کرونا کا خوف….صرف خدا سے توبہ کریں

پیارے پڑھنے والے کل کے اخبار کی سپر لیڈ تھی جولائی اگست میں پاکستان میں 35 لاکھ کرونا کے مریض ہو جائیں گے اور ہلاکتوں کی تعداد بھی ناقابل یقین ہو گی۔ دنیا میں جہاں جہاں مالدار حکومتیں لوگوں کو گھر بٹھا کر ماہوار آمدنی کا 80 فیصد بطور گزارا الاﺅنس دے سکتی تھی وہاں وہاں لوگوں کو کم و بیش تین ماہ تک گھروں میں بند رکھا گیا۔ سوائے کھانے پینے کی چیزوں کی دکانیں، سٹور اور میڈیکل سٹور کھلے رہے اس میں کوئی شبہ نہیں کہ مکمل لاک ڈاﺅن والے شہروں اور ملکوں میں کرونا مریضوں کی تعداد کم ہونے لگی لیکن ہلاکتیں ابھی جاری ہیں ہمارے ہاں ایسا نہیں ہو سکتا کیونکہ حکومتوں کے پاس نہ اتنا سرمایہ ہے نہ پورے عوام کے انکم ٹیکس نیٹ پر موجود ہے اور جب جب جس جس حکومت نے ٹیکس نیٹ کو بڑھانے کی کوشش کی اسے منہ کی کھانی پڑی پاکستان کے بے شمار کھاتے پیتے لوگوں نے بھی ٹیکس نیٹ پر آنے سے انکار کر دیا لیکن جن ملکوں میں مکمل لاک ڈاﺅن ہوا اور مریضوں کی تعداد کم ہونے لگی حتیٰ کہ خاص مقامات پر لاک ڈاﺅن کھول دیا گیا اور جزوی طور پر بہت سے لوگوں کو باہر آنے کی اجازت مل گئی مگر اس کا کیا علاج کہ کرونا ہے کہ وہاں بھی اس کی لہر دوبارہ آنے کی خبریں مل رہی ہیں چین جہاں سے یہ شروع ہوا تھا وہاں بھی ووہان کے صوبے میں تو خبروں کے مطابق لاک ڈاﺅن نے اثر کیا مگر حال ہی میں چین کے دارالحکومت بیجنگ میں کرونا کی نئی لہر آ گئی ہے چین میں بھی بہت شور سنتے تھے کہ اس نے انجکشن ایجاد کر لیا ہے مگر کرلیا ہوتا تو دارالحکومت میں کرونا کیوں آتا پوری دنیا کی سماجی زندگی محدود ہو کر رہ گئی ہے آدمی کا آدمی سے ملنا مشکل ہے کاروبار بند ہیں جہاں کھولے تھے وہاں کرونا کی نئی لہر کے خوف سے پھر پابندیاں آ رہی ہیں پاکستان میں مکمل لاک ڈاﺅن ممکن نہیں اس لئے بڑے شہروں میں سمارٹ لاک ڈاﺅن یعنی جن علاقوں میں کرونا پھیلا ہے ان میں لاک ڈاﺅن شروع کر دیا گیا ہے ایک ہی شہر کی مختلف آبادیوں میں یہ سمارٹ لاک ڈاﺅن شروع ہے دیکھئے سمارٹ لاک ڈاﺅن بڑھ کر کہیں مکمل لاک ڈاﺅن نہ بن جائے اور لوگ جنہیں ہماری حکومتیں گھر بٹھا کر کھانے پینے کو نہیں دے سکتی وہاں لوگ بھارت کے لاک ڈاﺅن کی طرح بھوکے نہ مرنے لگیں گویا لاک ڈاﺅن کریں تو غریب ملکوں میں بھوک ہے اور فاقے ہیں اور نہ کریں تو کرونا ہے کہ پھیل رہا ہے مریض ہیں کہ بڑھ رہے ہیں اور ہلاکتیں ہیں کہ ان کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے کالج اور یونیورسٹی بند بے شمار کارخانے اور کاروبار بند لاک ڈاﺅن نہ سہی تو بگڑتی ہوئی معاشی حالت کو کون سنبھالے گا۔
پیارے پڑھنے والے کیا کریں کہاں جائیں کرونا کا نہ کوئی علاج نہ کوئی ویکسین کبھی کبھار خبر آ جاتی ہے کہ فلاں ملک میں فلاں دوا کچھ مریضوں پر کارگر ثابت ہوئی پھر تفصیلات سامنے آتی ہیں کہ نہیں صاحب یہ دوا بھی شافی علاج نہیں۔ میں کئی کالم لکھ چکا ہوں پہلا کالم ”اللہ کا عذاب“ تھا۔ یہ بھی لکھا کہ عمران خان صاحب ایک ہی دن اپنی اپنی جگہ اللہ سے توبہ کریں جو رحمن اور رحیم ہے لیکن حکومت نے یوم توبہ منانے کا کوئی اعلان نہیں کیا بس بیٹھی ہے اور دیکھ رہی ہے کہ کرونا کے مریض بڑھ رہے ہیں اور ہلاکتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ہمارے لئے سیاستدان چپ ہیں علما چپ ہیں۔ دانشور خاموش ہیں ڈاکٹر کبھی کبھار بولتے ہیں کہ مزید لاک ڈاﺅن کریں حکمران کہتے ہیں کیسے کریں لوگ گھروں میں بند رہے تو بھوکے مر جائیں گے اس لئے جو ہو رہا ہے چلنے دو گویا دوسرے لفظوں میں جو مرتا ہے اس کو مرنے دیں اخبار، موبائل، ٹی وی سے روزانہ خبریں آ رہی ہیں آج فلاں کی رحلت ہو گئی ،آج فلاں چل بسا اور ہم ایک دوسرے کے منہ کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ زیادہ سے زیادہ حکومتی اعلان ہیں ماسک کے بغیر آنا بند، دفتروں میں جانا بند، دکانیں کھولنا بند، دکان پر جانا بند، کس کس کو بند کرو گے بھائی بہت بے حس ہیں لوگ ابھی تک پلٹ کر خدا کی طرف نہیں لوٹے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ سنتا ہے اگر اس سے مانگو گنہگار سے گنہگار کی بھی سن لیتا ہے شہہ رگ سے قریب ہے کسی نے ایک بزرگ سے پوچھا کہ آسمانی آفت کے مقابلے میں خدا سے کیسے دعا مانگیں۔ انہوں نے کہا وہ رحمن اور رحیم ہے اس کے سامنے گڑ گڑاﺅ مسجدیں آدھی بند پڑی ہیں کہ 6 فٹ کا سماجی فاصلہ وہاں بھی لاگو ہے مگر کیا گھروں میں بھی اب لوگ خدا کے سامنے جھکنے لگے ہیں کیا الگ الگ بھی خدا کے حضور توبہ کرنے لگے ہیں۔ معاف کیجئے گا ہمارے اخبار ہمارے چینل، ہمارے موبائل ہمارا سوشل میڈیا تو اس کی گواہی نہیں دیتا۔ اللہ معاف کرے ایسے دردناک ماحول میں بھی صغیرہ ہوں یا کبیرہ گناہوں کی ریل پیل ہے اور یوں لگتا ہے کہ ہم نے ٹھان لیا ہے کہ پلٹ کر خدا کے سامنے توبہ نہیں کریں گے خواہ ایک ایک کر کے بیمار ہوتے جائیں پھر مرتے جائیں پوری سائنس، پوری میڈیکل سائنس ناکام ہو چکی چاند تک پہنچنے والا انسان اپنی دنیا میں ایک جرثومے کے سامنے بے بس ہے اور حکم خداوندی عجیب ہے کہ نیٹ کی دنیا سے 18 ملکوں کے نام چھپ چکے کہ وہاں کرونا نے ہلہ نہیں بولا اور لوگ اس سے محفوظ ہیں مگر جتنے بڑے ممالک تھے جتنے دولت مند تھے وہ جن کو اپنی طاقت پر ناز تھا وہ جو ساری دنیا کو دھمکاتے تھے اب خوف سے کانپ رہے ہیں۔ جائیں تو جائیں کہاں۔ دنیا کی بہت بڑی آبادی عملاً خدا کو مانتی ہی نہیں اور جو مانتے ہیں وہ احکام کی پابندی نہیں کرتے ۔دُنیا کی سب سے بڑی جمہوریت بھارت میں اللہ کو کوئی نہیں مانتا سوائے 20 کروڑ مسلمانوں کے جن کی مسجدوں پر آر ایس ایس کے غنڈوں کو بٹھانے کے لئے سپریم کورٹ میں درخواست پیش کر دی گئی ہے جیسی غریب کی تعداد دنیا میں سب سے زیادہ ہے مگر اب ہفتہ میں ایک دن بھی گرجا جانے والوں کی تعداد انتہائی کم رہ گئی ہے۔ مسلمانوں کی تعداد مسیحی دنیا کے بعد دوسرے نمبر پر ہے مگر دل پھٹے ہوئے اور نظریں جھکی ہوئی ہیں اسلامی امت کے الفاظ اب کوئی نہیں بولتا۔ ملت اسلامیہ باہمی جھگڑوں میں گم ہے اور اپنی حفاظت کے لئے کوئی کسی سپر پاور کے آگے اور کوئی دوسری سپر پااور کے آگے سجدہ ریز ہے تاریخ انسانی میں پہلی بار اس مرتبہ حج نہیں ہو گا کہ سعودی عرب نے بھی اس کی اجازت نہیں دی۔
