.کرونا: تعلیمی نقصان، نسلوں کا نقصان۔۔ڈاکٹر عبدالواجد خان

قارئین یقیناً کووڈ 19نے زندگی کے تمام شعبوں کو ہی متاثرکیا ہے لیکن میں سمجھتاہوں کہ اس وباء کے باعث ایجو کیشن سیکٹر میں پیدا ہو نے والی بحرانی صورت حال سے دنیا کو سب سے زیادہ نقصان ہونے جا رہا ہے ۔ یہ بات حقیقت ہے کہ تمام متاثرہ ممالک کی معیشتیں وینٹی لیٹرز پر چلی گئی ہیں اور دنیا کو شدید معاشی بحران اور بے روزگاری کے طوفان کا سامنا ہے۔ لیکن میرے نز دیک اس سے زیادہ بڑی تلخ حقیقت یہ ہے کہ اگر مناسب اقدامات نہ کئے گئے تو تعلیمی اداروں کی بند ش سے دنیا کو جو ہمہ جہت سماجی، ذہنی ، فکری ، نفسیاتی و معاشرتی نقصان ہو نے جارہا ہے وہ بہت دور رس ہو گا اوراس کا ازالہ کر نا مشکل ہو گا۔کیوں کہ معاشی بحران پر تو قابو پایا جا سکتا ہے لیکن طلبہ و طالبات کے تعلیم و تربیت کے اس قیمتی وقت کو واپس لانا ممکن نہیں ہوگا۔

ترقی پذیر و غیر ترقی یافتہ ممالک اس بحران سے زیادہ متاثر ہو نگے۔اور اگر یہ تعلیمی تعطل طویل عرصے تک جار ی رہتا ہے تو پاکستان جیسے ممالک جہا ں پہلے ہی تعلیمی صورتحال دگرگوں ہے یہ بحران ان کے تعلیمی نظام اور معیارتعلیم کیلئے تباہ کن ہو سکتا ہے ۔اسی پہلو کوپیش نظر رکھ کر ورلڈ بینک اس تعلیمی بحران سے نمٹنے کیلئے مختلف ممالک کی وزارت تعلیم سے رابطے میں ہے اورباہمی اشتراک سے متبادل نظام تعلیم کو اپنانے میں مدد دے رہا ہے ۔

یونیسکو کی رپورٹ کے مطابق دنیا کے 165ممالک کے 87 فیصد طلبہ و طالبات کرونا کووڈ 19 کی وجہ سے تعلیمی اداروں کی بند ش کا سامنا کر رہے ہیں ۔طلبہ و طالبات کی یہ تعداد تقریباً 150کروڑ بنتی ہے جبکہ پاکستان میں متاثرہ طلبہ و طالبات کی مجموعی تعداد 4 کروڑ 68 لاکھ 34 ہزار ہے۔

پاکستانی حکومت نے کرونا کووڈ کے پھیلاو کو روکنے کیلئے جہا ں دیگر اقدامات کئے وہیں تمام تعلیمی اداروں کو بھی بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔یہ بند ش تا حال 15جولائی تک جاری رہے گی ۔مو جودہ صورتحال کے باعث میٹر ک اور انٹر کے امتحان کے بغیر طلبہ و طالبات کو پرو مو ٹ کیاجارہا ہے اور کالجز اور یونیورسٹیز میں داخلے 9 ویں اور 11ویں کلاس کے نتائج کی بنیاد پر دیئے جائیں گے۔ مجبوری میں کیا جانے والا یہ فیصلہ یقینا ً خوش آئند نہیں۔لیکن موجودہ حالات میں اس کے علاوہ کوئی اور چارہ نہیں۔جبکہ یونیورسٹیز کو ہائرایجوکیشن کمیشن کی ہدایت کے مطابق اپنے فیصلے کرنے کا اختیار دیا گیا ہے ۔

پاکستان میں اس وقت 187پبلک و پرائیوٹ یونیورسٹیز قائم ہیں جن میں تقریباً ڈھائی لاکھ طلبہ و طالبات زیر تعلیم ہیں اورتقریباً 40 ہزار فیکلٹی ممبران خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ ہائر ایجو کیشن کمیشن نے اس صورتحال میں جہاں اس وباء کے پھیلاو کوروکنے کیلئے حکومت کا ساتھ تعاون کرنے کا اعلان کیا وہیں طلبہ و طالبات کے تعلیمی نقصان کو کم از کم کرنے کیلئے متبادل تدریسی نظام کو اپنانے کا فیصلہ کیا جس کے نتیجے میں ملک کی مختلف یونیورسٹیز میں آن لائن کلاسز کا آغاز کر دیا گیا ۔جس میں اسلامیہ یونیو سٹی بہاولپور نے لیڈ لی اور اپر یل کے آغاز سے ہی لرننگ مینجمنٹ سسٹم کے تحت تدریس کا آغاز کر دیا ۔

اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے اس اقدام کو ہائر ایجوکیشن کمیشن اور ملک بھر میں سراہا گیا اور کئی یونیورسٹیز نے اس کے ماڈل کو اپنانے کا فیصلہ کیا۔اور اب اسلامیہ یونیورسٹی سمیت تمام یونیورسٹیاں اور پروفیشنل کالجز آن لائن امتحانات منعقد کرانے جارہے رہے ہیں۔ تاہم یہ بھی ایک حقیقت کہ اس وقت پاکستان میں انٹرنیٹ کی رسائی صر ف 36.8 فیصدافراد تک ہے۔ جس کی وجہ سے طلبہ و طالبات کی بڑی تعداد آن لائن ایجو کیشن میں شامل نہیں ہو پارہی اورخاص طور پر دور دراز علاقوں میں رہنے والے طلبہ و طالبات کو آن لائن کلاسز میں مشکلات پیش آرہی ہیں ۔

