اتحادیوں کا کھیل | Khabrain Group Pakistan

کامران گورائیہ
وزیراعظم عمران خان کو قومی اسمبلی کے ایوان میں سادہ اکثریت حاصل ہے ۔انہوں نے بلوچستان، سندھ اور پنجاب سے تعلق رکھنے والی چھوٹی چھوٹی مگر بہت زیادہ اہمیت کی حامل جماعتوں کے ساتھ اتحاد قائم کر کے اقتدار حاصل کیا۔ مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی اور جمعیت علما اسلام (ف ) اپوزیشن کا کردار ادا کر رہی ہیں۔ ایک طاقتور اپوزیشن کے مقابلے میں عمران خان کو قومی اسمبلی میں محض چند ووٹوں کی برتری حاصل ہے جس کے نتیجہ میں وہ وزارت عظمی کے منصب پر فائز ہوئے لیکن پہلے ایم کیو ایم اور جی ڈی اے اور اب بلوچستان نیشنل پارٹی اور جمہوری وطن پارٹی نے بھی کھل کر تبدیلی سرکار سے اپنے اختلافات کا اظہار کر دیا ہے۔ جس کے بعد وزیراعظم عمران خان اور ان کی جماعت تحریک انصاف کو قومی اسمبلی سے رواں سال کےلئے پیش کیا گیا وفاقی بجٹ منظور کروانے میں شدید مشکلات کا سامنا ہو سکتاہے بلکہ عین ممکن ہے کہ حکمران جماعت سے بدگمان اتحادی جماعتیں اپنا کھیل شروع کر دیں اور عمران خان کےلئے اپنی حکومت بچانی مشکل ہو جائے۔ بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل واشگاف انداز میں حکومت وقت کو باور کروا چکے ہیں کہ اب حکومت سے اتحاد برقرار رکھنا ان کے اختیار میں نہیں رہا اور بات بہت آگے نکل چکی ہے۔ اسی طرح بلوچستان کی ایک اور حکومتی اتحادی جماعت جمہوری وطن پارٹی کے روح رواں نواب شاہ زین بگٹی نے بھی حکومت کو ایک ہفتے کا الٹی میٹم دیدیا ہے۔ اس کھیل کو دیکھتے ہوئے جمعیت علما اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن اچانک بہت زیادہ متحرک ہو چکے ہیں۔ انہوں نے سردار اختر مینگل سے دو اہم ملاقاتیں کی ہیں ان ملاقاتوں میں حکمران جماعت سے چھٹکارہ حاصل کرنے کےلئے بلوچستان سے تبدیلی کا آغاز کرنے پر اتفاق کر لیا گیا ہے ۔جبکہ وفاقی حکومت کا مصالحتی وفد جس میں وفاقی وزیر دفاع پرویز خٹک اور اسد عمر شامل ہیں،اختر مینگل سے ملاقات کر کے انہیں حکومت سے ناراضی ختم کرنے میں ناکام ہو چکے ہیں۔ اس کے برعکس اختر مینگل اور مولانا فضل الرحمن کی دو اہم ملاقاتوں کو فیصلہ کن قرار دیا جا رہا ہے۔
موجودہ حالات میں جب پاکستان سمیت دینا بھر میں کورونا وائرس اپنے ہلاکت انگیز اثرات چھوڑ رہا ہے تو اسے وفاقی حکومت کےلئے تپتی دھوپ سے بچنے کی چادر کہا جا رہا ہے۔ قوی امکان ہے کہ جب ملک میں کورونا وائرس کے اثرات ختم ہوں گے تو ملک میں سیاسی درجہ حرارت میں بھی بہتری آ جائے گی اور باہم دست و گریبان اس سیاسی ماحول میں حکومت کی اتحادی جماعتوں کا کردار بہت زیادہ اہم ہوگا۔ اپوزیشن جماعتوں نے سردار اختر مینگل سے رابطے تیز کردیئے ہیں۔