کہانی: وجود کہانی کار: پی رومانوف مترجم: ل۔احمد …

کہانی: وجود
کہانی کار: پی رومانوف
مترجم: ل۔احمد

یک طرفہ احوال سن کر رائے قائم کر لینا جہالت ہے۔ تعلیم و تہذیب کے مدعی اِس جہالت سے آلودہ ہوں تو اُسے خباثت ہی کہنا چاہیے۔ کسی کے بارے میں کوئی بُری بات سن کر رائے قائم کر لینے کے پیچھے ان لوگوں کی اپنی سطحی اُفتادِ طبع کار فرما ہوتی ہے۔ اج کی تہذیب میں دوسروں کے عیوب تلاش کرنے، کیڑے ڈالنے کی بیماری وبا کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ تم جو اصل میں نہیں ہو، وہ نظر آو۔ اس کوشش میں یہاں کون مبتلا نہیں ہے۔ جو شخص فطرت جھٹلاتا ہو، وہ کسے نا جھٹلائے گا۔

سب رنگ کہانیاں صفحہ 332، 333 سے اقتباس


بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2808457129384802

جواب چھوڑیں