( غیــر مطبـوعـہ ) مری گفتگو میں ترا ذکر آنا تو ج…

( غیــر مطبـوعـہ )

مری گفتگو میں ترا ذکر آنا تو جیسے کہیں آسماں میں ازل سے لکھا جا چکا ہے

یقین اب میں خود کو دلانے لگا ہوں کہ یہ دوستی کے علاوہ کوئی عشق کا سلسلہ ہے

چراغوں کے بجھنے پہ ماتم کناں اہلِ محفل کو آخر کوئی یہ الَمیہ بتائے تو کیسے

کہ دل بجھ نے کا سانحہ ہے بڑا سانحہ بعد اس کے دروں سے بروں تک اندھیرا گھنا ہے

کہ برسا برس سے پڑے منجمد ذہن پر دفعتاً فکر کی بارشِ آتشیں گر پڑی تو

نگاہوں کے آگے سے گہرے دھندلکے چھٹے ہیں مناظر کے پوشیدہ رازوں سے پردہ ہٹا ہے

لبِِ جُو رواں پانیوں پر نگاہیں جمائے مَیں ہونے نہ ہونے کی فکروں میں الجھا ہوا تھا

اچانک کہیں دور' اللہ اکبر' کی آواز گونجی حقیقت کا در مجھ پہ وا ہو گیا ہے

ہوئیں بند ظاہر کی آنکھیں مِری جب سے اور دل یہ ذی شانؔ ! دیدہ ہوا ہے تو کیا دیکھتا ہوں

زمیں سے فلک تک جو اک راستا سا بچھایا گیا ہے مجھے سب بخوبی نظر آ رہا ہے

( ذی شـان ؔ الٰہی )

— with Zeeshan Ilahi.

جواب چھوڑیں