جدید ڈیجیٹل گیمز اور ایپس ۔ کیپیٹلزم کی خود حفاظتی کا نیا حربہ۔۔سعید ابراہیم

لالچ اور خود غرضی کیپٹلزم کی بنیاد کا درجہ رکھتے ہیں جس کا اظہار منافع پر مناپلی کی شکل میں ہوتا ہے۔ اس رویے کی سب سے بڑی زد انسان کے اس احساس پر پڑتی ہے جو انسانی اخلاقیات اور سماجی قوانین کی حقیقی بنیاد ہے۔ سرمایہ دار کیلئے اخلاقیات بھی ایک ڈسپوزیبل شے سے زیادہ کچھ نہیں ہوتے۔ اسے تو بس زیادہ سے زیادہ منافع چاہیے، وہ چاہے عریانی دکھا کر ملے یا برقعےکی فروخت سے۔

مذہب ہر دور میں عمومی طور پر استحصالی طبقوں کا موثر ترین ہتھیار رہا، مگر اب انفرمیشن کے سیلاب نے اس ہتھیار کی دھار کو بھی تیزی سے کُند کرنا شروع کردیا ہے۔ غور کیجیے تو مذہب علم اور دلائل کے میدان میں آج جتنا دفاعی پوزیشن میں ہے اس سے پہلے کبھی نہیں تھا۔ لگتا یہی ہے کہ مذہبی کتب جلد ہی آرکائیو میں بدل جائیں گی اور مذہب کے نفاذ کا مطالبہ قصہء پارینہ بن جائے گا۔

عین ممکن ہے کہ مذہب سے جذباتی لگاؤ رکھنے والوں کے لیے یہ بات بالکل قابلِ یقین نہ ہو مگر تجرباتی سائنس کے وجود میں آنے کے بعد کے حالات یہ بات عملی طور پر ثابت کرتے چلے آرہے ہیں کہ مذہب جدید انکشافات کے سامنے خود کو ایک موثر اور مثبت حقیقت کے طور پر منوانے میں ناکام ہوتا جارہا ہے۔ گو جدید مذہبی سکالرز نے(جو کہ سائنسی انکشافات کی سچائی کے موثر ہونےکا قدرےبہتر ادراک رکھتے ہیں) اب یہ طریقہ اختیار کیا ہے کہ سائنس کو مذہب مخالف ثابت کرنے کی بجائے اس کے منکشف کردہ حقائق کو بذاتِ خود مذہب کی حقانیت کے ثبوت کے طور پر پیش کیا جائے۔ غور کریں تو یہ طریقہ خود مذہبی عقائد کی کایا کلپ کرکے رکھ دے گا اور لوگ لاشعوری طور پر روائتی مذہبی سوچ اور طرزِ زندگی سے لاتعلق ہوتے چلے جائیں گے، جیسا کہ مغرب میں بہت حد تک ہوچکا۔

ایک بات سمجھنے والی ہے کہ سرمایہ داری کو سب سے زیادہ خطرہ خود اپنے پیدا کردہ علم اور معلومات سے ہی ہے۔ اسے یہ خدشہ لاحق ہے کہ اس علم اور معلومات کی مدد سے محروم طبقات میں کوئی ایسی تحریک پیدا نہ ہو جائے جو اس کے استحصالی حربوں کو ہی ننگا کردے۔ مگر یہ سرمایہ دار اتنا عیار ہے کہ اس نے ایسی صورت پیدا ہونے سے پہلے ہی اس سے محفوظ رہنے کا انتظام کرلیا ہے۔

چونکہ وہ جانتا ہے کہ جدید نظام کی پیدا کردہ معلومات نے بہت جلد اس مذہب کو نیم مردہ وجود میں بدل دینا ہے جو ابھی تک اس کا سب سے موثر ہتھیار تھا، سو اب اس نے ایک نیا ہتھیار تخلیق کرکے اسے لوگوں میں مقبول بنانا بھی شروع کردیا ہے۔ یہ ہتھیار ایک ایسا زود اثر وائرس ہے جو براہِ راست ذہن پہ حملہ آور ہوکر لمحوں میں فرد کی کایا کلپ کردیتا ہے۔ یہ وائرس فزیکل نہیں بلکہ ڈیجیٹل ہے۔

