ایوانِ اقتدار اور غلام گردشیں….(2)

جاوید کاہلوں
فیلڈ مارشل ایوب خان سے پہلے کے پاکستان میں تو جواہرلال نہروکے بقول ” میرے پاجامہ تبدیل کرنے سے پہلے ہی یہاں حکومت بدل جاتی ہے“۔لہٰذا مناسب ہے کہ ہم ایوب خان کے بعد کے پاکستان پرذرا توجہ کریں توصاف نظر آجائے گاکہ کب ایوانِ صدر راولپنڈی کی غلام گردشوں میں چکر لگاتے غلاموں (جن میں قدرت اللہ شہاب جیسے بیوروکریٹس اور ”ڈیڈی“ بنانے و الے ذوالفقار علی بھٹو کی قبیل کے کچھ وزیروں) نے جناب صدر کو مکمل یقین دلایا تھا کہ ان کا عشرہ¿ حکومت کلیتاً لاثانی نوعیت کاہے اوریہ کہ اس عشرے کو دس سالہ خوشحالی وترقی کادور قرار دے کر ملک بھر میں جشن مناناچاہئے۔جونہی جشن شروع ہوا تو اس کے ساتھ ہی سننے والوں نے ایوب خان کی روانگی کی بجتی گھنٹی کی آواز بھی سن لی اورچند ہی ماہ کے دوران ایسا ہو بھی گیا۔
اس کے بعد ذوالفقارعلی بھٹو جیسا حسین وجمیل اورذہین وفطین انسان وزیراعظم بنا۔ پاکستان ہی نہیں‘ وہ دنیا بھر میں ایک کرشماتی طورپرمقبول شخصیت تھی۔ اپنے آپ پر چونکہ اسے بہت نازتھا‘ اس لئے فوراً ہی غلاموں اور کنیزوںکے مشوروں پر مخالفین کو ٹھکانے لگوا دیاتھا۔ ان کا ظلم بڑھا تو ہنگامے اوراحتجاج شروع ہوئے۔ ان کے ہنگام موصوف ٹیلی وژن پر آئے اورقوم کو ہاتھ مار کراپنی ”کرسی“ کے بہت ”مضبوط“ ہونے کااعلان کیا۔ دراصل ان کایہ اعلان ہی ان کی بدلی ہوئی ذہنیت پرغمازی کرتاتھا جس نے کہ نہ صرف انہیں اقتدار سے محروم کردیا بلکہ تختہ دار تک بھی چھوڑ کرآیا اور یہ حقیقت بہت پہلے ہی اہل نظر جان چکے تھے۔
تاریخ میں کچھ تھوڑا اور آگے آئیں تو ضیاءالحق صاحب کا دس گیارہ برس کا اقتدار آتاہے۔ وہ ایک نہایت ملنسار‘ حلیم اطبع اور منسکر المزاج حکمران تھے۔ دیکھنے والوں نے دیکھاکہ ایسا انسان بھی آٹھ نوبرس کے بعد غلام گردشوں کی سازشوں میں لپٹ چکاتھا۔ پاکستانی جانتے ہیں کہ ایک ایسا کامیاب حکمران جس نے بیک وقت اس وقت کی دوسپر پاورز کو دھول چٹا کررکھ دی تھی۔ اس کے علاوہ اس نے اپنی کرکٹ ڈپلومیسی اور سکھ کارڈ سے اندراگاندھی کوبھی گھما کر رکھ دیاتھا۔ بالآخر وہ اپنی ہی غلام گردشوں میں گھومتے خوشامدیوں کے ہتھے چڑھ چکاتھا اور ملکی اداروں کا ”قبلہ درست“ کرتے کرتے بہاولپور کے صحراﺅں میں گرکر خود اپنی سمت بھی کھوگیا۔
صدرضیاءالحق کے بعد باریاں بدل بدل کر زرداریوں اورشریفوں کے ادوار آتے ہیں۔ ان ادوار میں حکومت کدھر تھی ؟۔ ایسے نوچنے اور لوٹنے والوں کوبھی ان کی غلام گردشوں میں ”سب پربھاری“ اور ”قائداعظم ثانی “ہونے کایقین دلا کر رکھ دیا۔ ان دونوں نام نہاد جمہوری ادوار کے بیچوں بیچ کوئی عشرہ بھر جنرل پرویز مشرف کابھی آتاہے۔ ا ن کادور بھی اپنے جیسے فوجی پیشرﺅں کا تسلسل ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ یہ لوگ غلام گردشوں میں گھومنے والوں کےلئے ایک آسان ترین ”ترنوالہ“ ہوتے ہیں۔ ایک سادہ اور صاف ستھری بیک گراﺅنڈ کی وجہ سے وہ معمولی خوشامدی جال میں بڑی خوشی سے پھنس جاتے ہیں اورزیادہ پھڑکتے بھی نہیں۔ صدر پرویزمشرف کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ اس نے بارہ اکتوبر1999ءکوآتے ہی جو چھ نکاتی ایجنڈا قوم کے سامنے دیاتھا‘ چند ہی مہینوں میں خوشامدی سپیشلسٹوں نے اسے وہ مکمل بھلا کر رکھ دیا تھا۔ بالآخر ایک پنگ پانگ بال کی طرح وہ ایوان صدر سے مکارسیاست دانوں کے ہاتھوں رخصت ہوا اور اب اپنے ملک واپس آنے سے بھی محروم ہو چکاہے۔ اس مقام تک پہنچ کرہم یہ جان چکے ہیں کہ محلات‘ ان کی غلام گردشیں اور ان میں گھومنے والے اداکار اپنے کام کے اس قدر ماہر ہوتے ہیں کہ ان سے شاید ہی کوئی بچ جاتاہے۔
اب اس اقتدار اوروزارت عظمیٰ کی کرسی پر عمران خان بیٹھ چکا ہے۔ اس کے دورِ اقتدار کے متعلق کوئی لمبی چوڑی پیشین گوئی‘گوکہ ابھی ممکن نہیں‘ مگر کوئی چند ہفتے قبل اس نے بھی ایک ایسا بیان میڈیاپرآکر دیا کہ محسوس ہوتاہے کہ اس پربھی اقتدارکی غلام گردشیں اب حاوی ہوناشروع ہوچکی ہیں۔ لہٰذا جب ایسے انڈیکٹر(اشارے) ملناشروع ہو جائیں توسمجھ لو کہ صاحب اقتدار کادماغ اب تقریباً ماﺅف ہو چکاہے۔ اور ان حالات میں اہل نظر ودماغ آنے والے دنوں میں جھانک کر کوئی پیشین گوئی کربھی سکتے ہیں۔ پرویزمشرف کی بھل صفائی کی ذاتی نگرانی کے اندا ز میں عمران خان نے بھی میڈیا پرآکربیان داغا کہ وہ کرونا کی ”ایس اوپیز“ پرعمل درآمد کرانے کی ذاتی پرنگرانی کریں گے۔ آسان الفاظ میں اسے یوں بھی کہاجاسکتاہے کہ اب وہ وزارت عظمیٰ نہیں بلکہ ملک کے گلی کوچوں میں کرونا ایس اوپیز پرعملدرآمد کروائیں گے۔جوکہ عام طورپر نچلی ترین حکومتی سطح کے مختلف اداروں کے سپرد ہوتی ہے۔صاف ظاہرہے کہ جب کوئی وزیراعظم اس طرف جُت جائے گا تو وزارت عظمیٰ کے نارمل کام یہ خوشامدی غلام سنبھال لیںگے۔ ایسی سوچ کاپھر بالآخر کیا نتیجہ نکل سکتاہے‘اس کو جاننے کے لئے اسی کالم میں تاریخ کے کچھ حوالے لکھ دئیے گئے ہیں۔آخر میں سیرت عمر فاروقؓ سے ایک واقعہ۔
روائت ہے کہ ایک دن کوئی بالشت بھر لمبی زبان والا‘ مسجد نیوی میں امیرالمومنین حضرت عمرؓ کی تعریف وتوصیف میں زمین آسمان کے قلابے ملارہاتھا۔ آخر میں اس نے یہ بھی کہہ دیا کہ آپ رسول پاک کے بعد سب سے بہترین انسان اور حکمران ہیں۔ اس پر حضرت نعمانؓ بول اٹھے کہ نہیں۔ رسول اللہ کے بعد ابوبکرؓ ‘عمرؓ سے بہتر انسان تھے اوریہ کہ اے خوشامدی تم جھوٹ بول رہے ہو۔ اس پرفاروق اعظمؓ نے فوراً فرمایاکہ نعمان سچ کہتاہے۔ ”ابوبکرؓ تو کستوری وغیرہ سے بھی زیادہ خوشبودار اورپاک تھے۔ رہی میری بات تو میں تو اپنے گھر کے اونٹ سے بھی زیادہ بے راہ روہوں“۔ مگر ایسا فرق دیکھنے کےلئے فاروق اعظمؓ ساہی حوصلہ اورنظردرکار ہوتی ہے۔ جبکہ آجکل کے غلام گردشوں میں گھومنے والے تو اپنے اس کام کے ماہرین ہوتے ہیں۔ مگر پھر روشنی اورمنزل کاراستہ ہمیں بہرحال ادھر ہی سے تو لیناہوتاہے۔(ختم شد)
(کرنل ریٹائرڈ اور ضلع نارووال کے سابق ناظم ہیں)
٭….٭….٭



بشکریہ

جواب چھوڑیں