یہ بات کھل کر عیاں ہو چکی ہے کہ جمعیت علمائے اسلام کے بعد پاکستان پیپلزپاٹی نے بھی بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل سے رابطہ کیا۔ پیپلزپارٹی اور بلوچستان نیشنل پارٹی کے درمیان اہم سیاسی امور اور حکومت کو ٹف ٹاٹم دینے کی حکمت عملی سمیت اہم امور پر گفتگو ہوگی۔ حکومت تاحال اختر مینگل کو منانے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔جمعیت علمائے اسلام نے بلوچستان میں ان ہاﺅس تبدیلی کے ساتھ ساتھ وفاق میں بھی تبدیلی کیلئے کوششیں تیز کردی ہیں اور اس حوالے سے اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ رابطے بڑھائے جائینگے۔ذرائع کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان کو یہ تجویز دی گئی تھی کہ وہ پہلے مرحلے میں بلوچستان کی حکومت تبدیل کرنے کی کوشش کریں جس پر مولانا فضل الرحمن کا موقف تھا کہ انہیں دس سے گیارہ اراکین چاہئیں اور یہ اسی صورت میں ممکن ہے جب بلوچستان عوامی پارٹی اور خود پی ٹی آئی اے کے چند ایم پی ایز ہماری حمایت کریں۔ حکمران جماعت کے لوگوں کی بغاوت کی صورت میں جے یو آئی اپنے اتحادیوں سے مل کر حکومت سازی کرسکتی ہے۔اس لئے بلوچستان کے ساتھ ساتھ وفاق میں تبدیلی کی کوششیں بھی کی جائیں کیونکہ یہاں پر آٹھ سے نو اراکین کی حمایت ختم ہوجائے تو تحریک انصاف کی حکومت کیلئے مشکلات بڑھ جائینگی ۔ فی الحال مولانا فضل الرحمن نے پارٹی رہنماﺅں کو بلوچستان میں اپوزیشن میں ہی رہنے کا مشورہ دیا ہے جے یو آئی بلوچستان کی مجلس عاملہ اور پارلیمانی ممبران کے اجلاس میں ان ہاﺅس تبدیلی کے مختلف آپشنز پر گفتگو کی گئی تھی۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ صوبے کے ساتھ ساتھ وفاق پر بھی توجہ دی جائے۔اوروہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی سے بھی مشاورت کرینگے۔ مرکز میں تحریک انصاف کی حکومت کو ٹف ٹائم دینے کیلئے اکتوبر یا نومبر میں ایک اور دھرنے کے حوالے سے بھی اجلاس میں مشاورت کی گئی۔
بلو چستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل کا کہنا ہے کہ ہم عید کا چاند نہیں کہ ہربار نظرآجائیں،70سالوں سے صرف یقین دہانیاں کرائی جارہی ہےں۔مگر اب ایسا نہیں ہوگا، حکومت جتنی دیر کرے گی اپوزیشن کا مقناطیس اتنا ہی ہمیں اپنی طرف کھینچے گا جب حکومت سے علیحدگی اختیار کی تو پھر بیگانی شادی میں عبداللہ دیوانہ کا کردار کیسے نبھائیں،ملک میں کوئی ایک محکمہ بہتر نہیں اور تو اور جوڈیشری کو بھی نہیں بخشا گیا۔جب آپ اپنے اردگرد دائیں،بائیں،آگے پیچھے چھوڑ کر اپوزیشن پر ہاتھ ڈالیں گے تو وہ احتساب نہیں بلکہ انتقام کہلائے گا، وزیراعظم کےخلاف تحریک عدم اعتماد کیلئے اپوزیشن کو اپنی صفیں مضبوط کرناہوگی ایسا نہ ہو کہ چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی طرح ناکامی سے دوچار ہوجائیں،کورونا کے پھیلاﺅ میں نہ صرف حکومت بلکہ وفاقی حکومت بھی ذمہ دار ہے۔ بلوچستان نیشنل پارتٰ کے سربراہ سردار اختر مینگل کا کہنا ہے کہ بلوچستان نیشنل پارٹی کے6نکات سے پاکستان کا ہر سیاسی کارکن واقف ہوچکا ہے لیکن جن کی ذمہ داری تھی وہ اس سے نا واقف ہیں۔ سب کو پتہ ہے کہ 6نکات میں کیا ہے اور دوسرے معاہدے کے 9نکات میں کیا ہے۔پاکستان تحریک انصاف کی حمایت پر لوگوں کے طنز اور تنقید برداشت کرتے رہے ہم نے پہلے مرحلے میں ایک سال کا وقت دیا تھا اور اس وقت بھی واضح کیا تھا کہ اگر سو فیصد عمل نہیں ہوسکتا تو کم از کم بیس سے پچاس فیصد تک عمل تو کرا یا جائے تاکہ اپنے لوگوں کو جواب دے سکیں کیونکہ ہم اپنے لوگوں کے سامنے جوابدہ ہیں۔ ہم نے الیکشن کے پہلے اور بعد میں ان چھ نکات کی بنیاد پر لوگوں سے ووٹ لئے ہیں اور کہا ہے کہ اگر ہم حکومت میں رہیں یا حکومت کے اتحادی رہیں تو ان مسائل کو حل کرائیں گے یا پھر اپوزیشن میں رہیں تو بھی ان مسائل کوایوان میں اٹھائیں گے‘۔ کسی بھی سیاسی جماعت کی شراکت دار بننے کےلئے بے چین اور بے قرار رہنے کی یہ سیاسی جماعتیں ہواﺅں کا رخ تبدیل ہوتے ہی اپنی وفاداریاں تبدیل کر لیں گی اور برسراقتدار جماعت کے لئے مشکلات بڑھتی چلی جائیں گی۔ بلوچستان کی سیاست میں ہلچل ہے۔ سندھ میں موجود پی ٹی آئی کی اتحادی جماعتیں آج بھی بہت سے معاملات پر تحفظات کا اظہار کرتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔ پنجاب میں حکومت کی اہم اتحادی جماعت ق لیگ کے بھی بہت سے تحفظات ہیں اور انہی تحفظات کا نتیجہ ہے کہ وزیراعلی پنجاب سردار عثمان بزدار کو اپنی قیادت کی ہدایات کی روشنی میں ق لیگ کے رہنماﺅں سے ملاقاتیں کرکے یہ یقین دہانی لینا پڑی ہے کہ وہ حکومت سے اپنا اتحاد اور تعاون جاری رکھیں گی لیکن قومی سیاست میں مولانا فضل الرحمن کے کردار کو نظرانداز کرنا ممکن نہیں کیونکہ مولانا مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی، سندھ اور بلوچستان کی علاقائی اور پنجاب کی تمام چھوٹی بڑی سیاسی قوتوں سے مسلسل رابطے میں رہتے ہیں بلکہ آئندہ چند دنوں میں مولانا فضل الرحمن پنجاب میں بھی تبدیلی کا کھیل شروع کر سکتے ہیں۔ بلوچستان اور پنجاب میں پی ٹی آئی حکومت کی تبدیلی وفاق میں بھی اس کی رخصتی کے اسباب پیدا کر سکتی ہے۔ آنے والے چند دن بہت اہم جبکہ یہ بھی کہا جائے کہ عید الاضحی کے بعد کا سیاسی منظر نامہ تبدیل شدہ ہوگا تو یہ بے جا نہیں ہوگا جبکہ عمران حکومت چاروں طرف سے مشکلات میں گھر چکی ہے۔ ہچکولے کھاتی معیشت، کورونا وائرس سے عوام کی ڈوبتی سانسیں، بڑھتی ہوئی مہنگائی، بھوک و افلاس اور سب سے بڑھ کر حکومت کی اتحادی جماعتوں کی اپنے دیرینہ مطالبات کے جواز میں ناراضی وہ عوامل ہیں جو عمران حکومت کے خاتمہ کا سبب بن سکتے ہیں۔
(کالم نگارسینئر صحافی ہیں)
٭….٭….٭



بشکریہ

جواب چھوڑیں