مہذب دنیا میں نسلی تفریق کا المیہ۔۔اسلم اعوان


امریکا کی ریاست منی سوٹا کے شہر میناپولس میں سیاہ فام شہری جارج فلائیڈ کی پولیس کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد بھڑک اٹھنے والے فسادات؛ اگرچہ کوئی انہونی بات نہیں تھی‘ کیونکہ اس سے قبل بھی امریکی سماج کم و بیش ڈیڑھ صدی تک اسی نوع کی تلخیوں کا کرب جھیلتا رہا ‘لیکن حالیہ فسادات کو اگر اس عہدکے تناظر میں رکھ کے دیکھیں گے تو یہ ایشو اپنے مقاصد و نتائج کے اعتبار سے ماضی کے فسادات کی نسبت مختلف نظر آئے گا۔اٹھارویں اور انیسویں صدی میں سفید فام نسلیں امریکی سرزمین پہ غالب قوم بن کے اتریں اور یہاں مستقل قیام کو یقینی بنانے کی خاطر انہوں نے اصل زمین زادوں کو صفحۂ ہستی سے مٹانے میں اپنی بقاء تلاش کی ‘لیکن اس وقت امریکا میں گوری نسلیں خود بقاء کے مسائل سے دوچار ہیں۔سفید فام بتدریج کم اوریہاں ہسپانوی‘افریقی اور ایشیائی امریکن کی آبادی بڑھتی جا رہی ہے۔سفید فاموں کو اب‘دیگر براعظموںسے نقل مکانی کر کے آنے والوں کی اولادیں‘مارکیٹ اکانومی اورجمہوری نظام کی بدولت معاشی وسائل اور سیاسی اقتدار پہ غلبہ پاتی دکھائی دیتی ہیں۔براک اوباما کے منصب صدارت تک پہنچنے کے عمل کو بھی سفید فام آبادی نے اپنے فطری زوال سے تعبیر کیا تھا۔شاید اسی لئے مخصوص تاریخی تناظر میں سفید فام آبادی کے اندر مٹ جانے کا احساس گہرا ہو رہا ہے اور یہی اندیشہ انہیں ایک بار پھر دوسری نسلوں کے خلاف تشدد پہ اُکسا رہا ہے؛خاص کر مڈویسٹ کے وہ سفید فام‘ جنہیں معاشی کمزرویوں اور سیاسی پسپائی کی اذیت نے گھیرا ہوا ہے‘شدید نوعیت کے عدم تحفظ کا شکار ہیں۔یہی لوگ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نسلی تفریق پہ مبنی پالیسیز کی شدومد سے حمایت کرتے ہیں ‘جو بظاہر امریکی وسائل اور اقتدار اعلیٰ پہ سفیدفام امریکیوں کی بالادستی قائم رکھنے کی خاطر مارکیٹ اکانومی اور جمہوریت کے جھنجھٹ سے نجات پانے کیلئے ہاتھ پاوں مار رہے ہیں‘ لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دست ِ ِقضا نے ان سفید فام امریکیوں کو مٹانے کا ارادہ کر لیاہے۔
California governor Peter Burnett, famously stated,”That a war of extermination will continue to be waged between the two races until the Indian race becomes extinct, must be expected.”
پچھلے ڈیڑھ سو سال میں امریکا کے مقامی ریڈ انڈین باشندوں کی نسل کشی اور سیاہ فام امریکن کے قتل عام کی ریاستی سکیم کو کور کرنے کی خاطر متعدد انکوائری رپوٹس مرتب اور درجنوں کتابیں لکھی گئی‘جن میںیہ تین کتب نمایاں ہیں:
Genocide and Vendetta: The Round Valley Wars in Northern California by Lynwood Carranco & Estle Beard.
Murder State: California’s Native American Genocide, 1846-1873. Brendan C. Lindsay.
An American Genocide. The United States and the California Indian Catastrophe, 1846-1873. Benjamin Madley.
