( غیـر مطبـوعـہ ) اے خدائے زمین و زماں ! زندگی، آ…

( غیـر مطبـوعـہ )

اے خدائے زمین و زماں ! زندگی، آخـری ساعتوں میں ٹھکانے لگے

اب یہ نوحے کی آواز موقوف ہو، اور فــرشتہ کوئی گیت گانے لگے

ماجرےمیں سلیماں کے اجلال پر، مفلسی مرحبا کہہ کے اٹّھے مگر

حسنِ یوسف کا قصّہ سناتے ہوئے، میری بد صورتی مسکرانے لگے

تجھ گلی سے گذرتا ہوا کارواں، جانتا ہو کہ یاں خـــــواب ممنوع ہے

اور سواری پہ بیٹھی ہوئی آنکھ پر، موت پڑنے لگے، نیند آنے لگے

پیڑ پھلنے کے پابند ہوویں جہاں، مکّھیاں شہد ڈھونے پہ مامور ہوں

کار خانے میں خاکی کا مقدور تھا، عشق کرتا ہوا، گیت گانے لگے

حشر کے ماند پڑتے ہوئے روز میں، آفـرینش کی پر شور گھنٹی بجے

تیل کے سرخ جلتے کنویں کے قریں، سبز کونپل کہیں سر اٹھانے لگے

رونے والوں کی مجلس میں یک بارگی، اک بجھائی ہوئی شمع کا ذکر ہو بادشــــــــــــــاہوں کی نیندیں اڑاتی ہوئی، اپنے ماتم کی آواز جانے لگے

اپنے حجرے کی چلمن ہٹاتے ہوئے، اس نے کاری گری کا نظارہ کیا

بیل کولہو کے کُنڈل میں جُـــوتے گئے، آدمی خاک پر ہل چلانے لگے

( احمـد ؔ جہاں گیر )

— with ‎احمد جہاں گیر‎.

جواب چھوڑیں