ساغرؔ صدیقی نظر نظر بیقرار سی ہے، نَفس نَفس پُراس…

ساغرؔ صدیقی

نظر نظر بیقرار سی ہے، نَفس نَفس پُراسرار سا ہے
میں جانتا ہُوں کہ تم نہ آؤ گے، پھر بھی کُچھ اِنتظار سا ہے

مِرے عزیزو! میرے رفیقو! کوئی نئی داستان چھیڑو
غمِ زمانہ کی بات چھوڑو، یہ غم تو اب سازگار سا ہے

وہی فسُردہ سا رنگِ محفل، وہی تِرا ایک عام جلوہ
مِری نِگاہوں میں بار سا تھا، مِری نِگاہوں میں بار سا ہے

کبھی تو آؤ، کبھی تو بیٹھو، کبھی تو دیکھو، کبھی تو پُوچھو !
تمہاری بستی میں، ہم فقیروں کا حال کیوں سوگوار سا ہے

چلو کہ جشنِ بہار دیکھیں، چلو کہ ظرفِ بہار جانچیں
چَمن چَمن روشنی ہُوئی ہے، کلی کلی پہ نِکھار سا ہے

یہ زُلف بردَوش کون آیا، یہ کِس کی آہٹ سے گُل کِھلے ہیں؟
مہک رہی ہے فضائے ہستی، تمام عالَم بہار سا ہے

ساغرؔ صدیقی


جواب چھوڑیں