نجمن مڈلے نے لکھاکہ 1849ء اور 1870ء کے درمیان اکیس سال میں 16 ہزار ریڈ انڈین قتل ہوئے‘جن میں بچے اور خواتین بھی شامل تھے۔پروفیسر ایڈکاسٹیلو نے کیلیفورنیا میں سونا دریافت ہونے کی غیر متوقع خوشی کے دو سال میں ٹارگٹ کلنگ‘مسلح جھتوں اور مشتعل ہجوم کے ہاتھوں ایک لاکھ ریڈ انڈین کے مارے جانے کا تذکر ہ کیاہے۔کم و بیش سو سال کے اندر امریکا کی گداز نسلیں سفیدفاموںکے ہاتھوں معدوم ہو گئیں‘تاہم محققین کی اکثریت مقامی آبادی کے خلاف ریاستی جرائم کو دو طرفہ ٹریجڈی کا رنگ دینے میں مصروف رہی۔ انیسویں صدی کے اختتام تک سفیدفاموں نے امریکی سرزمین اور وسائل پہ قبضہ مکمل کر کے اس کی تہذیبی و ثقافتی شناخت بدلنے میں کامیابی پا لی۔بیسویں صدی کے آغاز پہ 1906ء میں اٹلانٹا کے فسادات کالے اور گورے کے مابین معاشی و سیاسی مقابلہ کی جدلیات کا پتا دیتے ہیں‘اسی زمانہ میں ساوتھ میں کالے اور گورے کے درمیان ملازمتوں کے حصول میں مقابلہ اور کاروباری رقابتوں نے شدت اختیار کر لی تھی۔گرین ووڈ میں سیاہ فاموں کی کامیابیوں کے ردعمل میں گورے آمادہ باجنگ ہونے لگے‘انہی دنوں ایک 19 سالہ لڑ کے کے قتل کے بعد پھوٹنے والے ہنگاموں میں26 کالے اور13 گورے ہلاک ہو گئے۔مؤرخین نے سو سے زیادہ ایسے واقعات کی تفصیلات بیان کی ہیں‘ جس میں بپھرے ہوئے ہجوم نے ازخود فیصلہ کر کے معصوم لوگوں کی سڑکوں پہ سزائیں دیں۔ 1919ء میںاوماہا اور1921 ء میں شکاگو کے ابنوہی تشدد نے امریکی معاشرہ میں سیاہ اور سفید فام نسلوںکے مابین نفرتوں کی دیوار مزید بلند کر دی‘تاہم سرد جنگ کی ضرورتوں اور سرمایہ دارانہ نظام کے تقاضوں کے تحت پنپنے والی جمہوری آزادیوں اورانسانی حقوق کی تحریکوں کی بدولت امریکا مقتدرہ نے منظم نسلی تعصبات کی شدت پہ کسی حد تک قابو پا لیا‘ لیکن نسلی تفریق کے رجحان کا مطلق خاتمہ ممکن نہ ہو سکا‘اسی دوران بھی وقفہ وقفہ سے سیاہ فاموں کے خلاف نسلی تشدد کی لہریں سر اٹھاتی رہیں۔1992ء میں روزنی کنگ نامی سیاہ فام کی ہلاکت کے بعد پھوٹنے والے فسادات‘جنہیں شہری حقوق کی تحریک کا نام دیا گیا اور2015ء میں فرگوسن شہر میں بھڑک اٹھنے والے پُرتشدد مظاہروں کا محرک بھی وہ منظم نسلی تعصب تھا‘ جسے سفیدفام اپنی روح سے الگ نہیں کر سکتے ہیں۔میناپولس واقعہ پہ عوامی ردعمل کی شدت بتا رہی ہے کہ سفید فام نسلی تعصبات کی جنگ ہار رہے ہیں؛حالیہ فسادات کے دوران کولمبس کا مجسمہ گرانے کی جسارت سفیدفاموں کی پسپائی کی علامت نظر آتی ہے۔نسلی تفریق پہ مبنی ان نفرت انگیز رویوں کی لہریں اب یورپ تک پھیل گئی ہیں‘یہاں بھی نسلی تفریق کے خلاف نکلنے والی ریلیوں پہ نسل پرستوں کے حملے جاری ہیں‘ کیونکہ سفیدفام نسل کے مٹ جانے کا احساس یورپ میں بھی پایا جاتا ہے۔برطانیہ کے سابق وزیراعظم ٹونی بلیئر نے اپنی الودعی تقریب میں نہایت کرب انگیز لہجہ میں کہا تھا ”مجھے خدشہ ہے کہ اگلے پچاس سال میں یہاں ایشیائی باشندے حکمراں ہوں گے‘‘۔
علیٰ ہذالقیاس‘افریقی‘ہسپانوی اور ایشیائی باشندوںکی بڑے پیمانے پہ امریکا کی طرف نقل مکانی کے بعد وہاں کے قدامت پسند سفید فام لوگوں کے اندر معدوم ہو جانے کا خوف بڑھتا جا رہا ہے ‘اسی خدشہ کے پیش نظر امریکا مقتدرہ بھی ملک کے اقتدار اعلیٰ اور پالیسی امور پہ سفیدفام لوگوں کی اجارہ داری قائم رکھنے کی خاطر جمہوریت اور مساوات کے تصورات سے نجات پانے میں سرگرداں ہے۔





بشکریہ

جواب چھوڑیں