عوام کو جاہل رکھو حکومت کا مزہ لو

عظیم نذیر
جہالت اور علم ایک دوسرے کے متضاد الفاظ ہیں۔ جہالت کے لفظی معنی فرہنگ آصفیہ کے مطابق بے علمی، لاعلمی، ناواقفیت، بے خبری، اناڑپن، وحشی پن، جانگلی پن، حیوانیت، بیوقوفی اور اجڈپن ہیں۔ جبکہ علم کا مطلب ہے دانش، دانائی، واقفیت، گیان، خبر، آگاہی وغیرہ۔ تاہم ایک قدر ان میں مشترک ہے کہ جہالت بھی لامحدود ہوتی ہے اور علم بھی ۔لیکن جہالت کو اس طرح الگ الگ نہیں کیا جا سکتا جس طرح مختلف علوم الگ الگ ہیں۔ عربی میں انیس علوم اور ان کی بہت سی شاخیں ہیں، سنسکرت میں چودہ علوم اور ان کے بہت سے الگ الگ حصے ہیں۔ انسان کو اشرف المخلوقات کہا گیا، دماغ اور علم ہی اسے دوسری مخلوقات سے افضل بناتی ہے اور علم کےلئے اس کی پہلی درس گاہ اس کا گھر ہوتی ہے جو انسان کو سوچنے اور عمل کرنے کا سلیقہ سکھاتی ہے۔ پڑھی لکھی اور باشعور ماں کی گود میں پلا بچہ اپنی ماں کا آئینہ دار ہوتا ہے لیکن اگر ماحول علم دوست نہ ہو تو بچے کے ذہن میں کوئی بھی منفی ترغیبی رجحانات گھر کر سکتے ہیں۔ جہالت ختم کرنے کا براہ راست تعلق تعلیم سے ہے، اگر بچے کو مثبت تعلیمی ماحول نہیں ملے گا تو بچہ اچھا شہری کیسے ثابت ہو گا۔ آج کے دانشور سرمایہ دار کے مفادات کو سب سے پہلے مدنظر رکھتے ہیں اور چیزوں کی اصل شکل و صورت کو انتہائی بے دردی سے مسخ کر کے پیش کرتے ہیں جس سے علم تو نہیں پھیلتا جہالت ضرور بڑھ جاتی ہے۔ یہ سب کچھ دیکھ کر دنیا بھر کے حقیقی ماہرین نفسیات، عمرانیات، سماجیات اور فلسفہ کے خالقوں کی روح کو اذیت پہنچتی ہو گی۔
پاﺅلو فریرلے اپنی کتاب ”تعلیم اور مظلوم عوام“ میں لکھتا ہے کہ دنیا کا نظام بنیادی طور پر ظالمانہ اور غیر منصفانہ ہے۔ یہاں صرف دو دھڑے ظالم اور مظلوم ہیں۔ ظالمانہ نظام مظلوموں کو یہ تاثر دینے کی کوشش کرتا ہے کہ دنیا قدرتی طور پر ہے ہی ایسی۔ یہاں کچھ لوگوں کو دوسروں پر دنیاوی اور مالی فوقیت حاصل ہے ۔اس کے مقابلے میں مظلوم طبقہ اپنے حقوق اور برابری کےلئے مسلسل لاحاصل کوششوں میں لگا رہتا ہے۔ ظالم اور مظلوم کی تفریق ہر گز قدرتی نہیں بلکہ یہ ایک ناانصافی پر مبنی نظام کی پیداوار ہے۔ فریرلے کے مطابق مظلوموں کو اس لڑائی میں جس چیز سے بچنا چاہئے وہ جہالت ہے اور اس لڑائی میں جیتنے کےلئے سب سے بڑا ہتھیار تعلیم و تدریس ہے۔ ظالمانہ سرمایہ دارانہ نظام میں یہ تفریق کھل کر سامنے آ جاتی ہے جہاں امیر اور غریب کی تعلیم میں ایسا فرق ہے کہ غریب تعلیم حاصل کر کے بھی کچھ نہیں جان پاتا اور مظلوم ہی رہتا ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام کے مخالفین کہتے ہیں کہ سرمایہ دارانہ نظام نے انسانوں کے مابین برہنہ خود غرضی اور سنگدلانہ نقد ادائیگی کے سوا کوئی تعلق نہیں چھوڑا، اس نظام نے انسان کی ذاتی قدر و منزلت کو چیزوں کے تبادلے کی قدر میں بدل دیا ہے اور انسان کی بے شمار ناقابل تنسیخ اور طے شدہ آزادیوں کی جگہ ایک واحد آزادی یعنی آزاد تجارت کو قائم کر دیا۔ سرمایہ دارانہ نظام نے عزت و تکریم کی نظر سے دیکھے جانے والے ہر پیشے سے اس کا وقار چھین لیا۔ ڈاکٹر، وکیل، مذہبی پیشوا، شاعر اور سائنسدان سرمایہ دارانہ نظام کے اجرتی مزدور بن گئے، یہ نظام خاندان کا جذباتی نقاب نوچ چکا ہے جس کے بعد خاندانی رشتے صرف پیسے کے رشتے تک گر چکے ہیں۔ سرمایہ دار دن بدن طاقتور ہو رہا ہے اور عوام کمزور سے کمزور تر، اگر اس بڑھتی ہوئی خلیج کو کنٹرول نہ کیا تو کمزور عوام اکٹھے ہو کر حکومتوں کی مضبوط اپوزیشن بن سکتے ہیں اور حکومتوں سے تحریکوں کے ذریعے اپنی مرضی کے فیصلے کرانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔
