نہ علم ہے نہ زباں ہے تو کس لیے محرومؔ تم اپنے آپ …

نہ علم ہے نہ زباں ہے تو کس لیے محرومؔ
تم اپنے آپ کو شاعر خیال کر بیٹھے
……
نہ رہی بے خودی شوق میں اتنی بھی خبر
ہجر اچھا ہے کہ محرومؔ وصال اچھا ہے
……
صاف آتا ہے نظر انجام ہر آغاز کا
زندگانی موت کی تمہید ہے میرے لیے
……
تلاطم آرزو میں ہے نہ طوفاں جستجو میں ہے
جوانی کا گزر جانا ہے دریا کا اتر جانا
……
اٹھانے کے قابل ہیں سب ناز تیرے
مگر ہم کہاں ناز اٹھانے کے قابل
….
یہ فطرت کا تقاضا تھا کہ چاہا خوب روؤں کو
جو کرتے آئے ہیں انساں نہ کرتے ہم تو کیا کرتے
….
یوں تو برسوں نہ پلاؤں نہ پیوں اے زاہد
توبہ کرتے ہی بدل جاتی ہے نیت میری
…..
اے ہم نفس نہ پوچھ جوانی کا ماجرا
موج نسیم تھی ادھر آئی ادھر گئی
….
عقل کو کیوں بتائیں عشق کا راز
غیر کو راز داں نہیں کرتے

بعد ترک آرزو بیٹھا ہوں کیسا مطمئن
ہو گئی آساں ہر اک مشکل بہ آسانی مری
….
بظاہر گرم ہے بازار الفت
مگر جنس وفا کم ہو گئی ہے
….
برا ہو الفت خوباں کا ہم نشیں ہم تو
شباب ہی میں برا اپنا حال کر بیٹھے
…..
دام غم حیات میں الجھا گئی امید
ہم یہ سمجھ رہے تھے کہ احسان کر گئی
….
دل کے طالب نظر آتے ہیں حسیں ہر جانب
اس کے لاکھوں ہیں خریدار کہ مال اچھا ہے
…..
دل میں کہتے ہیں کہ اے کاش نہ آئے ہوتے
ان کے آنے سے جو بیمار کا حال اچھا ہے
….
فکر معاش و عشق بتاں یاد رفتگاں
ان مشکلوں سے عہد برآئی نہ ہو سکی
…..
ہے یہ پر درد داستاں محرومؔ
کیا سنائیں کسی کو حال اپنا
….
ہوں وہ برباد کہ قسمت میں نشیمن نہ قفس
چل دیا چھوڑ کر صیاد تہ دام مجھے

مندر بھی صاف ہم نے کئے مسجدیں بھی پاک
مشکل یہ ہے کہ دل کی صفائی نہ ہو سکی
….
تلوک چند محروم


جواب چھوڑیں