کنفیوژڈ سرجری

زبانِ اہلِ زمیں…کنفیوژڈ سرجری

حقیقی معنوں میں پاکستان جیسا ملک کرہء ارض پر نہیں ہے کوئی دوسرا۔ اس ملک کی سب سے بڑی بدقسمتی یہ رہی ہے کہ یہاں ہاتھی نکل جاتا ہے اس کی دم پہ واویلا شروع کر دیا جاتا ہے۔ اور اس دُم کا ایسا حشر کیا جاتا ہے کہ ہاتھی بے چارہ خود واپس آ جائے کہ بھئی لو میں واپس آ گیا ہوں جو کرنا ہے کر لو لیکن دُم کو بخش دو۔ ہمارے سیاسی راہنمائوں کا حال تو ” انے دیاں ریوڑیاںـ” والا ہے کہ انہیں جب دو چار لوگ میدان سیاست میں پہچاننا شروع کر دیں تو وہ ایسے انداز اپنا لیتے ہیں اور ایسی ایسی بھونڈی حرکتیں کرتے ہیں کہ ۔۔۔ الاماں۔ عوام بے چاری حیران وہ پریشان یہی سوچتی رہتی ہے کہ ہمیں تو کھانے نہیں مل رہا اور اشرافیہ قسط وار لیکس پہ باہم دست و گریباں ہے۔ ہمارا شدید گرمی میں پانی کی کمی سے پیاس سے برا حال ہے اور اس ملک کے ایوانِ اقتدار کی راہداریوں میں سرگوشیاں کرنے والے ایک دوسرے کی پگڑیاں اچھال کر یہ توقع کیے رہتے ہیں کہ عوام واہ واہ بھی کریں۔ اور عوام واہ واہ کرتی بھی ہے اور اپنا مزید کباڑہ اسی لیے عوام اپنے ہاتھوں سے کرتے ہیں۔
بیماری کو ہمارے سیاستدانوں نے اس ملک کا سب سے بڑا مسلہ بنا دیا ہے۔ اور آپ کوئی اخبار اٹھا کر دیکھ لیں ۔ کوئی بھی ٹی وی چینل آن کر لیں آپ کو یہ پڑھنے ، سننے یا دیکھنے کو نہیں ملے گا کہ اس سال گرمی کی شدت سے مقابلہ کرنے کے لیے حکومت کی طرف سے کیا اقدامات کیے گئے ہیں بلکہ آپ کو بڑے میاں صاحب کی "سرجری” ہی سب سے بڑا مسلہ نظر آئے گا۔ کوئی شک نہیں کہ اوپن ہارٹ سرجری آسان عمل نہیں۔ نہایت ہی پیچیدہ اور مشکل مرحلہ اور نہ صرف ہمارے محترم وزیر اعظم صاحب کے لیے بلکہ ان کے پورے خاندان کے لیے بھی ۔ لیکن جس انداز سے اس سارے معاملے کو پیش کیا جا رہا ہے کیا آزاد، خود مختار، اور مضبوط قوموں کا یہی انداز ہوتا ہے؟
حکمران جماعت نے اس سرجری کو اپنے حق میں استعمال کرنے کا موقع ہاتھ سے نہ نکلنے دیا۔ نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اس سرجری کو حکمران جماعت کے نااہل اور غیر سیاسی ترجمانوں نے مسائل سے چھٹکارے کی کنجی سمجھ لیا ہے۔ (ترجمانوں کا لفظ اس لیے کہ اس پوری صورت حال پہ حکومت کی طرف سے واضح ہی نہیں کہ کون سرکاری سطح پر بیان جاری کرئے گا اور کون عوام کو مطلع رکھے گا)۔ تمام وزیر ہی ترجمان کے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔ہوٹل میں کھانا کھانے میں کسی قسم کا کوئی سیکیورٹی رسک نہیں ہے۔ لیکن ہسپتال کا نام تک عوام کو بتانے میں سیکیورٹی رسک تھا۔ توبہ توبہ اس تمام معاملے کو اس قدر الجھا دیا گیا ہے کہ لوگ مخمصے کا شکار ہو گئے ہیں کہ سرجری ہوئی بھی ہے یا لیکو لیک ایشو سے چھٹکارا پانے کا حربہ ہے۔آپ نے کیوں سرجری جیسے حساس معاملے کے حوالے سے کنفیوژن پیدا کیے رکھی۔ یہ قوم جتنا بھی اختلاف رکھے اتنی بھی بد اخلاق نہیں کہ ایک شخص کے علاج پہ بھی منافقت کرئے۔ آپ دل بڑا کر کے صورت حال واضح کرتے۔ ارئے حضور ! نہ فکر کریں آپ نے آج تک خود کو عالمی راہنما ثابت ہی نہیں کیا کہ لوگ برطانیہ جیسے معاشرے میں ہسپتال دوڑے چلے آئیں گے۔
حد ہے کہ ملک ایسے چلائے جاتے ہیں؟ ملک کا وزیر اعظم ملک میں نہیں اور ایک غیر منتخب شخص کو تمام اختیارات تفویض کر دیے گئے کہ بھئی تم مختار کل ہو جو چاہے کرو۔ کیا منتخب نمائندوں کا اسمبلی میں قحط پڑ گیا تھا یا آپ کو کسی پہ اعتبار نہیں ہے؟۔اورآدھا پاکستان کہلانے والا صوبہ ایسے چلایا گیا کہ پتا ہی نہیں تھاکہ اختیارات کس کے پاس ہیں۔ نہ اسپیکر کے حوالے سے واضح معلومات ، نہ ہی کسی اور شخصیت کے حوالے سے ۔ صدرصاحب کے پاس سے اختیارات تو ویسے ہی ترامیم کے جھرمٹ میں ختم کر دیے گئے۔ اگر واقعی وزیر اعظم کا نائب پاکستان کے آئین میں نہیں ہو سکتا ہے تو ماضی قریب میں پرویز الٰہی صاحب کو جب نمائشی ہی سہی لیکن نائب وزیر اعظم بنایا گیا تو کیوں کسی قانونی ماہریا کسی آئینی ماہر نے اپنی علمیت سے اس معاملے کو روکا نہیں؟ ایک ہی تھالی کے بینگن کے مصداق جب جس کا جی چاہتا ہے اپنی مرضی کے اقدامات کرتا ہے اور اپنی مرضی کے اقدامات نہ ہونے پہ احتجاج شروع کر دیتا ہے۔ اس مملکت خدادا کو پرچون کی دوکان سمجھ لیا گیا ہے کہ کچھ سمجھ ہی نہیں آتا کہ کیا ہو رہا ہے اور کیا ہونا ہے۔
خدارا۔۔۔ اپنے لوگوں پہ اعتبار کرنا سیکھیں اور اقتدار کو خاندان کی باندی سمجھنے کے بجائے عوام کی طاقت سمجھیں۔ جس عوام سے آپ اپنا علاج تک چھپا رہے ہیں۔ اور ایک معمول کی سرجری کو آپ نے "کنفیوژڈ سرجری” بنا دیا ہے جب ان سے ہی ووٹ مانگتے ہیں تو ہلکی پھلکی شرم آتی ہے آپ کو یا وہ بھی چھپا جاتے ہیں؟
یہ”زُبانِ اہلِ زمیں”ہے۔قارئین اپنی تجاویز اور آراء کے لئے اس ایڈریس پر مجھ سے رابطہ کر سکتے ہیں۔
سید شاہد عباس، راولپنڈی

جواب چھوڑیں