ڈاکٹر مغیث اے شیخ بھی ہم سے بچھڑ گئے….

میاںغفاراحمد
میرے انتہائی محترم استاد پروفیسر ڈاکٹر مغیث الدین شیخ ہم سے ہمیشہ کے لئے بچھڑ گئے۔ 1986ءمیں پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ ابلاغیات کے طالب علم کی حیثیت سے پروفیسر ڈاکٹر مغیث الدین شیخ جنہیں عرف عام میں قاری صاحب بھی کہا جاتا تھا، ان سے میرا احترام کا رشتہ تو تھا ہی مگر ان کی شخصیت سے میری بھرپور آشنائی کچھ اس طرح ہوئی کہ مجھے یونیورسٹی کے کسی دوسرے شعبے میں کوئی کام تھا جو ہو نہیں رہا تھا اور کام کیا تھا باوجود کوشش یاد نہیں آرہا ہے۔ اپنے کمرے سے نکل کر برآمدے میں تیزقدموں کے ساتھ چیئرمین شعبہ ابلاغیات ڈاکٹر مسکین علی حجازی کے کمرے کی طرف جاتے ہوئے میں نے ڈاکٹر صاحب کو روکا اور انہیں اپنے کام کے حوالے سے مدد کی درخواست کی۔ ڈاکٹر مغیث ایک لمحے کیلئے رکے میری طرف شرارتی نظروں سے دیکھا اور ایک شعر سنا کر روانہ ہوگئے۔ مجھے شعر تو من وعن شاید یاد نہیں لیکن تھا کچھ یوں
تمام عمر سہارے تلاش کرتے رہے
تمام عمر سہارے فریب دیتے رہے
چند قدم چل کر وہ رکے اور پیچھے مڑ کر میری طرف دیکھا اور کہنے لگے بات سمجھ آئی۔ میں نے نفی میں سر ہلایا تو انہوں نے مشہور پنجابی کے مزاحیہ شاعر بابا عبیر ابوذری کا ایک پنجابی شعر سنا دیا۔
اپنے من وچ آپ جھاتی پا عبیر
کہڑی شے دا نہیں خزانہ دل دے وچ
اور پھر گویا ہوئے سہارے ڈھونڈنے چھوڑو اپنے آپ کو پہچانو، پختہ قدموں سے جاﺅ تمہارا کام ہو جائے گا۔ ڈیڑھ دو منٹ کے وقفے میں پروفیسر ڈاکٹر مغیث الدین شیخ مجھے زندگی کا سب سے بڑا سبق دے کر ڈاکٹر حجازی کے کمرے میں داخل ہو چکے تھے اور میں گم سم وہیں کھڑا ان کے الفاظ اور ان کے سنائے گئے اشعار میں مکمل طور پر کھو چکا تھا۔
ڈاکٹر صاحب کا دیا ہوا یہ سبق میرے لئے زندگی بھر کارآمد رہا۔ درس و تدریس ڈاکٹر صاحب کو ورثے میں ملی، لاہور کے علاقے دھرم پورہ جسے آجکل مصطفی آباد کہا جاتا ہے ان کا آبائی علاقہ تھا جہاں ان کی والدہ علاقے کی بچیوں کو فی سبیل اللہ قرآن مجید پڑھایا کرتی تھیں اور یقینا اسی کا صدقہ ہے کہ پروفیسر ڈاکٹر مغیث الدین شیخ نے ساری زندگی درس و تدریس، رہنمائی، حب الوطنی اور حب دین میں گزار دی۔ عالم شباب ہی سے وہ پنجگانہ نماز کے پابند تھے۔ میں نے اپنی زندگی میں پہلی مرتبہ لفظ گلوبل ویلج ڈاکٹر صاحب کے منہ سے سنا۔ ڈاکٹر صاحب امریکہ سے ڈاکٹریٹ کرکے آئے تھے۔ صحافت کے جدید اصولوں سے ہمیں ڈاکٹر صاحب نے ہی متعارف کرایا ورنہ ہم تو فن صحافت اور داستان صحافت کے گرداب میں ہی الجھے ہوئے تھے۔
ڈاکٹر صاحب نے ہمیں انٹرنیشنل جرنلزم اور قوانین صحافت، صحافتی اخلاقیات کے بارے میں جو کچھ بتایا وہ آج بھی ذہن میں محفوظ ہے۔ اس وقت الیکٹرانک میڈیا آج کی طرح عام نہیں تھا اور مجھے ان کی خبر بنانے کی تکنیک کے حوالے سے ایک بات کبھی نہیں بھولتی، کہا کرتے تھے لکھو وہ جو تمہارے گھر میں تمہاری مائیں، بہنیں پڑھ سکیں، گویا صحافتی اخلاقیات کا پھیلاﺅ انہوں نے کوزے میں بند کردیا اور میں زندگی بھر خبر بناتے وقت اسی ایک جملے کو اپنے سامنے رکھ کر لکھتا رہا۔ ایک روز میں اور نوید احسن جرنلزم ڈیپارٹمنٹ گئے تو ڈاکٹر مغیث صاحب ابھی نہیں پہنچے تھے، گاڑی نکالی اور اسلامک سٹڈیز ڈیپارٹمنٹ میں ان کے گھر پہنچ گئے۔ ڈاکٹر صاحب نے ہنستے ہوئے دروازہ کھولا، ڈرائنگ روم میں بٹھا کر کہنے لگے، میری فیملی سسرال گئی ہوئی ہے میں ناشتہ بنا رہا ہوں آپ کیلئے چائے بناتا ہوں، ہم نے کہا کہ سر ناشتہ تو ہم نے بھی نہیں کیا، ڈاکٹر صاحب ہنسنے لگے تھوڑی دیر میں چائے، سلائس اور آملیٹ سے بھری پلیٹ لیکر ڈرائنگ روم میں آگئے انتہائی محبت سے ہمیں ناشتہ کرایا۔ جب ہم نے اسائیمنٹ چیک کرانے کی بات کی تو کہنے لگے یہ کام ڈیپارٹمنٹ سے متعلقہ ہے ناشتہ کرو اور ڈیپارٹمنٹ پہنچو اور کمال شفقت سے ہمیں روانہ کردیا۔
بات یہیں پر ختم نہیں ہوتی ڈیپارٹمنٹ آکر پروفیسر ڈاکٹر مجاہد منصوری اور ڈاکٹر اے آر خالد کی موجودگی میں کہنے لگے کہ لوجی اب پروفیسرز کی یہ ذمہ داری بھی ہوگئی ہے کہ شاگردوں کو ناشتہ بھی کرائیں۔
ڈاکٹر صاحب کی شفقت کا یہ عالم تھا کہ اعلیٰ تعلیم کیلئے امریکہ گئے تو وہاں جا کر بھی مجھے نہ بھولے، ان کا مہینے میں ایک دو مرتبہ صبح صبح امریکہ سے فون آتا، کافی دیر گپ شپ لگاتے پھر اچانک یہ کہتے ہوئے ہنس کر فون بند کر دیتے تمہارے جیسے فضول آدمی پر میں نے کئی ڈالر کی کال ضائع کردی ہے اور دس پندرہ دن کے وقفے سے پھر مجھ پر ڈالر ضائع ہونا شروع ہو جاتے۔ گویا سات سمندر پار بھی ان کی شفقت کا سایہ میرے سر پر رہا۔
ڈاکٹر صاحب کا اکیلا میں ہی شاگرد نہیں چھوٹی بہن ڈاکٹر نوشینہ جو آجکل اسی عہدے پر چیئرپرسن شعبہ ابلاغیات ہیں جہاں کبھی مرحوم ڈاکٹر استاد مکرم بیٹھا کرتے تھے گویا وہ میرے ہی نہیں میری ایک پوری نسل کے استاد تھے۔ ڈاکٹر صاحب ایسا چراغ تھے جو تاقیامت ہزاروں چراغوں کو روشن کرتا رہے گا اور جو علم کی شمع انہوں نے جلائی وہ تو ان کی زندگی میں ہی دنیا بھر میں پھیل چکی تھی اب تو جس علم کی وہ داغ بیل ڈال گئے اس کی آبیاری تاقیامت جاری رہے گی۔ ان کی شفقت کے تو درجنوں اور سینکڑوں قصے ہیں جن میں بطور خاص ایک واقعہ مجھے نہیں بھولتا، میری 6سالہ بھانجی ایک ٹریفک حادثے میں شدید زخمی ہوگئی، چہرے اور سر پر چوٹیں آئیں، اسے لیکر شیخ زاید ہسپتال لاہور پہنچے تو وہاں پھل لیکر پہنچنے والوں میں پہلے شخص ڈاکٹر مغیث الدین شیخ تھے، کہنے لگے آپ کا گھر دور ہے ناشتہ، یخنی، کھانا سب کچھ میرے گھر سے آئے گا اور پھر اگلی صبح ڈاکٹر صاحب دوبارہ خیریت معلوم کرنے آئے تاہم اسی شام ڈاکٹروں نے میری بھانجی کو علاج کرکے چھٹی دے دی۔ آج وہ میڈیکل کی طالبہ ہے۔
ہنستا چہرہ، سرخ چمکتی گاڑی، نفیس لباس، خوبصورت عینک، ہاتھ میں بریف کیس، ہر وقت علم و ادب کی باتیں، نصیحتوں کا انبار، مردم شناس، قدم تیزرفتار اور گفتگو میں تسلسل اور روانی جیسے پانی کی مسلسل بہتی ہوئی لہریں۔ یہ تھے ڈاکٹر صاحب
پروفیسر ڈاکٹر مغیث الدین کی موت ایک شخص کی تو موت ہو سکتی ہے مگر ان کا پھیلایا ہوا علم تاقیامت زندہ رہے گا۔ ڈاکٹر صاحب پہلے آپ دل میں بستے تھے آج کے بعد آپ دعاﺅں میں بھی شامل ہوگئے ہیں۔
سلیوٹ ٹو یو……..ڈاکٹر صاحب….!
(کالم نگار سیاسی و سماجی مسائل پر لکھتے ہیں)
٭….٭….٭



بشکریہ

جواب چھوڑیں