اردو قارئین کے لئے ہندی شاعرہ روپم مشر کی ایک اور …

اردو قارئین کے لئے ہندی شاعرہ روپم مشر کی ایک اور نظم پیش ہے
ہندی نظم : یہ لڑکیاں بَتُھوا کی طرح اُگی تھیں
مُترجّم: آفتاب احمد ، ہندی۔اردو لکچرر ، کولمبیا یونیورسٹی، نیو یارک

یہ لڑکیاں بَتُھوا کی طرح اُگی تھیں!
شاعرہ: روپم مشر

جیسے گیہوں کے ساتھ بَتھُوا
بِن بوئے ہی اُگ آتا ہے
ٹھیک اسی طرح کچھ گھروں میں بیٹیاں
بیٹوں کی چاہ میں اَن چاہے ہی آجاتی ہیں

درد میں پِروئی یادوں کی مالا
پہن کر یہ مسکراتی رہیں!
خود کو گھاس پھونس مان کر، یہ اشتیاق سے گِناتی رہیں کہ
بھائی کے جنم پر ــــــ کیا جشن ہوا!

اور ناز سے بتاتیں کہ کتنے نازوں سے پلا ہے
ہم جَل کُھمبیوں کے بیچ میں یہ سُنہرا کَنول

بِنا کسی جلن کے یہ مگَن رہیں
اپنے گھر والوں کی اِس ہُنرمندی پر کہ
کیسے ایک ہی کوکھ سے۔۔۔ ایک ہی خُون سے
اور ایک ہی
چہرے مُہرے کے بچوں کی پرورش میں
دن رات کا فرق رکھا گیا!

سماج کی لُغت میں دُکھ کے کچھ واضح مُترادفات تھے!
جن میں صرف مناسب دکُھوں کو رکھا گیا
اِس دُکھ کو پدر شاہی دانشوروں نے ٹھوس نہیں مانا!

بلکہ جس بیٹی کی پیٹھ پر بیٹا پیدا ہُوا
اُس پیٹھ کو گھی سے پوت دیا گیا
اِس طرح اُس بیٹی کو بھاگیہ وان کہہ کر مان دے دیا !

لَلّا کو دُلارتی دادی اور ماں
لَلّا کی کٹوری میں بچا دودھ بتاشا اِسے ہی تھماتیں!

جیسے گیہوں کے ساتھ بتھوا بھی خود بخود سینچ اٹھتا ہے!
پیاس گیہوں کی ہی دیکھی جاتی ہے
پر اپنے نصیب پر اِتراتی
یہ لڑکیاں کبھی دیکھ ہی نہیں پائیں کہ
بھوک ہمیشہ لَلّا کی ہی مٹائی گئی!

تم بتھوے کی طرح ان کے لَلّا کے پاس اُگتی رہیں
تو تمھیں فوراً کہاں اُ کھاڑ کر پھینکا جاتا!؟
اس لیے دبی ہی رہنا، زیادہ چھتنار ہو کر
باڑھ نہ مار دینا! اُن کے لاڈلے کا !

جو ڈھیروں منتّوں اور پیروں فقیروں کی اَنتھک دعاؤں کا پھل ہے!

بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2807548459475669

جواب چھوڑیں