پاکستان میں آن لائن فل ٹائم تدریسی کلچر نہ ہونے کی وجہ سے اساتذہ کو بھی آن کلا سز لینے میں دشواری پیش آرہی ہے جس پر ٹریننگ سے قابو پایا جارہا ہے ۔اس حوالے سے اگر ہم چین کی مثال کو سامنے رکھیں تو یہ معلوم ہو تا ہے کہ چین نے جہاں کا میابی سے کو وڈ 19 کی وبا ء پر قابو پایا ہے وہیں چین نے اس صورتحا ل میں مو ثر اقدامات کرکے اپنے تعلیمی نظام کو بھی بچا لیا ہے ۔چین کی وزارت تعلیم نے آغازسےہی پرائمری اور سیکنڈ ری سطح کے 200 ملین طالب علموں کیلئے نئے سمسٹر کی آن لائن کلاسز کا آغاز کر دیا۔

چینی منسٹری آف ایجو کیشن نے تمام ایجو کیشن سروس فراہم کرنے والی سروسز کو اپنی Bandwidth کو اپ گریڈ کرنے اور تمام ٹیلی کام سروسز کو انٹرنیٹ کی رسائی کو تمام ملک اور خاص طور پر دور دراز کے علا قوں تک پھیلانے اور بہتر بنانے کی ہدایت کی تاکہ آن لائن کلاسز جاری رہ سکیں ۔ یونیورسٹی کے طلبہ و طالبات کیلئے 2400 سے زائد کورسز بنائے گے اور ان کی طلبہ و طالبات تک کی فراہمی کو یقینی بنایا گیا۔

پرائمری اور سیکنڈ ری سطح کے طلبہ و طالبات کیلئے توثیق شدہ 22 آن لائن مصنوعی ذہانت کے حامل آن لائن کور سز پلیٹ فارمز متعارف کروائے جن میں فری آن لائن کورسز حاصل کرنے کی سہولت مہیا کی گئی  ۔اس کے علاوہ آن لائن سٹریمنگ اور MOOCs کے ذریعے اساتذہ کو آن لان تدریس کیلئے ٹریننگ دی گئی ۔ چین نے غریب طلبہ و طالبات کو آن لائن کلاسز کیلئے مفت کمپیوٹر ، موبائل ڈیٹا پیکیج اور ٹیلی کمیونیکیشن سبسڈیز فراہم کیں اور آن لائن سکیورٹی کو محفوظ بنایا گیا ۔

پاکستان میں ہائر ایجو کیشن کمیشن نے چین کے ان اقدامات کو پیش نظر رکھ کر ان پر عملد آمدکرنے کا اعلان کیا ہے جو کہ خوش آئند ہے یہ اقدامات غریب اور دوردراز رہنے والے طلبہ وطالبات کیلئے آن لائن کلاسز میں شامل ہونے کیلئے مدد گار ہوں گے۔ پاکستان کے تعلیمی نظام کیلئے کووڈ 19 کا یہ بحران ایک ٹیسٹ ہے اور اس چیلنج سے سیکھ کر ہم تعلیم کے میدان میں بہتری کی طرف جا سکتے ہیں۔

اس مقصد کیلئے ہمیں اپنے تعلیمی نظام کو جدید رجحانات اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنا ہو گا ۔اور آن لائن کلاسز میں آنے والے مو جودہ مسائل کے حل کیلئے ٹیلی کام کمپنیز کا تعاون حاصل کر کے چین کی طرح دوردراز علاقوں تک انٹر نیٹ کی سہولت کو بہتر بنانا ہو گا ۔ تعلیمی ادارے ڈیجیٹل نیٹ ور کس کے اشتراک سے ڈیجیٹل ایجو کیشن چینل بنا سکتے ہیں۔کیبل نیٹ ورکس پر کلاسز لی جاسکتی ہیں۔وفاقی حکومت نے پی ٹی وی سے سکول اور کالجوں کے طلبہ و طالبات کیلئے ورچوئل کلاسز کا آ غاز کیا ہے جو کہ بچوں کے ساتھ تعلیم بالغاں کا کام بھی دے سکتا ہے لہذا اسے مستقبل میں نارمل حالات میں بھی جاری رہنا چاہیے۔

کرونا کو وڈ 19دنیا بھر میں تعلیم و تدریس اور سیکھنے کے طریقوں میں بڑی تبدیلیاں لانے جا رہا ہے ۔پاکستان کے پاس یہ مو قع ہے کہ وہ اپنے نظام تعلیم کوجدید ضروریات کے مطابق ڈھال کر ڈیجیٹلائزڈ کر لے تاکہ آئندہ اس قسم کی کسی بھی صورت حال سے باآسانی نپٹا جا سکے اور مستقبل کے لیے پاکستان کو ہر شعبے میں جدید مہارتوں سے لیس بہتر قیادت فراہم کی جاسکے.




بشکریہ

جواب چھوڑیں