جب تک ممکن ہوسکا سرمایہ داری ذہن نے محروم طبقات کو مذہب کا اسیر بنا کر اپنے استحصالی حربوں اور اس کے پیچھے موجود لالچ اور خودغرضی کو یوں ملفوف رکھا کہ وہ بے چارے اسے قسمت کا لکھا سمجھ کر بخوشی برداشت کرتے رہے۔ غور کریں تو اس معاملے میں تصوفانہ تصورات نےبھی اس کی بہت مدد کی کیونکہ تصوف فرد کو داخلیت کی ایسی کیفیت میں لے جاتا ہے کہ اس کے کسی سیاسی تحریک کا حصہ بننے کے امکانات تقریباً ختم ہوجاتے ہیں۔

روایتی تعلیم یافتہ اور مذہب سے جذباتی رشتہ رکھنے والی بوڑھی یا ادھیڑ عمر نسل تو جلد نایاب ہونے کو ہے جبکہ اصل ضرورت جدید تعلیم یافتہ نوجوانوں کو ہینڈل کرنے کی ہے جن سے بجا طور پر خطرہ ہوسکتا ہے کہ وہ کہیں تنقیدی نظر کی حامل نہ ہوجائے۔ اس خطرے سے بچنے کا ایک راستہ تو یہ ہے کہ اسے اپنے ہی لوگوں کے ساتھ مقابلے میں الجھا دیا جائے۔ اگرچہ یہ حربہ تو بے حد پرانا ہے مگر اب اسے اتنا پرکشش بنا کر پیش کیا جارہا ہے اس میں چھپی خودغرضی کامیاب ہوجانے والے فرد کے ضمیر پر بالکل کوئی بوجھ نہیں ڈالتی بلکہ وہ الٹا اس بات پر فخر محسوس کرتا ہے کہ اس نے انسانوں کی ایک بڑی تعداد کو ناکام بنا کر یہ کامیابی حاصل کی ہے۔

میں نے اوپر جس ڈیجیٹل وائرس کی بات کی وہ سمارٹ فونز کے ذریعے پھیلایا جارہا ہے۔ اس وائرس کا بنیادی اثر یہ ہے کہ فرد کو بے معنویت کے ایسے دائرے میں دھکیل دیتا ہے کہ جہاں اس کے رویے سراسر جبلی اور انارکیت پسند ہوتے چلےجاتے ہیں۔ وہ کسی کو اس بات کی اجازت دینے کا روادار نہیں ہوتا کہ وہ اسے کوئی مشورہ دے سکے بھلے وہ مشورہ اس کی زندگی کے لیے کتنا ہی اہم کیوں نہ ہو۔ دوسرے لفظوں میں وہ ہر بات کو بنا دلیل کے رد کرنے پر تُل جاتا ہے۔ وہ اپنی زندگی میں در آنے والی لغویت، بے معنویت اور خود غرضی کو ہی سب سے بڑی سچائی منوانے پر مصر ہوجاتا ہے۔ اس کا مطالبہ صرف اتنا ہے کہ اسے اس مزے میں ڈوبا رہنے دیا جائے بھلے اس کا کوئی مطلب ہو یا نہ ہو۔ یہ وہ مزا ہے جو نہ صرف اسے تیزی سے کسی بھی طرح کی مثبت معنویت،تخلیقی تجربے اور اس کے لطف سے بیگانہ کیے جارہا ہے بلکہ وہ اجتماعیت سے بھی لاپرواہ ہوتا جارہا ہے۔

یہ ڈیجیٹل وائرس مختلف طرح کی گیمز اور ایپس کی صورت پھیلایا جارہا ہے، جیسے کہ پب جی،فورٹ نائٹ، ٹک ٹاک، بِگو لائیو وغیرہ۔ یہ گیمز اور ایپس براہِ راست بچوں اور بڑوں کی تشدد اور سیکس کی جبلت کو انگیخت کرتی ہیں اور دیکھنے والوں کو اس شدت سے انگیج کرلیتی ہیں کہ ان کا زندگی کے حقیقی معاملات سے رشتہ نہ ہونے کے برابر رہ جاتا ہے۔ غور کریں تو سرمایہ دار کی سب سے بڑی خواہش ہی یہ ہے کہ عوام کی عظیم اکثریت کو محض کنزیومر بنا کر رکھ دے تاکہ ہر فرد اپنی جبلتوں کا اسیر بن کر رہ جائے اور تعلیم کا مقصد محض اتنا ہو کہ وہ سرمایہ داری کے مشینی نظام کے لیے بخوشی ایک پرزہ بننا قبول کر لے۔





بشکریہ

جواب چھوڑیں