشارہ ملتا ہے جو ساری پریشانی کا خاتمہ کر دیتا ہے، یہیں سے وہ سایہ جنم لیتا ہے جو ساری خوشیوں اور خوبصورتی پر چھا جاتا ہے اور اپنی تاریکی کی چادر اس پر تان دیتا ہے-لیکن خوشی اس تاریکی سے اور بھڑک کر خوبصورت و توانائی سے ابھرتی ہے اور محبت اس سیاہ رات میں اور زیادہ لشکارا مارتی ہے-
میں سنتا رہا اور مجھ پر خاموشی کی تہہ دبیز ہوتی گئی-اب میں بھی اجنبی آدمی کا ہم خیال ہو گیا تھا-اس نے نظر بھر کر مجھے دیکھا-یہ ایک خاموش اور اداسی بھری شفیق نظر تھی-اس کی سرمئی آنکھیں دنیا کے حسن و ملال سے لبریز تھیں – وہ مسکرایا اس سے مجھ میں جرات ہوئی اور میں اس سے ملتمس ہوا؛ کیا ہم واپس جا سکتے ہیں؟ رات کا اندھیارا یہاں مجھے خوفزدہ کررہا ہے-میں واپس جانا چاہتا ہوں جہاں بریجٹ ہو یا پھر اپنے والد کے پاس گھر جا سکوں-
آدمی کھڑا ہوا اور رات کے اندھیرے کی طرف اشارہ کیا-لالٹین کی روشنی اس کے کسے ہوئے چہرے پر پڑی-
واپسی کا کوئی راستہ نہیں ہے- اس نے مخلصانہ اور دوستانہ انداز سے جواب دیا-اگر تم دنیا کو گہرائی سے سمجھنا چاہتے ہو تو تمہیں ہمیشہ آگے ہی بڑھنا ہو گا-تم نے بھوری آنکھوں والی لڑکی سے پہلے ہی بہترین حاصل کر لیا ہوا ہے – اب تم اس سے جتنا دور رہو گے اتنا ہی تمہارے لیے بہتر اور خوبصورت ہو گا-چناچہ اپنا سفر آگے کی طرف جاری رکھو-میں اب پتوار تمہارے ہاتھ میں دینے لگا ہوں-
یہ سن کر میں سخت مایوس ہوا لیکن میں نے یہ بھی جانا کہ وہ ٹھیک کہہ رہا ہے- یاد ماضی سے بھرا میں بریجٹ، گھر اور ہر اس شے کو جو مجھے عزیز رہی تھی اور جسے میں کھو چکا تھا شدت سے یاد کرنے لگا-پھر مجھے چاہت ہوئی کہ میں اجنبی کی جگہ لوں اور پتوار ہاتھوں میں تھاموں- یہی وہ راہ ہے جس پر چلنا مقدر ہے- میں خاموشی سے اٹھا اور پتواروں کی طرف گیا، آدمی بھی اٹھا اور خاموشی سے میری طرف آیا- جب ہم ساتھ ساتھ ہوئے تو اس نے سیدھے میری آنکھوں میں دیکھا اور لالٹین مجھے تھما دی-
پھر جب میں نے لالٹین اپنے پاس رکھ کر پتوار تھامے تو مجھے خوفناک شدت سے احساس ہوا کہ آدمی تو غائب ہو چکا تھا لیکن میں نہ ہولایا- میں جان چکا تھا کہ میری دشت نوردی کا دن، بریجٹ، میرا باپ اور میرا گھر سب اک خواب تھا اور میں ایک بوڑھا اداس بندہ سدا سے اندھیارے میں بہنے والے دریا پر کشتی رانی کرتا آ رہا تھا-
مجھے یہ بھی احساس ہوا کہ مجھے اس آدمی کو پکارنے کی بھی اجازت نہیں ہے اور یہ جانکاری ہوتے ہی میری ہڈیوں میں اک سرد لہر دوڑ گئی- میں یہ جاننا چاہتا تھا کہ مجھے جس کا ادراک ہوا ہے وہ سچ بھی ہے یا نہیں- چناچہ میں نے لالٹین اوپر اٹھائی اور پانی پر جھکا؛ مجھے تاریک پانی کی سطح پر سرمئی آنکھوں والے ایک سنجیدہ اور منجھے ہوئے آدمی کے چہرے کا عکس دکھائی دیا- ایک پرانا جانا پہچانا چہرہ——اور یہ میں تاھ- چونکہ واپسی کا کوئی راستہ نہ تھا اس لیے میں نے رات کی تاریکی میں اپنا سفر جاری رکھا-

اقتباس: بانسری کا جادو (Flute Dream)
مصنف: ہرمن ہیسے
اشاعت اول : 1914

بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2806079749622540

جواب چھوڑیں