ساٹھ کی دہائی میں فرانزفینن اپنی کتاب ( ریچڈ آف دی ارتھ) افتادگان خاک میں لکھتے ہیں کہ تیسری دنیا کے جو ممالک غیر ملکی آقاﺅں کے نو آبادیاتی اقتدار کا حصہ رہے وہاں وہاں عام لوگوں کو نفسیاتی مریض بنا کر خود اپنے آپ سے نفرت کرنے والا بنا دیا گیا اور یہ سب ایک منصوبے کے تحت کیا گیا جس کا مقصد یہ تھا کہ دیسی افراد کو علم سے دور رکھا جائے کیونکہ جاہلوں پر حکو مت کرنا آسان ہوتا ہے۔
ہمارے ولایتی آقا چلے گئے لیکن دیسی آقا اسی روش پر چلنے لگے جس پر ان کے ولایتی آقا چلتے تھے۔ آزادی کے بعد بھی ظالم اور مظلوم دو طبقات ہی باقی ہیں۔جو بھی حکومت میں آتا ہے اس کا رویہ وہی ہوتا ہے جو اس سے پہلے حکمران کا ہوتا ہے۔کیونکہ اپنی حکومتیں برقرار رکھنے کیلئے عوام کو نچوڑنا پڑتا ہے۔نظام بدلنے کی کوشش کامیاب نہ ہو اس کیلئے عوام کو حقیقی معنوں میں جاہل رکھا جاتا ہے کیونکہ مظلوموں کو ظالم سے نجات کیلئے تعلیم کی ضرورت ہوتی ہے، کیونکہ شعور تعلیم سے ہی آتا ہے۔شعور کا مطلب ہوتا ہے دانائی ، واقفیت، شناخت، تمیز، پہچان، سمجھ اور عقل، یعنی اگر عوام کو تعلیم سے دور رکھا جائے تو نادان، ناواقف، بے شناخت، بدتمیز ، ناسمجھ اور بے عقل قوم وجود میں آتی ہے جو پورے ملک کے مستقبل کیلئے بیشک بہت بری ہو لیکن اشرافیہ اور حکمران ‘عوام کی نادانی سے خوب فائدہ اٹھاتے ہیں۔بے شعور عوام کو کسی بھی عام سے ایشو میں الجھا دیا جاتا ہے ، نادان عوام جھوٹ کی چھتوں کو اپنے لئے ،مستقل سایہ سمجھ لیتے ہیںاور آہستہ آہستہ سماجی ، معاشی اور معاشرتی میدانوں میں اشرافیہ سے بہت پیچھے رہ جاتے ہیں۔اس طرح مٹھی بھر اشرافیہ اور پھر ان کی اولادوں کیلئے کروڑوں نادان عوام کو اپنی مرضی کے مطابق چلانا آسان ہو جاتا ہے۔ اشرافیہ کی کوشش ہوتی ہے کہ عوام میں سے ایسے نادان تلاش کیے جائیں جنہیں وہ اپنی کٹھ پتلی کی طرح نچا سکیں اور وہ اکثر اس میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔اور جاہل عوام کی صفوں میں سے اشرافیہ کی طاقت اور پیسوں سے حکمران بننے والے عوام کو ہی جاہل کہنے لگتے ہیں۔ڈاکٹر یاسمین راشد کی تازہ ترین مثال سب کے سامنے ہے ، جنہیں سب جاہل نظر آتے ہیں ۔ ویسے بھی کہا جاتا ہے کہ جیسے عوام ہوں گے ان پر ویسا ہی حکمران مسلط کر دیا جاتا ہے۔
ہم آج بھی انگریز کے سو سال پہلے بنائے گئے قوانین اور نظام تعلیم کو اپنائے ہوئے ہیں،جو اس نے ایک غلام قوم کو قابو میں رکھنے کیلئے بنائے تھے۔ آج کے حکمران ، انتظامیہ اور پولیس انگریز کے قانون کے مطابق صرف عوام کو قابو میں رکھنے کا انتظام کرتے ہیں۔تعلیم کے میدان میں اشرافیہ کے بچوں کیلئے نظام تعلیم اور ہے اور عوام کیلئے اور۔ فرق صرف اس لئے ہے تاکہ اشرافیہ کی اگلی نسلیں بھی حکمران رہیںاور عوام غلام۔ ایسا صدیوں سے ہوتا چلا آ رہا ہے اور ہمارے معاشرے میں کسی بھی میدان میں ہمیشہ ایسا ہی ہوتا نظر آ رہا ہے۔لیکن ہم شائد اس بات میں بہت ترقی کر رہے ہیں کہ غریب مزید غریب ہو جائے تاکہ صرف اپنی روٹی کے چکر میں پھنسا رہے، کڑھتا رہے۔، پستا رہے، ہر وقت ان دیکھے دشمنوں سے لڑتا رہے اور سب کچھ قسمت کا لکھا سمجھ کر بس زندہ رہے۔ ایسے معاشروں سے ترقی کی امید رکھنا بیوقوفی ہے۔حکمران تبدیلی، ترقی، روزگار، قانون کی حکمرانی، روٹی کپڑا اور مکان جیسے نعرے لگا کر بے شعور عوام کو مسلسل بیوقوف بنا رہے ہیں۔ایک کے بعد ایک اشرافیہ کا کوئی بھی ایجنٹ حکمران اپنا الو سیدھا رکھتا ہے اور نیا آنیوالا کسی منشور یا ترقی کا روڈمیپ دینے کی بجائے بیوقوف بنانے والا ایک نیا نعرہ تیار کرتا ہے اور صرف نعرے کی بنیاد پر ہی اپنا دور مکمل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
(کالم نگارسینئر صحافی اورتجزیہ کار ہیں)
٭….٭….٭



بشکریہ

جواب چھوڑیں