پڑھنے والوں سے درخواست ہے کہ بھائی ہم گنہگار سہی ہم سے 100 غلطیاں سرزد ہوئی ہوں گی مگر ہیں تو ہم مسلمان اللہ کو ماننے والے اور روزِ جزا کو تسلیم کرنے والے ہمارے دین کے مطابق تویہ عارضی زندگی ہے مگر مرنے کے بعد حساب کتاب ہو گا اور قیامت کے دن کے بعد ہم اپنے گناہوں کے گٹھ کے ساتھ پل صراط سے گزریں گے حساب کتاب ہو چکا ہو گا جو مرنے کے بعد قبر ہی سے شروع ہو جائے گا جس میں نامہ اعمال برا ہو گا وہ پل صراط عبور نہیں کر سکے گا وہیں سے جہنم کے لپکتے ہوئے شعلوں میں گر پڑے گا یہی وہ دن ہو گا جس کی نوید قرآن پاک کی اس آیت میں ہے۔ ترجمہ: اے خدایا ہمیں دنیا میں اچھے کام کرنے کی توفیق دے اور آخرت میں بھی ہمیں اچھائی والی جگہ دے اور ہمیں جہنم کی آگ سے بچا یہ قرآنی دُعا شاید۔ ہم روزانہ پڑھتے ہوں مگرکتنوں کو یقین ہے کہ ایسا ہی ہونے والا ہے اور یہ اللہ کا عذاب ہے جس سے نجات صرف اللہ کے حکم سے ہی مل سکتی ہے۔
لہٰذا جھک جاﺅ‘ اللہ کے سامنے ہاتھ پھیلاﺅ ‘اس ہستی کے حضور جو ایک ہے‘ جو بے نیاز ہے‘ نہ کسی نے اس کو جنا اور نہ اس کی کوئی اولاد ہے اور یک و تنہا ہے اور ساری دنیا کا مالک ہے۔ حکومتیں کیوں چپ ہیں؟ ہاتھ میں چھوٹی سی تسبیح رکھنے والا عمران خان جو ساری دنیا دیکھ بھال کر دین کی طرف لوٹا ہے مگر پھر بھی اکیلے کرونا سے جنگ کرنا چاہتا ہے۔ بھائی عمران خان نیازی !کوئی اللہ کے عذاب سے بھی لڑ سکا؟ کیوں نہیں یوم توبہ کا اعلان کرتے ؟کیوں نہیں ساری قوم‘ امت مسلمہ ایک دن‘ ایک وقت‘ اپنے اپنے گھروں میں‘ مساجد میں اللہ کے حضور کیوں نہیں جھکتی ؟ریلیف ملنا ہے تو اس کی ذات سے‘ یہ ٹامک ٹوئیاں مت مارو‘ یہ ایس او پیز کسی کی جان بچا سکتے تو انسان کی جان لینے والے فرشتے عزرائیل کا کام کیوں جاری ہے؟ آپ دیکھ رہے ہیں کہ ارکان قومی اسمبلی میں سے بعض نے مطالبہ کیا کہ کرونا پر غور کیا جائے‘ غور کرنے کے لئے جس دن ارکان اسمبلی جمع ہوئے‘ صرف ایک روز ‘ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھنے سے ان میںسے کتنے تھے جن کو کرونا ہو گیا؟ امریکی صدر ٹرمپ نے کہا نومبر میں الیکشن ہے معلوم نہیں قوم مجھے منتخب کرتی ہے یا نہیں اپنے پہلے قومی جلسے میں اوکلو ہاما انتخابی تقریر کے لئے امریکی صدر پہنچے تو کرونا کے ڈر سے چند سو سے زیادہ لوگ جمع نہ ہوئے حالانکہ پچھلی بار اس کے ہر جلسے میں لاکھوں افراد جمع ہوتے تھے جن لوگوں کو اس جلسے کے انتظام کرنے کے لئے بھیجا گیا ان میں سے 6 افراد کو کرونا ہو گیا اب تم خدا کی کس کس آیت کو جھٹلاﺅ گے امریکہ میں کہا جا رہا ہے کہ کرونا کی دوسری لہر ستمبر اکتوبر میں آنے والی ہے کوریا میں کرونا سے صحت یاب ہونے والوں میں دوبارہ کرونا پھیل رہا ہے چین میں دارالحکومت بیجنگ اب کرونا کا گڑھ بن چکا ہے کرونا کی ویکسین بنانے کے دعوے اب ٹھس ہو چکے ہیں اس لئے جو شخص یہ سطریں پڑھ رہا ہے میری درخواست ہے کہ جتنے لوگوں کو وہ اس پیغام کو پہنچا سکے پہنچا دے میں سوشل میڈیا پر بھی اس کو اپ لوڈ کروں گا تا کہ لوگ پڑھ سکیں عمران خان ایک ہی دن یوم توبہ مناﺅ امت مسلمہ اپنی اپنی جگہ پر ایک ہی وقت میں اللہ کے حضور جھک جائے خدا کے لئے خدا سے اس آفت کی خاطر دعا مانگو توبہ کرو اس کے سامنے جھک جاﺅ اپنے آپ کو اس کے سامنے ڈال دو۔ اے اللہ تو گواہ رہنا کہ ہم تیرے عاجز بندے تجھ سے توبہ کرتے ہیں کہ ہمیں کرونا کے عذاب سے بچا۔ آمین!
٭٭٭



بشکریہ

جواب چھوڑیں