درویش خدا مست .. میاں طفیل محمد ؒ

ڈاکٹرفرید احمد پراچہ
وہ ہمارے زمانے میں رہے، لیکن وہ ہمارے زمانے کے نہیں تھے۔ انہوں نے اسی دنیائے حرص و ہوس میںعمر عزیز کے 96 سال بسر کیے، لیکن وہ اس دنیا کے لگتے نہ تھے۔ وہ تاریخ کی کتابوں سے نکل کر آئے تھے اور ایک عظیم الشان تاریخ بنا کر وہ پھر تاریخ کی کتابوں کا حصہ بن گئے۔وہ موسم بہار کے پہلے پھول تھے، وہ سید مودودیؒ کے ابتدائی رفیق تھے، وہ اس قافلہ راہِ حق کے ہدی خواں تھے جس نے اعلیٰ منزلوں کی طرف سفر شروع کیا تو ان کے راستے کانٹوں سے بھر دیے گئے۔ اس ابتدائی دور کے تحریکی گھرانوں کے حالات ایک جیسے تھے۔ چنانچہ میں نے پہلی مرتبہ ابا جی مرحوم (مولانا گلزار احمد مظاہریؒ) سے میاں طفیل محمدؒ کا نام اسی حرف تسلی کے دوران بطورِ مثال سنا جو وہ اماں جی اور ہم بہن بھائیوں کو دے رہے تھے۔ ہم تو بہت چھوٹے تھے اور ابھی تین بہن بھائی ہی تھے۔ ابا جی چلتا ہوا بہترین کاروبار اور شاندار زندگی چھوڑ کر سرگودھا سے میانوالی صرف اس لیے منتقل ہوئے تھے کہ اس صحرا کو تحریک اسلامی کا گلزار بنا دیں۔ ظاہر ہے زندگی ایک دم مشکلات کا شکار ہو گئی۔ اماں جی بڑی صابرہ و شاکرہ تھیں وہ شکوہ نہیں کرتی تھیں، لیکن ابا جی از خود سید مودودی اور بطور خاص میاں طفیل محمدؒ کی مثالیں دیتے تھے۔ میاں صاحب کا نام ابتدائی بچپن سے ہی ان مثالوں کی وجہ سے ایک مرد درویش کے طور پر ذہن میں نقش ہو گیا۔ ابا جی بتایا کرتے تھے کہ میاں صاحب نیا مدرسہ کے سرونٹ کوارٹر میں رہتے ہیں۔ یہ مالی کے کمرے ہیں چھت کی کڑیاں ٹوٹی ہوئی ہیں۔ میاں صاحب کی اہلیہ بچوں کے کپڑوں حتیٰ کہ ان کی پتلونوں کی خود سلائی کرتی ہیں۔ ان کے گھر میں چینی کا کوئی برتن نہیں۔ مٹی کے برتنوں میں ہی مہمانوں کو چائے کھانا پیش کیا جاتا ہے اور کھانا بھی بہت سادہ ہوتا ہے۔
میاں صاحب کی سادگی کی مثالیں ہمارے لیے بھی مشعل راہ بن گئیں اور نجانے کتنے تحریکی گھرانوں کو ان ہی مثالوں سے سکون، طمانیت اور تقویت ملتی تھی۔ میاں صاحب کو اچھرہ کے بازاروں میں پیدل چلتے ہم نے بار بار دیکھا، ان میں تکلف نام کو نہیں تھا۔ وہ رحمن پورہ سے تنہا پیدل چلتے۔ 1۔ ذیلدار پارک میں روزانہ آتے تھے۔ ان کا یہ معمول اس وقت بھی رہا جب 1970ءکے الیکشن میں اسی علاقہ سے قومی اسمبلی کے امیدوار تھے۔ امیدواروں کے کروفر اس زمانے میں بھی ہوتے تھے، لیکن میاں صاحب کی مہم گاڑیوں، باڈی گارڈوں، خوشامدیوں اور اسلحہ براداروں کی بجائے تقویٰ للہیت، درویشی، فہم و فراست، شفاف کردار، اعلیٰ نظریات، اسلامی نظام کےلئے تڑپ اور مخلص و بے لوث کارکنان کے سہارے چل رہی تھی۔ اگرچہ میاں صاحب بھاری ووٹ لینے کے باوجود روٹی کپڑے مکان کے طوفان اور کئی دیگر وجوہات کی بنا پر الیکشن تو نہ جیت سکے، لیکن انہوں نے دل جیت لیے۔ ان کی شرافت کی کہانیاں ضرب الامثال بن گئیں۔ انتخابات میں شکست کے بعد امیدواران حوصلہ ہار دیتے ہیں، گھروں سے غائب ہو جاتے ہیں کسی کو ملتے نہیں، مایوسی کی وجہ سے گمنامی کی اتھاہ گہرائیوں میں چلے جاتے ہیں، لیکن میاں صاحب عزم و حوصلہ کی چٹان بنے اپنے کارکنان کے بھی حوصلے بلند کر رہے تھے۔ الیکشن سے اگلے دن ہی لوگوں نے دیکھا کہ وہی میاں طفیل محمد اچھرہ بازار سے گھر کےلئے سبزی خرید رہے ہیں اور چہرے پر شکست خوردگی کا ایک معمولی سا نقش بھی نہیں۔
طویل عرصہ کرایوں کے مکان میں ہی رہے اور مالک مکان زیادہ کرایے کے لالچ میں مکان چھوڑنے کا نوٹس دے دیتا تو چپ چاپ کسی اگلے مکان میں منتقل ہو جاتے۔ ایسے ہی ایک موقع پر کسی صاحب ثروت عزیز نے پیشکش کی کہ آپ یہ مکان جو 24 ہزار روپے میں بک رہا ہے، خرید ہی لیں۔ میں رقم دیتا ہوں اور آپ یہ رقم اسی طرح مجھے واپس کرتے رہیں جیسے آپ اس مکان کا کرایہ دیتے ہیں، لیکن میاں صاحب کی غیرت نے اتنا احسان لینا بھی پسند نہ کیا، بلکہ انہیں توجہ دلائی کہ اگر آپ کو میرا خیال آیا ہے تو آپ پہلے اپنے غریب ملازمین کا خیال کریں اور انہیں ہی دو دو مرلہ کے مکانات بنا کر دے دیں اور آپ کی طرف سے یہی میری بھی خدمت ہو گی اور میں اسی پہ خوش ہو جاﺅں گا۔
میاں صاحب کو نماز پڑھتے دیکھ کر یوں لگتا تھا جیسے انہوں نے اس جہاں سے ناطہ توڑ لیا ہے۔ ہم جیسے کوتاہ عملوں کےلئے ان کی نماز باجماعت کےلئے تڑپ اور لگن ایک مسلسل دعوت عمل ہی نہیں تازیانہ عبرت بھی تھی یعنی:
اے رو سیاہ تجھ سے تو یہ بھی نہ ہو سکا
وہ جامع منصورہ میں سب سے پہلے آتے اور سب سے بعد میں جاتے۔ ظہر کی نماز کی بارہ رکعتیں اور عشاءکی پوری سترہ رکعتیں ادا کرتے۔ نمازِ تراویح پوری بیس رکعتیں مسلسل کھڑے ہو کر پڑھتے۔ ان کے اس معمول میں کبھی کوئی فرق نہیں آیا۔ بڑھاپے اور بیماری کے باوجود اسی ذوق و شوق سے مسجد میں آتے رہے۔ حتیٰ کہ آنکھوں کی بینائی چلی گئی تب بھی انہوں نے میاں حسن فاروق کے ہمراہ مسجد آنے کا اپنامعمول ترک نہیں کیا۔ جس رات ان پر برین ہیمبرج کا حملہ ہوا اور وہ بے ہوشی کے عالم میں ہسپتال پہنچائے گئے، اس رات بھی وہ نمازِ مغرب اور نمازِ عشاءمسجد میں باجماعت ادا کر کے گئے تھے۔ جب بھی کسی نے کہا کہ میاں صاحب آپ سنتیں اور نفل ہی بیٹھ کر پڑھ لیا کیجیے۔ تو ان کا جواب ہوتا تھا کہ جب میں ساری نماز کھڑے ہو کر ادا کر سکتا ہوں تو یہ اللہ کریم کی ناشکری ہو گی کہ میں بیٹھ کر ادا کروں۔ آنکھوں کی بینائی چلی جانے پر کسی نے تاسف کا اظہار کیا، تو انہوںنے جملہ کاٹتے ہوئے کہا اللہ کا شکر ہے کہ اس نے 93 سال تک مجھے بصارت کی نعمت عطا کی، اب بینائی چلی گئی ہے تب بھی اس کا شکر ہے۔
