=== میں پھر بھی طلوع ہوں گی === شاعرہ: مایا اینجل…

=== میں پھر بھی طلوع ہوں گی ===
شاعرہ: مایا اینجلو
مترجم: ناہیدؔ ورک
***************

تم تاریخ کے اوراق میں میری شخصیت
مسخ کر کے لکھ سکتے ہو
اپنے تلخ اور من گھڑت جھوٹوں کے ساتھ،
تم میرا وجود پامال کر کے مٹی میں رول سکتے ہو
مگر میں پھر بھی، (چہار سُو پھیلتے) مٹی کے غبار کی طرح اُبھروں گی۔

کیا میری خوداعتمادی تمہیں پریشان کرتی ہے؟
کیوں تم اداسی میں گِھرے ہوئے ہو؟
کیا اس لیے کہ میں فخر سے سر اُٹھا کر یوں چلتی ہوں
جیسے میری دسترس میں تیل کے کنویں ہوں۔

بالکل چاند اور سورج کے وجود کی طرح
پُر یقین لہروں کے ساتھ
بالکل اُن اُمیدوں کی طرح
جو پوری آب و تاب کے ساتھ پھلتی پھولتی ہیں،
میں پھر بھی طلوع ہوں گی۔

کیا تم مجھے شکست زدہ دیکھنا چاہتے تھے؟
جھکے سر اور جُھکی آنکھوں کے ساتھ؟
آنسوؤں کے قطروں کی طرح گرتے ہوئے نڈھال کندھوں کے ساتھ،
اپنی دلخراش آہوں، چیخوں سے کمزور پڑتی ہوئی؟

کیا میری خوداعتمادی تمہیں ڈراتی ہے؟
کیا میری شخصیت تمہارے لیے ایک تازیانہ نہیں
کیونکہ میں دل کھول کر یوں ہنستی ہوں
جیسے میرے گھر میں سونے کی کانیں ہوں۔

تم اپنے الفاط (کی سختی) سے مجھے قتل کر سکتے ہو،
تم اپنی (نفرت بھری) آنکھوں سے مجھے چھلنی کر سکتے ہو،
تم اپنی نفرت سے مجھے مار سکتے ہو،
مگر میں پھر بھی، (مہکتی) ہوا کی طرح اُٹھوں گی۔

کیا میرا ہوش رُبا حُسن تمہیں پریشان کرتا ہے؟
کیا یہ بات تمہارے لیے حیران کُن ہے
کہ میں (اپنی دُھن میں) یوں محوِ رقص ہوں
جیسے میرے جسم پرہیرے جواہرات جڑے ہوں؟

تاریخ کے شرمناک ابواب میں سے
میں اُبھرتی ہوں
دکھ، درد میں گڑے (تکلیف دہ) ماضی کے اندر سے
میں طلوع ہوتی ہوں
میں ٹھاٹھیں مارتا ہُوا ایک وسیع تاریک سمندر ہوں،
جو (اپنی دُھن میں) لہروں کے ہمراہ بہتا چلا جاتا ہے
میں اس سمندر کی ایک ایسی ہی لہر ہوں۔

ڈر اور خوف کی سیاہ راتوں کو پیچھے چھوڑتے ہوئے
میں طلوع ہوں گی،
دن کی اُجلی کرن کی طرح
جو حیرت انگیز طور پر واضح اور روشن ہوتی ہے
میں طلوع ہوں گی
اپنے آباؤاجداد کے دیے ہوئے تحائف کے ہمراہ۔
میں ایک غلام (قوم) کا خواب اور امید ہوں۔
میں طلوع ہوں گی, میں اُٹھوں گی, میں اُبھروں گی۔

Still I Rise
Maya Angelou, 1928 – 2014
You may write me down in history
With your bitter, twisted lies,
You may trod me in the very dirt
But still, like dust, I’ll rise.

Does my sassiness upset you?
Why are you beset with gloom?
‘Cause I walk like I’ve got oil wells
Pumping in my living room.

Just like moons and like suns,
With the certainty of tides,
Just like hopes springing high,
Still I’ll rise.

Did you want to see me broken?
Bowed head and lowered eyes?
Shoulders falling down like teardrops,
Weakened by my soulful cries?

Does my haughtiness offend you?
Don’t you take it awful hard
‘Cause I laugh like I’ve got gold mines
Diggin’ in my own backyard.

You may shoot me with your words,
You may cut me with your eyes,
You may kill me with your hatefulness,
But still, like air, I’ll rise.

Does my sexiness upset you?
Does it come as a surprise
That I dance like I’ve got diamonds
At the meeting of my thighs?

Out of the huts of history’s shame
I rise
Up from a past that’s rooted in pain
I rise
I’m a black ocean, leaping and wide,
Welling and swelling I bear in the tide.

Leaving behind nights of terror and fear
I rise
Into a daybreak that’s wondrously clear
I rise
Bringing the gifts that my ancestors gave,
I am the dream and the hope of the slave.
I rise I rise I rise.

— with Naheed Virk.

بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2152002618363593

جواب چھوڑیں