میں نے ایک مرتبہ میاں صاحب کو فون پر جنرل ضیاءالحق سے بات کرتے ہوئے سنا۔ وہ انہیں مسلسل ڈانٹ رہے تھے۔ یہ کسی مظلوم فرد کا معاملہ تھااور اس پر میاں صاحب بہت برہم تھے اور بار بار کہہ رہے تھے کہ آپ کی حکومت کو شرم آنی چاہیے۔
ایک مرتبہ میاں صاحب نے مجھے گھر طلب کیا۔ میں ان دنوں پنجاب اسمبلی کا رکن تھا۔ میاں صاحب کے پاس ضلع پاکپتن کے دو تین افراد بیٹھے تھے۔ یہ دور پار سے میاں صاحب کے عزیز بھی تھے۔ ان کی زمینوں پر میاں منظور وٹو سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد نے قبضہ کر لیا تھا اور کھڑی فصلوں کو جلا دیا تھا۔ میاں صاحب نے مجھے حکم دیا کہ میں میاں منظور وٹو کو میاں صاحب کا پیغام پہنچاﺅں اور انہیں کہوں کہ اگرچہ آپ نے براہِ راست قبضہ نہیں کیا، لیکن آپ کے حوصلہ پر ہی ان افراد نے یہ جسارت کی ہے۔ اس لیے قیامت کے دن آپ کو بھی جواب دہ ہونا پڑے گا۔ میں نے میاں منظور وٹو سے بات کی۔ انہوں نے کہا کہ میں میاں صاحب کے پاس خود حاضر ہوں گا۔ وضاحت بھی کروں گا اور مظلوم افراد سے پورا تعاون بھی۔ چنانچہ میں نے میاں صاحب سے وقت طے کیا اور میاں منظور وٹو صاحب کو بتایا۔ وہ مقرر وقت پر تشریف لائے۔ انہوں نے میاں صاحب کا بے حد اکرام کیا۔ وضاحت کی کہ واقعہ میری لاعلمی میں ہوا ہے۔ پھر دونوں مظلوم افراد کو سینے سے لگایا اور تسلی دی کہ تمہیں ان شاءاللہ کوئی بے دخل نہیں کرے گا۔
میاںصاحب کا یہ بہت بڑا داعیانہ اور قائدانہ کردار تھا کہ وہ اپنے کارکنوں کی کھل کر حوصلہ افزائی کرتے تھے۔ 1977ءکے انتخابات کے موقع پر لاہور سے پی این اے میں جماعت اسلامی کے امیدواران برائے صوبائی اسمبلی کےلئے جماعت اسلامی کے کارکنان کی رائے تھی کہ فرید احمد پراچہ، عبدالشکور اور مسعود کھوکھر کو امیدوار بنایا جائے۔ (میں 1975ءمیں رکن جماعت بن چکا تھا) جبکہ جماعت اسلامی لاہور کے بعض ذمہ داران دوسری رائے رکھتے تھے۔ بحیثیت امیر جماعت میاں صاحب نے ارکان و کارکنانِ جماعت کی رائے کو زیادہ اہمیت دی۔ میاں صاحب ہمیشہ والہانہ انداز میں بڑی شفقت کے ساتھ ملتے۔ حتیٰ کہ بینائی چلی جانے کے باوجود آواز سے پہچان کر گرم جوشی سے گلے لگاتے تھے۔
(نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان ہیں)
٭….٭….٭



بشکریہ

جواب چھوڑیں